شانگہ کے بالائی پہاڑی علاقوں میں بہترین سیا حتی مقامات ہیں ، شوکت علی یوسفر بی

شانگہ کے بالائی پہاڑی علاقوں میں بہترین سیا حتی مقامات ہیں ، شوکت علی یوسفر ...

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سابقہ صوبائی وزیر شوکت علی یوسف زئی نے کہا ہے کہ شانگلہ کے بالائی پہاڑی علاقوں میں بہترین سیاحتی مقامات ہیں عمران خان بہت جلد شانگلہ کے سیاحتی مقامات کا دورہ کریں گے۔ان مقامات تک بنیادی سہولیات فراہم کریں گے۔ سبز خیبرپختونخوا تحریک انصاف کا اولین مشن ہے،جنگلات بچانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لاکرعملی اقدامات اٹھارہے ہیں،صوبہ کے جنگلات کو محفوظ کیا گیا ہے، صوبہ میں سونامی بیلن ٹری پلانٹیشن پراجیکٹ کے تحت لاکھوں پوداجات لگائے،اور سینکڑوں نرسریاں ریز کئے، بارانی ندی نالوں پر چک ڈیم بنائے اور مانیٹرنگ کیلئے کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے۔ شوکت علی یوسف زئی نے کہا کہ عمران خان کا ویژن ہے کہ درخت لگاؤ ،جنگلات بچاؤ ۔ان خیالات کا اظہارشوکت علی یوسف زئی نے جمعہ کے روز چیف کنزرویٹر آف فارسٹ ملاکنڈ شیرنواز خان کے ہمراہ الپوری یخ تنگی میں دیودار کا پودا لگا کرایفارسٹیشن میں حصہ لیا۔ اس موقع ء شوکت علی یوسف زئی نے شجرکاری مہم میں محکمہ فارسٹ الپوری فارسٹ ڈویژن کی کارکردگی پر اطمنان کا ظہار کیا۔تقریب میں ڈپٹی کمشنر شانگلہ دلدارمحمد۔ڈویژنل فارسٹ افسر الپوری محمدامجد۔ڈسٹرکٹ پولیس افسرراحت اللہ ایس ڈی ایف او عالمگیرخان نے بھی یخ تنگی میں دیودار کا پودا لگا کرایفارسٹیشن میں حصہ لیا ۔ اس موقع پر چیف کنزر ویٹرشیر نواز خان نے کہا کہ درخت ہمیں اکسیجن فراہم کرتا ہے۔زمین کو بردگی سے بچاتی ہے ماحول کو صاف ستھرا رکھتی ہے،سیلابوں کا روک تھام کرتی ہے،جنگلات کی حفاظت کیلئے نگہبان فورس بھرتی کیا گیا ہے اور لگائے ہوئے پوداجات کی حفاظت کیلئے موئثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ پوداجات لگاکرسبز خیبرپختونخواکو کامیاب بنانا ہوگا،درخت پیدائش سے لیکر لحدتک انسان کا ساتھی ہے۔ڈویژنل فارسٹ افسر الپوری محمدامجد اور ایس ڈی ایف او عالمگیرخان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شانگلہ میں اس سال 30لاکھ مختلف قسم کے پوداجات لگائے جائیں گے،جس میں اب تک بیس لاکھ تک پودے لگائے گئے ہیں۔باقی دسمبر تک مکمل کئے جائیں گے۔شانگلہ میں پرائیوٹ اور سرکاری نرسریاں ۔روڈ سائڈ پلاٹیشن۔ایفارسٹیشن کامیابی سے جاری ہے اور مقامی لوگ بھی تعاون کر رہے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر