پیپلز پارٹی پنجاب میں مضبوط ہونے کیلئے سرمایہ داروں کو ٹکٹیں نہ دے، سابق سینئر رہنماؤں کا مطا لبہ

پیپلز پارٹی پنجاب میں مضبوط ہونے کیلئے سرمایہ داروں کو ٹکٹیں نہ دے، سابق ...

  

لاہور( شہزاد ملک تصاویر ندیم احمد) پیپلز پارٹی لاہور کے سابق سینئر راہنماؤں زاہد ذوالفقار خان ‘ این اے 120کے ٹکٹ ہولڈر حافظ زبیر کاردار ‘ فضل الرحمن بٹ اور افضل بٹ نے ’’ پاکستان ‘‘ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نو میں کارکنوں کو عہدے دئیے جائیں اور سرمایہ داروں کو ٹکٹیں نہ دی جائیں ایسا کرنے سے ورکر اور ٹکٹ ہولڈر دونوں میں مضبوط رابطہ ہو گا اور تنظیمی عہدیدار خود کو لاوارث نہیں سمجھیں گے یہی فارمولہ اپنانے سے ہم لاہور میں دوبارہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں لاہور کا صدر ایسا ہونا چاہئے جو کہ کارکنوں کو نسل درنسل سے جانتا ہو اور کارکنوں سے ہاتھ ملانے میں بھی ہچکچاہٹ نہ کرتا ہو سرمایہ دار ورکر سے مصافحہ کرنے اس سے رابطہ کرنے میں اپنی توہین سمجھتا ہے جس کی وجہ سے پارٹی کا گراف نیچے آیا ہے نئی تنظیم سازی مکمل کرنے کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو کا مینار پاکستان پر ایک جلسہ ہونا چاہئے تاکہ ان کی پنجاب میں ایک بہترین انٹری ہو سکے۔زاہدذوالفقار خان نے کہا کہ تنظیم سرمایہ دار کے بجائے پارٹی کارکن کے حوالے کی جائے تاکہ وہ خود کو پارٹی کا حصہ سمجھے پیپلز پارٹی کی تنظیم ہر گلی محلے کی سطح پر پہلے ہی موجود ہے لیکن ورکر اور لیڈر شپ کے مابین جو خلاء ہے اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔پھر 2018کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جیت یقینی ہے چالیس سالوں سے پیپلز پارٹی کے لئے ورکرز قربانیاں دے رہے ہیں اس دوران پیپلز پارٹی کی کئی مرتبہ حکومتیں بھی بنیں لیکن ان ورکرز کے لئے قیادت نے کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے ان ورکرز کے بچوں کی نہ تو شادیاں ہو سکیں اور نہ ہی ان کے بچوں کو نوکریاں مل سکیں ابھی بھی جب ہماری حکومت تھی تو اس وقت بھی (ن) لیگ کے ورکرز کے تو کام ہوتے رہے لیکن اپنے ورکرز کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے ورکرز میں بد دلی پھیل گئی ۔حافظ زبیر کاردار نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کے حلقہ انتخاب 120سے ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اس دوران مجھے (ن) لیگ کی طرف سے آفرز کی گئیں کہ میں ان کے حق میں دستبردار ہو جاؤں لیکن میں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے اب تین سالوں میں میرے خلاف اتنی انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ میرے خلاف یہ درخواستیں وزیراعلی پنجاب کی کھلی کچہری میں لکھوائی جاتی ہیں اور بعد میں انہیں گمنام درخواست کا درجہ دے دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ زاہد زوالفقار خان کو لاہور کا جنرل سیکرٹری بنایا جائے اور ثمینہ خالد گھرکی کو ہی دوبارہ صدر بنایا جائے ۔فضل الرحمن بٹ نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کو تنظیم نو کی کمیٹی میں شامل کرنے کا قیادت کا فیصلہ درست نہیں ہے وہ تو پارٹی کو تباہ کرنے اور جیالوں کو نقصان پہنچانے کے ذمے دار ہیں اگر وہ اپنے وزارت عظمیٰ کے وقت (ن) لیگ کو نوازنے کی بجائے جیالوں کے کام کرتے تو آج ورکرز میں مایوسی نہ ہوتی آرگنائزنگ کمیٹی میں نوید چودھری‘ثمینہ گھرکی اور اسلم گل جیسے سابق صدور کی شرکت ضروری تھی جو کہ ہر گلی محلے میں بسنے والے ورکرز کو جانتے ہیں لاہور کا جنرل سیکرٹری زاہد ذوالفقار خان کو بنانا چاہئے اور چیئرمین کو خود ورکرز سے رائے لیکر نئی تنظیم سازی کرنی چاہئے۔افضل بٹ نے بھی مطالبہ کیا کہ لاہور کا جنرل سیکرٹری زاہد زوالفقار خان کو ہی بنایا جائے اور پی پی 139کے زون کا صدر بھی زبیر کاردار کو ہی رہنے دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میرا حلقہ تو وزیراعظم کا ہے لیکن یہاں پر نہ تو پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی یہاں پر سیوریج کا نظام درست ہے ہر وقت گٹر ابلتے رہتے ہیں ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -