عقیدہ ختم نبوتؐ ایمان کا بنیادی جز ہے ،مولانا اللہ وسایا

عقیدہ ختم نبوتؐ ایمان کا بنیادی جز ہے ،مولانا اللہ وسایا

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا اللہ وسایہ نے کہا ہے کہ6ستمبر کوا فواج پاکستان نے سرحدوں جبکہ 7ستمبر کو جید علمائے کرام نے قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو کافر قرار دے کر قوم کے نظریات کو محفوظ کیاہے۔ 1953میں تحریک کے بانی سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ختم نبوت تحریک کی بنیاد رکھی اور اُن کی قیادت میں دس ہزا ر متوالوں نے ختم نبوت پر شہادت دی۔ علمائے کرام نے آج سے 42سال پہلے پارلیمنٹ ہاوس پر ختم نبوت کا جھنڈا لہرایا ہے جو تا قیامت لہراتا رہے گا۔ وہ سپورٹس سٹیڈیم پڑانگ میں ختم نبوت کانفرنس کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے ۔ کانفرنس سے تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا امجد خان لاہوری ، صوبائی امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، ایم این اے مولانا سید گوہر شاہ ، سابق ایم این اے غلام محمد صادق ، مولانا ارشد مدنی ، مولانا مفتی قاسم ، مولانا حزب اللہ جان اورمولانا مفتی عبداللہ شاہ نے بھی خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایہ اور دیگر مقررین نے عقیدہ ختم نبوت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ایمان کا بنیادی جز ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت کا دفاع اور قادیانیت کی سرکوبی کیلئے ہر مسلمان پر جدوجہد فرض ہے جبکہ س میں کوتاہی حرام ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر قائم وطن عزیز پاکستان میں اسلامی نظام مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا مگر مسلمان ہر لحاظ سے بیدار ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ دِن دور نہیں جب صفحہ ہستی پر کسی بھی ملعون قادیانی کا نام نہیں رہے گا۔ پاکستان کے تاریخ میں ماہ ستمبر حصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 6ستمبر 1965کو افواج پاکستان نے وطن عزیز کے سرحدوں کا دفاع کیا جبکہ 7ستمبر 1974 کو مولانا مفتی محمود اور ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں سے پارلیمنٹ نے قادیانیوں کوکافر قرار دیا ۔ مقررین نے کہا کہ علمائے کرام دینی مدارس قادیانیت اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف برسر پیکار ہے ۔ وطن عزیز میں امریکی اور یہودی ایجنڈے کے خلاف جانوں کی قربانیوں سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ کانفرنس میں قرار دادوں کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی اقدار کی تحفظ کیلئے فحاشی اور عریانی کے سیلاب کو فوری طور پر روکا جائے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات پر عمل درآمد کرکے ارتداد کی شرعی سزا نافذ اور دیگر اقلیتوں کی طرح قادیانی اوقاف بھی سرکاری تحویل میں لئے جائیں ۔ چناب نگر میں ریاستی رٹ بحال کرکے قادیانیوں کے سول کورٹ، سیشن کورٹ ، یائی کورٹ اور سپریم کورٹ کوفوری طور پر ختم کیا جائے ۔ قادیانیوں کی تربیت یافتہ مسلح تنظیم خدام الا حمدیہ پر پابندی لگا کر اُن کے اثاثے ضبط کئے جائے ۔ گستاح رسول گوہر شاہی کو فوری طور پر قرار واقعی سزا دی جائے اور انجمن سرفروشان اسلام اور مہدی فاونڈیشن پر پابندی لگائی جائے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -