مسائل حل کرنے کے بجائے تمام ادارے ملبہ ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیں :چیف جسٹس

مسائل حل کرنے کے بجائے تمام ادارے ملبہ ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیں :چیف جسٹس

کراچی (این این آئی) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ مسائل حل کرنے کے بجائے تمام ادارے ملبہ ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیں اور بھگتنا عوام کو پڑتا ہے۔ سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری کو حکومت سندھ کی جانب سے ایس تھری ،ملیر اور لیاری ندی کا پانی سمندر میں چھوڑنے سے متعلق مختص کردہ فنڈز کی سمری پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔جمعہ کو ماحولیاتی اور سمندری آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی زیرصدارت ہوئی۔چیف سیکرٹری سندھ،وفاقی وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی و ترقیات کے نمائندے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدالت عظمی میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور نکاسی آب کے منصوبے ایس تھری میں ٹال مٹول پربرہمی کا اظہار کیا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ماحولیاتی اور سمندری آلودگی کا معاملہ 24 سال سے زیر التوا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومت پنگ پانگ کھیل رہی ہیں، مفاد عامہ کے مسائل بھی حل نہیں کیے جاتے اور تمام ادارے ایک دوسرے پر ملبہ ڈال دیتے ہیں جب کہ بھگتنا عوام کو پڑتا ہے۔سماعت کے دوران چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ ایس تھری منصوبے کو ری ڈیزائن کر کے وفاق کو جون میں بھیجا گیا، معاملہ متعلقہ کمیٹی کی منظوری کے بعد ایک ماہ میں وزیر اعظم کو بھجوایا جائے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 24 سال سے معاملہ صرف کاغذوں پر ہے اور شہری گندا پانی پینے پرمجبور ہیں جب کہ کراچی کے اکثرعلاقوں میں سیوریج کا ملا ہوا پانی ملتا ہے۔سماعت کے موقع پر وفاقی سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات کی عدم پیشی پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وجہ طلب کی جس پر نمائندہ وزارت خزانہ نے موقف اپنایا کہ سیکریٹری کابینہ اجلاس کے باعث مصروف تھے جس کے باعث وہ آج پیش نہ ہوسکے ۔عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے انکے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرکے ایس پی اسلام آباد کوگرفتاری کا حکم دیں گے تو دیکھتے ہیں پھر کیسے پیش نہیں ہوتے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری خزانہ کو آگا ہ کردیا تھا کہ عدالت نے طلب کیا ہے۔سپریم کورٹ نے تمام سرکاری اداروں کو خبردار کرتے ہوئے حکم دیا کہ عدالتی احکامات پرعملدرآمد کریں ورنہ نتائج کیلئے تیاررہیں۔دوران سماعت چیف سیکریٹری نے سمندر میں آلودہ پانی چھوڑنے سے متعلق دو وفاقی اسکیموں پر توجہ مبذول کرواتے ہوئے موقف اپنایا کے یہ اسکیمیں وفاقی فنڈز نہ ملنے کے باعث تعطل کا شکار ہیں، عدالت نے فنڈز نہ ملنے کی وجہ طلب کی، جس پر چیف سیکریٹری سندھ نے موقف اختیار کیا کے اس سے متعلق وفاق ہی بہتر بتا سکتا ہے حکومت سندھ اپنے فنڈز دینے کو تیار ہیں ۔اس موقع پر عدالت نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی مہم اہم معاملہ ہے صوبائی اور وفاقی حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔سپریم کورٹ نے وفاقی اورصوبائی حکومت کو فوری طور پر منصوبے کو مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ اول


loading...