پاکستان سے تعلقات مضبوط مگر چیلنج بھی موجودہیں، امریکہ

پاکستان سے تعلقات مضبوط مگر چیلنج بھی موجودہیں، امریکہ

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ نے ایک بار پھر اپنا یہ موقف دہرایا ہے کہ اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت مضبوط ہیں اور وہ کسی لحاظ سے کم سطح پر نہیں ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ میں نائب ترجمان مارک ٹونر کی گزشتہ روز معمول کی پریس بریفنگ میں مسلسل تیسرے دن پاکستان زیر بحث آیا جب انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ تبصرہ کیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان تعلقات کو چیلنجز کا سامنا نہیں ہے۔ چیلنجز کا سبب بننے والے مسائل میں انسداد دہشت گردی بھی شامل ہے جس کیلئے ہمارا پاکستان سے قریبی رابطہ قائم ہے۔ ترجمان سے پوچھا گیا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری خطے کے دورے میں بنگلہ دیش اور بھارت گئے لیکن پاکستان نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے تعلق کا تقابلی جائزہ مناسب نہیں ہے امریکی وزیر خارجہ پاکستان بھی جاتے رہے ہیں۔ امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس کے ساتھ اس کے انتہائی مضبوط تعلقات ہیں۔ اسی طرح ہم پاکستان سے بھی مضبوط تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں جو دونوں ملکوں کے علاوہ خطے کے بہترین مفاد میں ہیں۔ امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی نے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان پر پابندیاں لگانے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے جن میں حقانی نیٹ ورک، جیش محمد اور لشکر طیبہ شامل ہیں۔ نائب ترجمان سے سوال کیا گیا کہ امریکہ کی اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ کیا بات چیت ہوتی ہے جس پر انہوں نے بتایا کہ ہماری بات چیت میں مسلسل یہ زور دیا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان محفوظ پناہ گاہوں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے اور ہم اس سلسلے میں بہت واضح ہیں جبکہ ہم نے پاکستان کی طرف سے ایسی ایسی کوششوں کو دیکھا بھی ہے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مزید کارروائی کرے اور یہ معاملہ بدستور ہماری بات چیت کا موضوع بنا ہوا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -