دنیا بدل رہی وزارت خارجہ کے’’بابے‘‘بھی بدلے جائیں

دنیا بدل رہی وزارت خارجہ کے’’بابے‘‘بھی بدلے جائیں
دنیا بدل رہی وزارت خارجہ کے’’بابے‘‘بھی بدلے جائیں

  

تحریر:اظہر تھراج......

سیاست مقامی ہو،ملکی ہو یا عالمی ہو ،اس میں کامیاب وہی ہوتا ہے جو بہترین پراپیگنڈے،اعصابی جنگ لڑنے کا ماہر ہو،اچھا پراپیگنڈا بھی وہی شخص کرسکتا ہے جو اچھی شخصیت کامالک ہو،جو اپنی زبان،آنکھ ،کان،دل اور دماغ اچھے انداز میں چلا سکتا ہو،اس وقت عالمی سطح پران اعضاء کا سرد جنگ کیلئے خوب استعمال کیا جارہا ہے،ترکی سے لے کر روس،امریکہ سے چین،پاکستان سے سعودی عرب،آسٹریلیا سے ایران ،بھارت سے ویت نام تک سفارتی جنگ دیکھنے کو ملتی ہے،اوباما، شی چن پنگ کو جنوبی چینی سمندرکوچھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے اور ساتھ ہی بھارت کو سمندری جنگ کیلئے سازوسامان فراہم کرنے کی بات کرتا ہے،ایرانی سعودی شاہوں کے خلاف اٹھنے کی بات کرتے ہیں توسعودی مفتیوں کی طرف سے ایرانیوں کو ’’کافر‘‘قرار دے دیا جاتا ہے،آسٹریلیا کہتا ہے کہ میں چین کا راستہ روکوں گا آؤ یورپ والو میرا ساتھ دو۔۔۔ویت نام کو ایشیاء کا ٹائیگر بنانے کی بات کی جاتی ہے،بھارت پاکستان کے خلاف الزامات کی بارش کررہا ہے تو پاکستانی توپیں دفاع کیلئے گولے پھینکتی نظر آتی ہیں۔

اس وقت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کھل کر پاکستان اور چین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں،ایسا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے جس سے پاکستان کا نقصان اور بھارت کا فائدہ ہوتا دکھائی دیتا ہو، ایسے ایسے ممالک تک رسائی حاصل کی ہے جو بھارتی بنیوں کے وہم وگمان میں نہیں ہونگے،مودی جس کے وزیراعظم بننے سے پہلے امریکہ میں انٹری بین تھی وہی مودی امریکہ صدر سے آٹھ نو بار مل چکا ہے،بھارتی وزیراعظم ایک توسیع پسندانہ منصوبے کے تحت اپنے ملک کو ایشیا ء کا چودھری بنا کر پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے ہیں،چند دن پہلے چین میں گروپ 20کے ممالک کے اجلاس کے فوری بعد اوباما اور مودی کے درمیان وینٹیانے میں رازو نیاز کی باتیں ہوئی ہیں۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ امریکی صدر اوبامہ نے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ میں شمولیت کیلئے مودی کو  یقین دہانی کروائی ہے،گزشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی دہلی یاترا پر آئے اور ان کو بھارتیوں نے رام کرنے ،سی پیک منصوبے کو متنازعہ بنانے اور پاکستان کو دہشت گرد ظاہر کرنے کی خوب کوشش کی گئی۔

جغرافیائی لحاظ سے چین اور بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی سینٹرل ایشیا تک رسائی کے درمیان پاکستان اور ایران حائل ہیں،کچھ کچھ حصہ افغانستان کا بھی ہے تینوں مسلمان ممالک سیاسی ،جغرافیائی اہمیت کے حامل ہیں۔پاکستان کی بندرگاہ گوادر اور ایرانی چاہ بہار دونوں ہرمز ریجن کے ماتھے پر واقع ہیں،دنیا کا دو تہائی حصہ تیل کا یہا ں سے گزرتا ہے یعنی روزانہ 17بلین بیرل خام تیل کی رسد اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے ۔یہ دونوں بندرگاہیں مکمل آپریشنل ہونے پر بین الاقوامی معیشت کا حب ثابت ہونگی۔یہ بحر ہند تک پہنچنے کا ذریعہ ثابت ہونگی اور یہاں سے دنیا کے ستر فیصد پٹرولیم مصنوعات کی نقل وحمل ہوسکے گی۔سالانہ ایک لاکھ جہاز یہاں سے گزریں گے۔

بھارت نے جب دیکھا کہ چین براستہ پاکستان گوادر پر سرمایہ کاری کررہا ہے تو وہ بھی اس میدان میں کود پڑا حالانکہ اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ چینی معیشت کا مقابلہ کرسکے۔بھارت نے 2003ء میں چاہ بہار بندرگاہ کا ٹھیکہ لیا،طویل عرصے تک وہ اس پر کام ہی نہیں شروع کرسکا۔کافی انتظار کے بعد مئی 2015ء میں بھارت اور ایران کے مابین ایک میمورنڈم پر دستخط کیے گئے کہ اسے 2016ء تک مکمل کرلیا جائیگا۔اس معاہدے کے تحت بھارت 85.21ملین ڈالر اس منصوبے پر خرچ کرے گا۔اب دونوں ایران بھارت اس منصوبے کو توسیع دے کروسطی ایشیا تک پھیلانے کا منصوبہ لیکر میدان عمل میں اتر چکے ہیں۔بھارت نے 2009ء میں سو ملین ڈالر کی سڑک دیلا رام سے زرنج تک تعمیر کی اور اب اسے توسیع دے کر سات سو کلومیٹر پر مشتمل سڑک تعمیر کرے گا جو بھارت کو افغانستان کے صوبے نمروز سے چاہ بہار تک پہنچائے گی۔اس طرح بھارت کا بھی وسطی ایشیا تک پہنچنے کا خواب پورا ہوجائیگا۔بھارتی اقتصادی کھیل کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ اور پیسہ ہے جو براہ راست تو ایران میں انویسٹ نہیں کرسکتا لیکن بھارت کے ذریعے کرسکتا ہے،امریکہ پاک چین اقتصادی راہداری کو روکنا چاہتا ہے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے گوادر بندرگاہ کا ٹھیکہ امریکہ کے بجائے چین کو دیا،اس کے برعکس امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے سی پیک منصوبہ پاکستان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

براعظم ایشیاء اور بحرالکاہل کے نقطہ اتصال پر چار طاقتیں پہلے ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھیں اور اب ایک پانچویں طاقت کے بھی اس خطے میں کودنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے بعد یہ خدشات زور پکڑ گئے ہیں کہ یہ خطہ اگلی عالمی جنگ کا میدان بننے والا ہے، جسے جنگ عظیم سوئم اور عالمی ایٹمی جنگ کا نام بھی دیا جارہا ہے۔، امریکی پیسفک کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری ہیرس نے خبردار کیا ہے کہ اب داعش کا خطرہ بھی ایشیاء پیسفک کے خطے کی جانب بڑھ رہا ہے، بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے حملوں، انڈونیشیاء میں گرجا گھروں پر ہونے والے حملے اور فلپائن کے بازاروں میں پھٹنے والے بم اس خطرے کی گھنٹی بجارہے ہیں۔ داعش کی جانب سے بھی حالیہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا اس کا اگلا ہدف ہے، جبکہ آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بال بھی اس خطرے کی تصدیق کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ داعش جنوب مشرقی ایشیا میں قدم جمانا چاہتی ہے جو کہ صرف آسٹریلیا نہیں بلکہ پورے خطے کے لئے بڑا خطرہ ہوگا،بحیرہ جنوبی چین کے تنازعے میں امریکہ اور چین پہلے ہی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ شمالی کوریا آئے روز امریکہ اور جنوبی کوریا کو ایٹمی حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ روس بھی اس خطے میں پوری طرح سرگرم ہے،دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دنیا ایک بار پھر عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے،ایسی صورتحال میں پاکستان بھی متاثر ہوگا۔

بھارت نے دوستوں میں اضافہ کیا ہے ادھر پاکستان نے دشمنوں کی صف طویل کی ہے،بھارتی وزیر اعظم اور اس کی ٹیم خود میدان میں ہے جس کا صرف اور صرف فوکس پاکستان دشمنی اور اپنی معیشت کا فروغ ہے،پاکستان کے پاس سوائے بیماروں اور بزگوں کی خارجہ ٹیم کے سوا کچھ نہیں،کسی کا دل خراب ہے تو کسی کا دماغ کام نہیں کرتا،بیماروں سے ہسپتالوں کے بل بڑھتے ہیں ملک نہیں چلائے جاتے ،ہم کشمیر لینے بات کرتے ہیں،پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بنانے کی بھی بات کرتے ہیں لیکن اعصاب کی عالمی جنگ میں مضبوط اعصاب مالک افراد کو اتارنے کی ضرورت ہے جن کے پاس بھی اور بات کرنے،بات منوانے کی صلاحیت بھی،’’پاکستان ناکام ریاست ہے اور نہ ہی دہشتگردی کا ذمہ دار ‘‘اس بات کو ثابت کرنے کیلئے دنیا کو بتانے والی زبان دکھانے والی آنکھوں کی ضرورت ہے۔

اظہر تھراج مقامی صحافی ہیں ، آپ ان سے azharthiraj@yahoo.com پر رابطہ کر سکتے ہیں ۔

مزید :

بلاگ -