جناب سراج الحق کی جماعت اسلامی

جناب سراج الحق کی جماعت اسلامی
 جناب سراج الحق کی جماعت اسلامی

  

مَیں نے شعور کی آنکھ کھولی تو میرے آگے پیچھے جماعت اسلامی تھی۔ میرے تایا جان میاں غلام یٰسین قریشی اپنے گاؤں کے امیر تھے، میرے والد بھی ان کے ساتھ ساتھ ہوتے تھے، متفقین میں تو تھے ہی، معلوم نہیں کبھی رکن بن سکے یا نہیں۔جماعت اسلامی کا سارا لٹریچر ہمارے ہاں ڈاک سے آیا کرتا تھا۔ تایا مرحوم اسے پورے خلوص سے لوگوں میں تقسیم کرتے تھے۔ ان کی کوششوں سے جماعت میں پڑھے لکھے لوگوں کی ایک معقول تعداد جمع ہوگئی تھی۔ تایا جان مرحوم کو تسنیم اور ترجمان القرآن با آواز بلند پڑھ کر سنانا میرے فرائض میں شامل تھا۔ یہ وہ دور تھا جب جماعت عملی سیاست میں داخل ہو چکی تھی۔ سید مودودیؒ حیات تھے۔ ان کی قیادت میں جماعت میں ایک وقار تھا۔ تیزی طراری نہیں تھی۔ سید مودودیؒ کی شخصیت کی چھاپ جماعت پر نمایاں نظر آتی تھی۔ جماعت سیاست میں بھی سیاسی لغویات سے دور رہتی تھی۔ سید مودودیؒ ایک عظیم منظم تھے۔انہوں نے جماعت اسلامی اور اس کے کام کو ایسا منظم اور مربوط بنا دیا تھا کہ ایسی تنظیم و ترتیب شاید کمیونسٹ پارٹی میں بھی نہیں تھی۔پوسٹربازی،احتجاج، جلسے جلوس میں کوئی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کی گرد کو نہیں پہنچتی تھی۔ کوئی دینی مسئلہ ہوتا یا کوئی سیاسی مسئلہ، جماعت اس پر ایک خوبصورت کتا بچہ شائع کرتی اور یہ جماعتی تنظیم کے ذریعے مُلک بھر میں پھیل جاتا۔ یہ کتا بچہ مختصر بھی ہوتا تھا، کم قیمت بھی، لیکن اس کے ذریعے جماعتی ارکان کی رائے سازی کا کام بھی خوب لیا جاتاتھا اور جماعت کی آمدن کا بھی ایک ذریعہ تھا۔جماعت اسلامی،اپنی بات کو بار بار دہراؤ کے نفسیاتی حربے سے بھی کام لینا جانتی تھی ، جس مسئلے پر اسے رائے سازی کی ضرورت پیش آتی، اس پر کتا بچے بھی شائع ہوتے تھے۔ جماعت کے اخبارات تسنیم اور ترجمان القرآن میں بھی اس موضوع پر بھرپور اور مدلل مضامین شائع ہوتے تھے۔مَیں جماعت اسلامی کے ’’شوکت اسلام‘‘ کے عظیم الشان مظاہرے سے بھی بے حد متاثر تھا۔

مَیں جماعت اسلامی کی سیاست سے کبھی اتفاق نہیں کرسکا، لیکن جہاں اس کا مقابلہ سو شلسٹوں سے ہوتا، مَیں جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا یا یوں کہہ لیجئے جماعت اسلامی کی آڑ لیتا تھا۔ جماعت اسلامی نے سوشلزم اور سوشلسٹوں کا زبردست پیچھا کیا۔اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ جماعت نے جتنا زور اس پر لگایا، اگر اسی طرح معاشرے میں سوشل جسٹس یا عدل اسلامی کے لئے بھی محنت کی جاتی تو شاید ہمارے معاشرے میں کوئی بہتری آ جاتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری یہ خلش بھی کم ہونے میں نہیں آتی کہ جماعت اسلامی صالحین کی، جس جماعت کو کھڑا کرنے کے بعد پاکستان بنانے کی بات کرتی تھی،پاکستان بن جانے کے باوجود وہ اس جماعت صالحین کو بنانے میں اِس قدر ناکام ہے کہ وہ کسی انتخاب میں معقول حد تک نشستیں بھی حاصل نہیں کرپائی، تو پھر وہ ستر سال بعد بھی پاکستان بنانے میں کیسے کامیاب ہو سکتی تھی اور شاید صالحین کی ایسی جماعت نہ ہونے کے باعث اگلے ستر سال تک بھی قیام پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو پاتا؟ جماعت والے اِس پر کہتے ہیں کہ ہماری بات درست ثابت ہوئی،جماعت صالحین کے بغیر پاکستان قائم کر کے تم نے کیسا پاکستان بنا لیا ہے؟ پہلے جماعت صالحین بن جاتی اور اس کے ہاتھوں پاکستان بنتا تو دیکھتے کیسا صحیح اسلامی پاکستان بنتا؟ شاید ان کی بات ہی درست ہو، لیکن ایسی جماعت صالحین جو جیسے تیسے پاکستان میں قائم نہ ہو سکی،وہ متحدہ ہندوستان میں مزید کئی صدیوں تک قائم ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ بالخصوص آج سراج الحق کی جماعت اسلامی کو دیکھ کر تو بے ساختہ مُنہ سے نکلتا ہے کہ شکر ہے بانیانِ پاکستان نے پہلے جماعت صالحین، پھر پاکستان کے فارمولے کو قبول نہیں کیا، ورنہ پاکستان کا خواب تو پریشان ہو ہی چکا ہوتا، جماعت اسلامی بھی اگر یہی ہوتی، جو سراج الحق کی امارت میں ہے تو پھر گویا لٹیا ہی ڈوب چکی ہوتی۔

جماعت اسلامی سید مودودیؒ کی قیادت میں بہرحال ایک موثرسیاسی قوت کے ساتھ موجود رہی، لیکن وقار اور متانت جماعت اسلامی کا طرۂ امتیاز رہا۔ یہ ایک چیز اسے دوسری سیاسی جماعتوں سے ممتاز بناتی تھی۔ میاں طفیل محمد مرحوم تک یہ صورتِ حال برقرار رہی، لیکن جماعت کے نوجوان عناصر میں یہ خیال پختہ ہونے لگا کہ حد سے بڑھی ہوئی شرافت اور متانت ان کی کمزوری ہے۔ اگر اس روش کو تیاگ دیا جائے تو جماعت سیاسی کامیابیوں سے ہم کنار ہو سکتی ہے، پھر قاضی حسین احمد مرحوم کی قیادت میں جماعت اسلامی کو شرافت کے خول سے باہر نکال لیا گیا۔ اس دور میں جماعت نے نہ صرف اپنی روایت سے انحراف کیا،بلکہ طاقت اور اقتدار کے منابع سے تعلقات استوار کر کے اقتدار تک پہنچنے کی کوشش بھی کی۔ اس سے غیر جمہوری طاقتوں نے فائدہ اُٹھایا، مگر نہ اس سے پاکستان کا کوئی بھلا ہوا،نہ خود جماعت کو کوئی فائدہ ہوا، بلکہ جماعت کو مارشل لأ کی ’’بی ٹیم‘‘کا خطاب مل گیا۔ سید مودودیؒ کے دور میں جماعت اور جماعت سے متاثر صحافیوں نے ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جس سیاسی جدوجہد کی مثال قائم کی تھی، جماعت سے متاثر صحافیوں نے تو اسے کسی نہ کی طرح قائم رکھا، جماعت نے خاک میں ملادیا۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب جماعت کے متعلقین ببانگِ دہل اور فخریہ انداز میں فوج اور اسٹبلشمنٹ سے اپنے گٹھ جوڑ کے قصے سنانے لگ گئے، کیونکہ یہ جماعت کے وہ ابتدائی لوگ نہیں تھے۔ انہیں جماعت کی رکنیت بڑھانے کے لئے نوجوانوں کی نئی نئی تنظیمیں قائم کر کے وہاں سے درآمد کیا گیا تھا۔ ان کے جوش اور ولولے، بلکہ حصول اقتدار کے لئے جلد بازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی سے بھی اتحاد و الحاق کو حلال قرار دے دیا گیا اور بڑی برائی پر چھوٹی برائی کو ترجیح دینے کے اصول یا حدیث کو نہ صرف پسِ پشت ڈالا گیا، بلکہ بلند آواز سے اس کی مخالفت بھی کی۔

