صحیح اہل فکر کی بات اور تحریر پر کوئی عمل کے لئے تیار نہیں، محاذ آرائی تیز ہو رہی ہے

صحیح اہل فکر کی بات اور تحریر پر کوئی عمل کے لئے تیار نہیں، محاذ آرائی تیز ہو ...

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

صحیح فکر کے حامل جتنے بھی لکھنے والے اور ہم جیسے سنٹر لسٹ ہیں، ان سب کی انگلیاں زخمی ہوگئیں، لکھتے لکھتے الفاظ کی قلت کا سامنا ہے لیکن ہمارے پیارے سیاسی راہنماؤں کو اب تک کوئی خیال نہیں آیا، بات بنانے کی بجائے بگاڑ رہے ہیں اور محاذ آرائی بڑھ رہی ہے، اسی محاذ آرائی کے نتیجے میں کچھ ’’دانشور‘‘تیسری قوت کی مداخلت کا ذکر کرتے ہیں، ایک عجیب سی بحث چل رہی ہے یوں بھی اب اظہار خیال کرنے اور لکھنے والے بھی بہت زیادہ ہو گئے ہیں، جن حضرات کو ٹیلی ویژن سکرین پر موقع مل رہا ہے وہ شاید خود نمائی کے لئے بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ اس وقت جو صورت حال ہے وہ ہر گز اچھی نہیں،اور ہماری سرحدوں اور اندورنِ ملک جو دہشت گردی جاری ہے، جس بد امنی اور خود اپنوں سے غداری کا خدشہ اور امکان پایا جارہا ہے وہ تو سب کے لئے ہے، خصوصاً برسر اقتدار طبقے کی ذمہ داری زیادہ ہے اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ ملک کے اندر کے حالات کی درستی بھی ان کو کرنا ہے ملک کے اندر کی بے چینی اور بد امنی کے سدباب کے لئے بھی حکمت عملی اور عمل ان کے ذمہ ہے اسی طرح سیاسی استحکام کی بات ہے تو اس میں بھی معتدیہ حصہ انہی کا ہے، یہ درست ہے کہ حزب اختلاف کو بھی بردباری اور تحمل کا ثبوت دینا ہوتا ہے کہ ملک زیادہ مقدم ہے۔

اس وقت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری دونوں ہی حکومت مخالف تحریک چلا رہے ہیں، عمران خان نے احتساب تحریک اور ڈاکٹر قادری نے قصاص تحریک نام رکھ لیا ہے تاہم مقصد ایک ہی بیان فرماتے ہیں کہ نواز،شہباز حکومتیں ختم ہوں، یہ بھی انتہا ہے تاہم جو رویہ حکمران جماعت والوں اور حکومت کا ہے وہ بھی انتہا والا ہی کہلائے گا کہ تحریک انصاف کا معاملہ ٹی،او،آر اور کمیشن کے قیام کا ہے جو الجھا دیا گیا ہے اور اسے محدود کرنے کی بجائے طویل کیا جارہا ہے،حالانکہ فریقین کا نقطہ نظر سموکر مشترکہ ٹی ،او،آر بنانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، حکمران چاہتے ہیں کہ احتساب ہونا ہے تو سب کا ہو، اس پر حزب اختلاف کو بھی اعتراض نہیں، بات پہلے آپ پر آکر اٹک گئی حالانکہ اس کا راستہ بھی نکالا جاسکتا تھا کہ پاناما لیکس کے ساتھ دوسرے ملکی سیاستدانوں کا بھی احتساب ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہوا،اب ہر روز ایک نیا کام ہو جاتا ہے، سپیکر ایاز صادق کی طرف سے ریفرنسوں پر جو فیصلہ کیا گیا اس نے آگ اور بھڑکادی ہے، حالانکہ تحریک انصاف کو استرداد کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی سہولت مل گئی ہے اور متحدہ حزب اختلاف نے ایسا فیصلہ بھی کیا اور یہ بھی تحریک انصاف کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔

اس سلسلے میں بات بڑھنا نہیں چاہیے تھی،جوڑ توڑ سیاست میں سب کا حق ہے لیکن یہ بھی ملکی مفاد میں ہونا چاہیے، بہتر عمل تو ٹی،او،آر پر مفاہمت ہے، جو ہو جانا چاہیے تھی، اب بھی کوئی اچھی کوشش بہتر صورت پیدا کرسکتی ہے۔

جہاں تک ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک قصاص کا تعلق ہے تو یہ معاملہ الجھا ہوا ہے ، جانیں بھی گئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے لیکن افسوس کی بات ہے کہ حقائق مکمل طور پر سامنے نہیں آئے اب عوامی تحریک کا مطالبہ بھی بہت سخت ہے کہ صرف مطالبے سے تو حکومت نہیں جاسکتی اور نہ ہی ان کے مطلوب افراد کو سزائے موت دی جاسکتی ہے اس کا فیصلہ تو عدالتوں نے کرنا ہے، بہتر عمل بھی یہی ہے کہ عدالتوں ہی کے فیصلے کا انتظار کیا جائے ، اس سلسلے میں اب عوامی تحریک اپنی طرف سے دائر فوجداری استغاثے کے نتائج کا بھی انتظار کررہی ہے اور ان کے بقول یہ استغاثہ سماعت کے اختتام کے قریب تر ہے اور عید الاضحی کے بعد فیصلہ ممکن ہے، اس پر بہت انحصار ہے اور پھر تحریک کا رخ متعین کیا جائے گا، ڈاکٹر طاہر القادری بھی رائے ونڈ جانے ہی کا اعلان کر چکے ہیں ہماری اطلاع کے مطابق ہی جس کا ذکر پہلے کردیا تھا، عمران خان نے رائے ونڈ کی تاریخ اور مقام اپوزیشن کی مشاورت سے مشروط کردیا ہے، اس سے وہ اپوزیشن کی شرکت کا بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ہم نے عرض کیا تھا کہ رائے ونڈ اڈہ پلاٹ پر جلسہ ہوگا اور پھر دھرنا یہ دھرنا عمران خان کے اپنے فیصلے کے مطابق ہوگا جس کا انہوں نے اعلان نہیں کیا، یہ حالات ہر گز اچھے نہیں ،سب کو مل کر راہ نکالنا ہوگی کہ دشمن کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔

مزید :

تجزیہ -