ہونہار طالبعلموں کے اعزاز میں پر وقار تقریب

ہونہار طالبعلموں کے اعزاز میں پر وقار تقریب
 ہونہار طالبعلموں کے اعزاز میں پر وقار تقریب

  


جب میں طالبعلم تھا تو انگریزی کا دور تھا۔ میرے والدین نے بھی مجھے بڑے اہتمام سے ایک انگریزی میڈیم سکول میں داخل کروایاتھا۔ انگریزی ترقی کی زبان تھی۔ یہ مانا جاتا تھا اور اب بھی مانا جاتا ہے کہ انگریزی ترقی کی زبان ہے۔ ترقی کرنی ہے تو انگریزی سیکھنی پڑے گی۔ انگریزی نہیں آتی تو آپ جاہل ہیں۔ انگریزی کو علم کی زبان کا درجہ حاصل تھا۔

لیکن اب پاکستان بدل رہا ہے۔ آہستہ آہستہ خاموشی سے چینی زبان انگریزی کی جگہ لے رہی ہے۔ جو لوگ پہلے انگریزی کو ترقی کی زبان کہتے تھے وہ اب چینی زبان کی اہمیت کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔ اس ضمن میں گزشتہ روز ایک پر وقار تقریب میں شرکت کا موقع ملا ۔ جس میں حکومت پنجاب 130 بچوں کو چینی زبان سیکھنے کے لئے چین بھیج رہی ہے۔ یہ صرف پنجاب کے بچے نہیں ہیں بلکہ پورے پاکستان سے میرٹ پر منتخب کئے گئے ہیں۔ اور یہ چینی زبان پر مکمل عبور حاصل کرنے کے لئے چین کی سب سے بڑی لینگوئج یونیورسٹی میں جا رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی 60 بچے چینی زبان سیکھنے بیجنگ کی اس یونیورسٹی جا چکے ہیں۔

یہ کون بچے ہیں۔ یہ پڑھے لکھے اور مختلف شعبہ جات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے بچے ہیں۔ جنہوں نے اپنے اپنے شعبہ جات میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔ اب حکومت پنجاب انہیں ایک سکالرشپ پروگرام کے تحت چینی زبان پر مکمل عبور حاصل کرنے کے لئے چین بھجوا رہی ہے۔ جب ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب ان بچوں کو الوداع کہہ رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ اتنے بچے جو چین بھیجے جا رہے ہیں ۔ کیوں نہیں پیسوں کی بچت کی جا رہی اور ان کو پاکستان میں یہاں چینی زبان سکھائی جا تی۔ پاکستان میں بھی تو چینی زبان سکھانے کے بے پناہ سنٹر کھل گئے ہیں۔ ہر کالج یونیورسٹی میں چینی زبان سکھائی جا رہی ہے۔ پھر ان کو صرف چینی زبان سکھانے کے لئے چین کیوں بھیجا جا رہا ہے۔

لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنی تقریر میں اس سوال کا جواب میرے پوچھنے سے پہلے ہی دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم انکو چین اس لئے بھی بھیج رہے ہیں کہ یہ چینی زبان کے ساتھ چین کا کلچر اور ثقافت بھی سمجھ لیں تا کہ مستقبل میں جب پاک چین اقتصادی راہداری ایک مکمل حقیقت کے طور پر سامنے آئے تو مختلف شعبہ جات کے یہ ہونہار طالبعلم اپنے اپنے شعبہ جات میں پاک چین اقتصادی راہدری کے مضبوط پل کا کام کریں ۔ یہ پاکستان اور چین کے درمیان وہ مضبوط پل ہونگے جو چین اور پاکستان کو جوڑیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک نہایت ہی بہترین پروگرام ہے۔ اس پروگرام کے تحت پانچ سو ذہین اور ہونہار طالبعلموں کو چین بھیجا جا رہا ہے۔ اور ان کا تعلق صرف پنجاب سے نہیں بلکہ پورے پاکستان سے ہے۔ البتہ اس پروگرام کے تمام اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرر ہی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ پروگرا م آگے چل کر بڑھے گا اور اس تعداد کو بھی پانچ سو سے بڑھا یا جا ئے گا۔

اسی تقریب میں پاکستان کے تیس مزید ہونہار طالبعلم بھی موجود تھے جو ہمارا حقیقی معنوں میں فخر ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جنہیں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں نے پی ایچ ڈی میں داخلہ دیا ہے۔ ان ہونہار بچوں کی پی ایچ ڈی کے بھی تمام اخراجات حکومت پنجاب برداشت کر رہی ہے۔ لیکن اس پروگرام کی دو بڑی خصوصیات ہیں ۔ جو قابل دید ہیں۔ پہلی یہ کہ جس طالبعلم نے اس پروگرام کے تحت سکالر شپ حاصل کرنا ہے اسے دنیاکی پچاس بہترین یونیورسٹیوں میں سے کسی ایک میں میرٹ پر داخلہ ملے۔ اور دوسرا داخلہ حاصل کرنے والے طالبعلم کا تعلق کم آمدنی والے گھرانے سے ہو۔ اس ضمن میں جن تیس بچوں کو اس سال یہ سکالر شپ دیا گیا ہے ان سب کا تعلق کم آمدنی والے گھرانے سے ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والے ایک طالبعلم نے نہا یت فخر سے حاضرین کو بتا یا کہ اس کے والد جہلم کے ڈی سی او آفس میں ایک جونیئر کلرک ہیں۔ ماسٹرز تک اس نے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر تعلیم حاصل کی ہے۔ کیونکہ اس کے والد اس کے تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر سکتا ہے۔ لیکن جب اس کو حکومت پنجاب کے اس پروگرام کا علم ہوا تو اس نے پی ایچ ڈی کے لئے کیمبرج یونیورسٹی سے رابطہ کیا۔ اس کا تعلیمی ریکارڈ اور ریسرچ دیکھ کر انہوں نے اسے داخلہ دے دیا۔ جس کے بعد اس نے حکومت پنجاب کو اس سکیم کے تحت سکالر شپ کے لئے درخواست دی جو فورا منظور ہو گئی۔ ان تیس طالبعلموں میں لڑکیوں کی بھی کافی تعداد ہے۔ اٹک کی ایک لڑکی کو جرمنی کی یونیورسٹی میں داخلہ ملا ہے۔بس دعا یہی ہے کہ یہ بچے اپنی اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر کے ملک واپس آکر ملک کی خدمت کریں۔ وہاں نہ رہ جائیں۔

پنجاب میں ہونہار طالبعلموں کو وظائف دینے کے لئے 2009 میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب انڈونمنٹ فنڈ قائم کیا تھا۔ جس میں ہر سال پیسے ڈالے جا رہے ہیں ۔ اور اب تک اس فنڈ میں سترہ ارب روپے جمع ہو چکے ہیں۔ جس سے اس سال دو لاکھ بچوں کو سکالر شپ دیے گئے ہیں۔ حکومت پنجاب اس فنڈ میں ہر سال دو ارب ڈال رہی ہے۔ یقیناًان کو اخراجات نہیں بلکہ سرمایہ کا ری کہا جائے گا۔ حکومت پنجاب یہ پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہی ہے جو کسی بھی طرح ضائع نہیں ہو گی۔ بلکہ یہ سرمایہ کاری ملک کی ترقی میں مدد دے گی۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے۔ جس میں عوام کی حکومت عوام کے لئے بنائی جاتی ہے۔

زورِقلم

مزید : کالم