یہ دور تھا جب جماعت اسلامی اور اس کے ایک نہایت وضع دار وفادار دانشور اور صحافی محمد صلاح الدین مدیر ’’ تکبیر‘‘ سے اختلافات پیدا ہو گئے۔ پاکستان میں عام طور پر محمد صلاح الدین کے بارے میں تاثر یہ تھا کہ وہ جماعت کے کوئی اعلیٰ ترین رکن ہیں، وہ دوسرے بہت سے صحافیوں کی طرح جماعت کے حامی اور موید تو تھے،رکن کبھی نہیں رہے۔جماعت اور محمد صلاح الدین میں کیا اختلافات تھے؟ یہ ایک طویل بحث ہے اور اس کی تفصیلات یہاں بیان نہیں ہو سکتیں۔محمد صلاح الدین نیو یارک (امریکہ) تشریف لائے تو مَیں نے اُن کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا۔ نیو یارک میں جلسہ گاہ کے اندر گھس کر کچھ کر دکھانے کے مواقع تو نہیں تھے، لیکن جماعت کے متعلقین نے جلسہ گاہ کے باہر جو پمفلٹ تقسیم کئے،اُس میں محمد صلاح الدین کی ذات پر رکیک حملے کئے گئے تھے اور بہت نامناسب زبان استعمال کی گئی تھی، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ انہیں غلیظ گالیوں سے نوازا گیا تھا۔ اسی وقت مجھے یقین ہو گیا کہ جماعت اسلامی اب وہ جماعت اسلامی نہیں رہی جو کبھی تھی۔ یہ ماشاء اللہ اب ایک عام سیاسی جماعت ہے، جس نے شرافت، متانت اور مروت کا لباس چاک کر دیا ہے، اب یہ حصولِ اقتدار کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے اور مخالفت میں بھی اب اس کے لئے کوئی سرحدیں باقی نہیں رہیں۔

مَیں نے جماعت کے اس مختصر پس منظر کو اِس لئے بیان کیا ہے کہ سراج الحق کی جماعت اسلامی کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ جب امارت سراج الحق کے پاس آئی تو مجھے کوئی خوش گمانی نہیں تھی۔ مجھے سراج الحق سے اور اُن کی صلاحیتوں، اُن کی کامیابیوں یا ناکامیوں سے کوئی خاص واقفیت نہیں تھی، لیکن سید مودودیؒ سے لے کر سراج الحق تک جماعت نے تنزل کا جو سفر مسلسل جاری رکھا تھا، وہ مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتا تھا کہ جماعت کی حالت اب بہتری کی طرف جانے والی نہیں رہی، لیکن بہت سے احباب اور میڈیا کے دوستوں کا خیال تھا کہ سراج الحق نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں،وہ جماعت کو اس کی اصل بنیادوں پر نہ بھی کھڑا کر سکے تو کم از کم اُسے ایک معقول سیاسی قوت بنا ڈالیں گے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تقاریر میں عام سیاسی جماعتوں والا لب و لہجہ اختیار کیا تو اسے اُن کا عوامی پن قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اب جماعت، بطور ایک سیاسی جماعت کے بہتر طور پر کام کرے گی۔۔۔’’ کوّا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔۔۔‘‘سیاسی جماعتوں کے اس جنگل میں جماعت اسلامی بھی اسی رنگ کو اختیار کر کے کیا کر سکتی تھی،یہ تو2013ء کے انتخابات میں ہی ظاہر ہو چکا تھا، البتہ چھوٹی برائی کو بڑی برائی پر ترجیح دینے کے جس اصول کو تج دیا گیا تھا، اُس میں یہ اضافہ ہوا کہ اب بڑی برائیوں میں سے سب سے بڑی برائی کو انتخاب کر کے اختیار کرنے کی روش اپنا لی گئی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے امام عمران خان ہیں، وہ کرپشن کا نعرہ لگاتے ہیں تو سراج الحق کرپشن کا ڈھول پیٹنے لگتے ہیں۔ وہ دھاندلی کی بات کرتے ہیں تو سراج الحق دھاندلی کی دہائی دینے لگتے ہیں۔ عمران خان پاناما لیکس کا غرارہ شروع کر دیں تو سراج الحق بھی پاناما لیکس سے کلیاں کرنے لگتے ہیں۔ کوئی مودی کے یار پر تبّرا بھیجے تو سراج الحق فرماتے ہیں: ’’پاکستان کو مودی سے نہیں، مودی کے یاروں سے خطرہ ہے‘‘۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مودی کا یار نواز شریف ہے یا طاہر القادری ،جس نے گجرات میں جا کر مسلمانوں کی جلی ہوئی لاشوں پر کھڑے ہو کر مودی کو خراج عقیدت پیش کیا۔طاہر القادری اس وقت جماعت اسلامی کی اتحادی تحریکِ انصاف کے حامی، موئید اور مطلوب و محبوب ہیں۔جماعت اسلامی جو عملی کام کرتی تھی، کرپشن کے سراغ ڈھونڈ لاتی تھی،دستاویزات پیش کر دیتی تھی اب عمران خان کے ساتھ صرف راگ درباری الاپ رہی ہے۔ تحریک اور جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل جن وزیروں کو عمران خان نے کرپٹ قرار دے کر بیک بینی و دو گوش نکال باہر کیا تھا، جماعت اس پر خاموش رہی۔ عمران خان نے اُنہیں دھو دھا کر دوبارہ وزارتیں بخش دیں تو بھی جماعت کے ماتھے پر کوئی شکن نہ اُبھری، بس پوسٹر بازی کے زور پر کرپشن کے خلاف ایک عجیب و غریب مہم جاری رہی۔ جماعت جو تحریک سے بدرجہا بہتر جماعتوں اور تحریک کے قائد سے بدرجہا بہتر سیاسی قائدین کے ساتھ چند قدم چل کر ہانپنے لگتی ہے۔ تحریک انصاف کے نقوشِ قدم پر سرپٹ دوڑتی چلی جا رہی ہے۔۔۔ ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘۔۔۔۔ اس وقت سراج الحق صاحب کی وہ کیفیت ہے، جیسے عید کی نماز پڑھنے سے بے خبر لوگ جماعت کے ساتھ کھڑے ہو کر اِدھر اُدھر کنکھیوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ دائیں بائیں والے نے تکبیر کے لئے ہاتھ اِٹھائے تو انہوں نے بھی ہاتھ اُٹھا دیئے۔ دائیں بائیں والے رکوع میں گئے تو یہ بھی جلدی سے رکوع میں چلے گئے۔ ان کے ساتھ ہوتا یہ ہے کہ بعض اوقات رکوع میں جاتے جاتے پلٹ جاتے ہیں اور کبھی رکوع کی بجائے سیدھے سجدے میں چلے جاتے ہیں، دوسروں کو بھی تماشا بناتے ہیں۔ کاش مجھے کشف القبور کا عمل آتا اور مَیں اچھرہ جا کر سید مودودیؒ سے ہی دریافت کر سکتا کہ وہ کس کیفیت سے گزر رہے ہیں؟

مزید :

کالم -