تحریک لبیک یا رسول ؐ و فدایان ختم نبوت کے زیر اہتمام عشرہ ختم نبوت کا مرکزی پروگرام

تحریک لبیک یا رسول ؐ و فدایان ختم نبوت کے زیر اہتمام عشرہ ختم نبوت کا مرکزی ...

  

لاہور (اپنے خبر نگار سے) تحریک لبیک یا رسول ؐ و فدایان ختم نبوت کے زیر اہتمام عشرہ ختم نبوت کا مرکزی پروگرام تاجدارِ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد عثمانیہ داروغہ والا لاہور میں منعقد ہوئی جس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ ہمارے اکابر بزرگوں اور اسلاف نے انگریز کے خود کاشتہ پودے کو جڑ سے اُکھیڑنے کیلئے جو جدوجہد اور محنتیں کیں اس میں 90 سال بیت گئے تب جا کر 7 ستمبر 1974 ؁ء کو قادیانی غیر مسلم قرار پائے چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان بننے کے فوراً بعد قادیانی کی ذریت کو کافر و مرتد قرار دیا جاتا لیکن ان کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں ہمارے بزرگوں کو سزائے موت سنائی گئی اور ختم نبوت کی آواز اٹھانے والے غلامانِ مصطفی کو ہزاروں کی تعداد میں شہید کیا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں قیدوبند کی صعوبتیں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر جسٹس منیر انکوائری رپورٹ شاہد و عادل ہے اس تحریک کو بڑے ظالمانہ انداز سے تباہ کیا گیا1974 ؁ء میں قادیانیوں کی دوبارہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے نتیجہ میں چلنے والی تحریک بارآور ثابت ہوئی اور قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔

آج پھر قادیانیوں کے حامی سیکولر دین دشمن عناصر اور مسلمانوں کے اندر چھپے ہوئے قادیانی پھر پَر پُرزے نکال رہے ہیں۔ اور یہ سارے سن لیں کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی امت مقابلہ کرنا بھی جانتی ہے اور پہرہ دینا بھی جانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران بھی سن لیں کہ اُن کی اولین ذمہ داری اسلام کی حفاظت اور ناموس رسالت پر پہرہ دینا ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور نبھائیں ورنہ دنیاو آخرت میں ذلیل و خوار اور شرمندہ ہوں گے۔ شیخ الحدیث امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی صاحب نے کہا کہ تاجدارِ ختم نبوت کا اجتماع وقت کے حکمرانوں کو بتاتا ہے کہ پاکستان خالصتاً دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا تھا اور ستمبر میں ہمارے فوجیوں نے اسی نظریہ کے تحت اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے اور آج بھی اس ملک کے شہداء کے ورثاء زندہ ہیں اور یکم اکتوبر 2016 ؁ء کو مینار پاکستان میں تجدید عہدِ وفا کرتے ہوئے مسلمانانِ اہلسنت ثابت کریں گے کہ پاکستان کو بنانے والوں کے وارث زندہ ہیں جو کسی صورت میں بھی پاکستان میں دو قومی نظریہ کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔ کانفرنس میں علماء و مشائخ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -