ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے اقدامات

ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے اقدامات

  

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے رائیونڈ ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے ناقص انتظامات پر انتظامیہ کی سرزنش کی اور کہا کہ عوام کو طبی سہولتوں کی فراہمی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران مریضوں سے براہ راست بات چیت کی اور علاج معالجے کے بارے میں دریافت کیا۔ ہسپتال کے تمام شعبہ جات میں صفائی کا انتظام، ادویات کی ترسیل اور سرکاری عملے کے مسائل کا بھی جائزہ لیا اور معاملات کی بہتری اور درستی کیلئے ایم ایس کو ہدایات دیں۔ ملک کے دیگر محکموں کی طرح سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی عام لوگوں سے ڈھکی چھپی نہیں، ادویات کی فراہمی، مریضوں سے ڈاکٹروں اور نرسوں کا رویہ، صفائی کے انتظامات کے علاوہ بھی بہت سے معاملات ایسے ہیں جہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔ عام مریضوں سے عملے کے سلوک کی بہت سی عوامی شکایات تو اکثر سننے اور پڑھنے میں آتی رہتی ہیں۔ حکام کی ہدایات کے علاوہ سرکاری ہسپتالوں کے ذمہ داران کا بھی فرض ہے کہ وہ معاملات کو بہتر بنانے کی جانب پیش رفت کریں۔ ہوتا یہ ہے کہ سرکاری حکام ہی صورتحال کی بہتری کیلئے اقدامات کرتے ہیں مگر ہسپتالوں کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے ایسی کوئی مثبت بات سامنے نہیں آتی۔ اگر ہسپتالوں کی مقامی انتظامیہ بھی حسن نیت کے ساتھ اصلاح احوال کیلئے آمادہ ہو جائے تو پھر بہت سے معاملات حل ہوسکتے ہیں۔محکمہ صحت میں بے شمار مسائل ہیں جو تدریجی بہتری چاہتے ہیں، ان گنت معاملات ایسے ہیں جو کسی ایم ایس کی تھوڑی سی توجہ سے سدھر سکتے ہیں۔ متعدد اور مختلف امور ایسے ہیں جنہیں انتظامیہ خود ہی بہتر کرنے کی استطاعت اور طاقت رکھتی ہے۔ اگر سب کچھ حکومت ہی پر چھوڑ دیں تو پھر صورتحال کی بہتری کافی وقت لے گی اور حکومت کو بھی اپنی توجہ ادھر صرف کرنی پڑے گی۔ ظاہر و باہر ہے حکومت کے پاس کرنے کو اور بہت سے کام ہوتے ہیں اور حکام فرداً فرداً ہر معاملے میں اور ہر وقت اپنی صلاحیتیں کسی ایک شعبے اور محکمے پر صرف نہیں کرسکتے۔ حکام کی ذمہ داریوں سے انکار نہیں مگر توجہ ادھر دلانا مقصود ہے کہ بیورو کریسی کی بھی ذمہ داریاں ہیں اور وہ انہی پر عائد ہوتی ہیں۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اصلاح احوال کا آغاز کرنا چاہئے اور اگر ایسا ہو جائے تو پھر بہت سے معاملات نچلی سطح پر ہی حل ہوسکتے ہیں اور عوام کو طبی سہولتوں کی فراہمی میں رعایت اور ریلیف مل سکتا ہے۔

مزید :

اداریہ -