ضلع کونسل شانگہ کا اجلاس،27ضلعی مانیٹرنگ کمیٹیوں کے چیئر مین تعینات

ضلع کونسل شانگہ کا اجلاس،27ضلعی مانیٹرنگ کمیٹیوں کے چیئر مین تعینات

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) شانگلہ ضلع کونسل کا اجلاس ،اپوزیشن لیڈر سے اکاؤنٹس کمیٹی واپس لینے ۔حالیہ سیلاب میں بند سڑکوں کی بحالی۔ ترقیاتی کام پراجیکٹ کمیٹیوں کے ذریعے کرانے۔شانگلہ میں اوورلوڈ مال بردار گاڑیوں پر پابندی سمیت پانچ قرارداد منظور۔ اے ڈی بلدیات شا نگلہ آمان اللہ خان کو شفاف ٹینڈر کرانے پر ممبران کا خراج تحسین۔ ا جلاس میں اپوزیشن لیڈر سدیدالرحمن اور ممبر حیات خان کے درمیان تلخ کلامی۔27ضلعی مائیٹرنگ کمیٹیوں کی چیئر مینزتعینات۔تفصیلات کے مطابق ضلع کونسل شانگلہ کا اجلاس گزشتہ روز سپیکر ضلع کونسل کامران اقبال کے زیر صدارت کالج ہال الپو ری میں منعقد ہوا ،اجلاس میں ممبران اور ضلعی محکموں کے افسران نے شرکت کی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ناظم نیازاحمد خان نے کہا کہ شانگلہ میں نفرت کی سیاست کو ختم کردیاہے،بلدیاتی سسٹم میں کام کرنا انتہائی مشکل ہے،شانگلہ کے سرکاری محکموں میں کرپشن ختم کرنا اولین ترجیح ہے،ہمیں ایک دوسرے کا مینڈیٹ تسلیم کرنا ہوگا ،ہم شانگلہ کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ضلع میں تمام تقرریاں میرٹ پر ہو گی،میرٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں کہا جائے گا،خوہش ہے کہ کام درست طریقے پر ہوسکیں۔اجلاس سے اپوزیشن لیڈر سدیدالرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ناظم نے شانگلہ میں کرپشن کو ختم کرنے اور محکموں سے کالی بھیڑوں کو نکالنے کا عظم کیا تھا۔جن پر اپوزیشن نے بھر پور ساتھ دیا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے وعدے سے مکر گئے ہیں۔اب تک ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی،اپوزیشن سے کوئی ائے یا جائے اپوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہم اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کریں گے،کمیٹیوں میں اپوزیشن کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے،سدیدالرحمن نے کہاکہ ضلع ناظم کے بیانات میں واضح تضاد ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر سلطان نبی نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں یو سی نصرت خیل کے روڈ پر 29لاکھ روپے نکالے گئے ہیں جبکہ ان کے یونین کونسل میں ایکسویٹر نے کوئی کام نہیں کیا ہے،فنڈ کا حساب دیا جائے۔نوی کلے دیدل پرائمری سکول میں 250بچے پڑھ رہے ہیں جس کیلئے ایک استاد کو رکھا گیا ہے،سکول کو مزید اساتذہ دیا جائے،ضلع کے اے ڈی پی کا کام شروع نہیں ہوا جبکہ تحصیل اے ڈی پی نے اپنا کام مکمل کردیا ہے جو مایوس کن ہے ۔ ممبر عزیزالحق نے کہا کہ بلدیاتی ٹینڈر ٹھیکداروں نے57فیصد بیلو پر لیا ہے،ٹھکیدار43فیصد پر کیا کام کرے گا،محکمہ اور ٹھکیدار پر واضح کرتے ہیں کہ ہمیں 100فیصد کا م چاہئے اور وہ بھی کوالٹی کے مطابق،ان کے بی ایچ یو میں خراب میٹریل کا استعمال ہوا ہے ٹھکیدار اور محکمہ نے حلقہ کے ناظم کو بائی پاس کرکے رکن اسمبلی پر خراب بی ایچ یو کا افتتاح کیا۔ممبر حیات خان ن کہا کہ حالیہ سیلاب میں تباہ کاریاں ہوئی کوئی کام نہ ہو سکا ،سڑکیں،واٹر سپلائی ،رابطہ پل کھنڈرات میں تبدیل ہوئے ہیں،کروڑوں کا فنڈ کھدر گیا ۔ وضاحت کیجئے، محکمہ صحت میں بھرتیوں پر ایوان کو اعتماد میں لیا جائے۔ممبر الطاف حسین شاہ پوری نے کہا کہ ان سروس ملازمین کو ڈیتھ کم پنسیشن کیسیز میں ورثاء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیگل ہیئر سرٹیفیکٹ بھی نہیں بنواتے لہٰذا طریقہ کار کو آسان بنایا جائے،ضلع شانگلہ میں نو سکولوں نے صوبہ میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کیا ہے ان اساتذہ کے کارکردگی کو سراہتے ہیں،اپوزیشن کے ساتھ فنڈ میں نا انصافی کی گئی۔اجلاس سے ممبر نجیب اللہ۔ممبر گل محمد ۔ممبر جان علی ممبر صابرالرحمن۔ممبر ذاکراللہ۔ممبر سمھرراج سنگھ۔ممبر گلزای لعل سنگھ۔ممبر جمشید خان نے بھی اظہار خیال کیا ۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر سدیدالرحمن اور ممبر ضلع کونسل حیات خان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تاہم اراکین کی مداخلت پر معاملہ رفع دفع ہوا۔اجلاس میں ترقیاتی کام پراجیکٹ کمیٹیوں کے ذریعے کرانے،حالیہ سیلاب میں بند سڑکوں کی بحالی،شانگلہ میں اوور لوڈ مال بردار گاڑیوں پر پابندی اور بر باٹ کوٹ میں سڑک کو فنڈ دینے سے متعلق قرارداد منظور ہوئی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -