عمران خان سپیکر کو نہیں مانتے ،جہانگیر ترین ’’مسٹر سپیکر ‘‘کہتے رہے

عمران خان سپیکر کو نہیں مانتے ،جہانگیر ترین ’’مسٹر سپیکر ‘‘کہتے رہے

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری 

عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی کو بھی اپنی کتابِ سیاست سے نکال دیا ہے، ویسے تو وہ اس پورے نظام ہی کو نہیں مانتے، تو اس نظام کے ایک کل پرزے کو نہ ماننے میں کیا امر مانع ہے؟ سخن گسترانہ بات عموماً مقطعے میں آتی ہے لیکن یہاں تو مطلع ہی میں آگئی ہے۔ ہوا یہ ہے کہ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ اسمبلی میں سپیکر کو ’’مسٹر سپیکر‘‘ کہہ کر نہیں پکاریں گے اور صرف ’’مسٹر ایاز صادق‘‘ کہا کریں گے لیکن ان کے اس اعلان کے باوجود ان کے دست راست جہانگیر ترین نے سپیکر کو ’’مسٹر سپیکر‘‘ کہہ کر ہی مخاطب کیا، تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ پوری تحریک انصاف کیلئے تو وہ ’’مسٹر سپیکر‘‘ ہیں صرف عمران خان کیلئے نہیں ہیں؟ دوسرے الفاظ میں جو کچھ عمران خان کے نزدیک ’’انصاف‘‘ ہے وہ ان کی پوری پارٹی کے نزدیک ’’بے انصافی‘‘ ہے۔ ہماری گزارش تو بس اتنی سی ہے کہ انہوں نے جو فیصلہ کرنا ہے وہ پارٹی متحد ہوکر کرے تاکہ خان صاحب اکیلے نہ رہ جائیں۔ اب ظاہر ہے جس وجہ کی بنا پر ایاز صادق ’’مسٹر سپیکر‘‘ کہلانے کے مستحق نہیں رہے وہ وجہ تو پوری تحریک انصاف کیلئے ہونی چاہئے نہ کہ محض اس کے سربراہ کیلئے، ایاز صادق کا تازہ ترین ’’گناہ‘‘ یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس فیصلے کیلئے الیکشن کمیشن کو بھیج دیا ہے جبکہ وزیراعظم کے خلاف دائر کئے جانے والے ریفرنس مسترد کردیئے ہیں۔ اس پر انہوں نے سپیکر پر جانبداری کا الزام لگا دیا حالانکہ اس سے ملتی جلتی درخواست سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر واپس کردی ہے کہ اس میں سنجیدگی نظر نہیں آتی، اس کے خلاف تحریک انصاف نے اپیل کا فیصلہ کیا ہے، بہتر ہوتا سپیکر کے فیصلے کے خلاف بھی اسی طرح کا قانونی راستہ اختیار کیا جاتا، لیکن اس معاملے میں عمران خان نے سپریم کورٹ جانے کی بجائے سپیکر کو ہی ماننے سے انکار کردیا ہے جو پورے ایوان کے کسٹوڈین ہیں، لیکن وہ جس ایوان کو چوروں اور ڈاکوؤں کا ایوان کہتے رہے ہوں اس کے کسٹوڈین کے بارے میں وہ کلمۂ خیر کیسے کہہ سکتے ہیں؟

ابھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر نہیں ہوئی تھی کہ درخواست پر مغز ماری کرنے والے وکیلوں میں سے ایک سینئر وکیل نے کہا کہ ہماری پارٹی کے بہت سے وکیلوں نے تین ماہ تک اس درخواست پر محنت کی ہے میں خود بھی ایک مہینے سے اس پر کام کر رہا ہوں۔ ان کا خیال تھا کہ اس درخواست سے انقلاب کی کرنیں پھوٹیں گی لیکن یہ درخواست رجسٹرار نے ایک لفظ میں اڑا کر رکھ دی اور اسے ’’غیر سنجیدہ‘‘ قرار دے دیا۔ اب آپ اندازہ فرما سکتے ہیں کہ اتنے سینئر وکلاء نے کئی ماہ تک اس درخواست پر جو کام کیا تھا وہ کتنا سنجیدہ تھا، ہم اسے اگر جھک ماری کہیں گے تو وکیل دوست ناراض ہوں گے اور ممکن ہے رجسٹرار کا سارا غصہ بھی ادھر ہی منتقل کردیں۔ ویسے تو سیاسی امور میں تحریک انصاف کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ جب اس نے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک شروع کی تو سب سے زیادہ زور اس بات پر لگایا کہ نجم سیٹھی نے 35 پنکچروں والی بات خود تسلیم کی ہے۔ تقریروں میں نجم سیٹھی کے خلاف یہ الزام پوری شدومد سے دہرایا گیا، مطلب یہ تھا کہ نجم سیٹھی نے 35 حلقوں میں دھاندلی کروائی یعنی ان حلقوں میں مسلم لیگ (ن) ہار رہی تھی۔ نجم سیٹھی کے ’’پنکچروں‘‘ کی وجہ سے اس کے امیدوار جیت گئے لیکن اس کا کوئی تذکرہ انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے روبرو نہیں کیا گیا۔ بعد میں شاید یہ موقف اختیار کیا گیا کہ یہ تو سیاسی بیان تھا گویا سیاسی بیان کیلئے کسی ہوش و خرد کی ضرورت نہیں ہوتی اور بھی کئی ایسے ہی الزامات تھے جو تقریروں میں تو لگائے جاتے رہے لیکن جس فورم پر انہیں اٹھانا چاہئے تھا وہاں نہیں اٹھائے گئے۔ 2014ء کے مشہور دھرنے کے آغاز میں ہی تحریک انصاف کے ارکان نے اسمبلیوں کی رکنیت سے استعفے دے دیئے تھے البتہ چند ارکان نے اس فیصلے پر عمل نہیں کیا اور وہ بدستور اسمبلی جاتے رہے۔ مستعفی ارکان میں سے مخدوم جاوید ہاشمی ایوان میں گئے اور اپنے استعفے کا باضابطہ اعلان کیا۔ دوسرے مستعفی ارکان میں سے کوئی بھی نہ تو سپیکر کے پاس گیا اور نہ کسی اور ذریعے سے اپنے استعفے کی تصدیق کی۔ اس طرح ان کے استعفے منظور نہ ہوسکے کئی ماہ بعد یہ حضرات واپس چلے گئے، غیر حاضری کے عرصے کی پوری تنخواہیں وصول کیں اور پورے اطمینان کے ساتھ ’’چوروں اور ڈاکوؤں‘‘ کے ساتھ دوبارہ بیٹھ گئے۔ اب پتہ نہیں خان صاحب اسمبلی میں کب جاتے ہیں البتہ ان کی جماعت کے دوسرے ارکان تو جاتے رہیں گے اور ’’مسٹر سپیکر‘‘ کہتے رہیں گے تو صرف عمران خان کے سپیکر کو نہ ماننے سے کیا فرق پڑے گا؟ فرق تو تب پڑتا ہے جب اگر دوسری نہیں تو کم از کم ان کی پارٹی تو ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کرے۔

ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ سپیکر کے خلاف ’’عدم اعتماد‘‘ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اگر ایسا ہے تو یہ ارکان کا حق ہے اور اس حق کے استعمال پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ویسے بھی اگر سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرائی جاسکے تو اس سے متحدہ اپوزیشن کا تصور مستحکم ہوگا جو اس وقت متحدہ کہلانے کے باوجود بکھری بکھری ہے۔

مزید :

تجزیہ -