عمران کے ساتھ ہینڈ ہو گیا

عمران کے ساتھ ہینڈ ہو گیا
 عمران کے ساتھ ہینڈ ہو گیا

  


2014ء میں پی ٹی آئی کا دھرنا پیپلزپارٹی نے ساتھ نہ دے کر ناکام کروایا تھا، 2016ء میں ساتھ دے کر کروائے گی !

یہی نہیں،بلکہ پانامہ لیکس پر پی ٹی آئی کی عوامی رابطہ مہم میں لوگوں کی عدم دلچسپی دیکھ کر پیپلز پارٹی بلاول بھٹوکو اس ایشو پر ایسی مہم پر نہ نکالنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے ۔

اس سے قبل اعتزاز احسن نے پانامہ لیکس کی بھاری گٹھڑی اپنے سر رکھوانے کے لئے عمران خان جیسے ’شیں جوان ‘کو مد دکے لئے بلایا اور جونہی وہ مدد کے لئے آگے بڑھے تو پیپلز پارٹی نے پوری گٹھڑی ان کے سر پر پھینک دی ، اب اعتزاز اور خورشید شاہ عمران کے ساتھ بھی چل رہے ہیں اور تسلی بھی دے رہے ہیں بس بائیں ہاتھ مڑتے ہی وہ مقام آ جائے گا جہاں گٹھڑی اتارنی ہے، جبکہ عمران خان گٹھڑی کے بوجھ سے ادھ موئے ہوئے جا رہے ہیں اور راستے میں آنے والوں کو للکارتے جا رہے ہیں!

اس سے بھی بڑھ کر عمران کی بدقسمتی کیا ہوگی کہ پانامہ لیکس میں نام توبے نظیر بھٹو اور رحمٰن ملک کا آیا ہے اور حکومت نے ریفرنس عمران خان کے خلاف دائر کردیا ہے ، اسی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کس چابکدستی سے اپنے گلے کا طوق اتار کر عمران خان کے گلے میں ڈال دیا ہے !

کراچی میں الطاف حسین سیاست سے مائنس ہوئے تو عمران خان جھٹ سے پاکستان زندہ باد مارچ کرنے پی ایس 127میں پہنچ گئے ، موصوف ساری رات تقریر فرماتے رہے اور پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو سے ایک بھی تقریر کروائے بغیر اگلی صبح الطاف حسین کی سپیس کو اپنے نام کرلیا!

2008ء سے 2013ء تک کے عرصے میں پی ٹی آئی نے نون لیگ کے ساتھ مل کر آصف زرداری کی پان پت کی تھی ، آج پی ٹی آئی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر نواز شریف کی پان پت کر رہی ہے۔۔۔پی ٹی آئی کیا کر رہی ہے؟؟؟

پی ٹی آئی اپنے تئیں عوام کو باور کرانا چاہتی ہے کہ عمران خان کے سوا پاکستان کا ہر سیاسی لیڈر کرپٹ ہے۔ پی ٹی آئی کی عوام کے لئے اس فخریہ پیشکش کے خلاف ایک خاموش محاذ بن گیا ہے اور مسلم لیگ (ن) نے ہاتھی جیسا جثہ رکھنے کے باوجود چیونٹی جیسی حیثیت کی پی ٹی آئی کے سربراہ کے خلاف ریفرنس دائر کردیا ہے تاکہ ان کی شخصیت کو ایکسپوز کیا جائے اور سادہ لوح عوام ان کے چکر میں آکر ان کو ووٹ نہ دے بیٹھیں۔مسلم لیگ (ن) عمران سے بڑھ کر شور مچارہی ہے، کیونکہ اگر اسے 2018ء کے بعد بھی اقتدار میں رہنا ہے تو کمزور سے کمزور سیاسی دشمن کو بھی کھلا چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتی ہے ۔ اسے خطرہ ہے کہ اگرا یسا کیا گیا کہیں ایسا نہ ہو کہ 30اکتوبر 2011ء اور 14 اگست 2014ء کی طرح دوبارہ سے فرشتے ان کے جلسوں کو متاثر کن بنا دیں!

یار لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی ٹکراؤ کی پالیسی سے فوج حرکت میں آسکتی ہے ، خاص طور پر جب طاہرالقادری بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا شریف فیملی کی شوگر مل میں کام کرنے والے بھارتی انجینئروں سے جوڑنے کے لئے سرگرم ہو چکے ہیں اور بلاول بھٹو بھی انہیں مودی کا یار قرار دینے کا پراپیگنڈہ دوبارہ سے چلا سکتے ہیں۔ بلاشبہ اگر کسی سیاسی لیڈر کو مُلک کے لئے سیکیورٹی رسک قرار دے دیا جائے تو فوج کے حرکت میں آنے کا جواز پیدا ہو جاتا ہے، لیکن عمران خان تو نواز شریف کو کرپٹ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور کرپشن کسی بھی طرح فوجی مداخلت کا جواز قرار نہیں دی جا سکتی ہے کیونکہ کسی بھی نئے جنرل مشرف کا اقتدار میں آنا،ملک سے کرپشن کے خاتمے کی ضمانت نہیں ہو سکتا۔یہ الگ بات کہ پی ٹی آئی کو ٹی وی اینکروں اور فوج پر جتنا اعتمادہے اتنا عوام پر نہیں ہے اور جہاں تک ٹی وی اینکروں کا تعلق ہے تو ا ن کے بارے میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ہوتے تو ان کے لئے بھی گڈگورننس کی مثال قائم کرنا مشکل ہو جاتاکیونکہ ٹی وی اینکروں کی کل دانش حکومت وقت کے ہر کام کو غلط ثابت کے سوا کچھ نہیں !

دوسری جانب پیپلز پارٹی محض دکھاوے کے لئے کہتی رہے گی کہ بس بلاول بھٹو بھی نوا زشریف کے خلاف میدان میں کودنے والا ہے تاکہ عمران کے حامیوں کو تاثر رہے کہ بہت جلد پیپلز پارٹی کی سپورٹ سے عمران خان مضبوط ہو جائے گا، لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ پیپلز پارٹی کیسے افورڈ کر سکتی ہے کہ عمران خان کی قیادت میں نواز شریف کو اقتدار سے باہر کردیا جائے ، ایسی کوئی بھی حرکت پیپلز پارٹی کے لئے سیاسی موت سے کم نہیں ہوگی اور آصف علی زرداری کتنے ہی پاگل پن کے سرٹیفکیٹ عدالت میں کیوں نہ جمع کروائیں ، کبھی بھی اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہیں ماریں گے۔

ایسی صورت حال میں اول تو عمران خان کے اقتدار میں آنے کے چانسز معدوم پڑ گئے ہیں ۔ وہ چار حلقوں، چار سوالوں اور چار شادیوں کے چکر سے نکل نہیں پا رہے ہیں۔۔۔اور اگر وہ اقتدار میں آئے بھی تو انہیں ایک مخلوط حکومت کی سربراہی ہی مل سکتی ہے، جو کسی صورت عمران خان کے خود پسندی کے مزاج سے میل نہیں کھاتی ۔

جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو لگتا ہے وہ ذہنی طور پر تیار ہو چکی ہے کہ اگر شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی تصویر کے بغیر الیکشن لڑا جا سکتا ہے تو آصف علی زرداری کے بغیر پارٹی بھی چلائی جا سکتی ہے ۔

مزید : کالم


loading...