تدریسی ہسپتالوں کی خودمختاری کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ، شہرام تراکئی

تدریسی ہسپتالوں کی خودمختاری کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ، شہرام ...

  

پشاور( پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر برائے صحت شہرام خان تراکئی نے صوبے کے تدریسی ہسپتالوں کو مالی و انتظامی خود مختاری دینے کے اقدام کو موجودہ صوبائی حکومت کا ایک اہم اور انقلابی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس خود مختاری سے ان ہسپتالوں کے معیار میں روز بروز بہتری آ رہی ہے اور وہاں پر سہولیات و خدمات کی فراہمی میں واضح بہتری نظر آ رہی ہے کیونکہ اب ان ہسپتالوں کی انتظامیہ مالی و انتظامی فیصلے کرنے میں مکمل طور پر با اختیار ہے،وہ اپنے اپنے ہسپتالوں کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھانے میں آزاد ہیں اور انہیں ماضی کی طرح چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے سیکرٹریٹ کے چکر نہیں لگانا پڑتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں اسٹیٹ آف دی آرٹ پیڈیاٹرک لیپرو سکوپ آلات کی تنصیب اور سپائن سرجری متعارف کرانے کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خیبرٹیچنگ ہسپتال صوبے کا پہلا ہسپتال ہے جس میں یہ جدید مشینیں نصب کی گئی ہیں ان جدید مشینوں کی تنصیب پر ہسپتال انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر اور معیاری سہولیات کی فراہمی مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے جس نے ہسپتال میں اس جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا جو صوبے میں اور کہیں بھی موجود نہیں۔ صحت کے شعبے میں موجودہ صوبائی حکومت کے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے شہرام تراکئی نے کہا کہ حال ہی میں صوبائی حکومت نے صوبے کی 50فیصد آبادی کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم کا اجراء کیا ہے جس کا براہ راست فائدہ صوبے کے غریب عوام کو پہنچے گا اور تبدیلی حقیقی معنوں میں وہ تبدیلی ہے جس سے غریب لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو۔صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نظام صحت کے معیارکو اس سطح پر لے جانے کی کوشش کر رہی ہے جس پر اسے ہوناچاہیے جو درکار انسانی وسائل اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے بغیر ممکن نہیں اس لئے صوبائی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ہسپتالوں میں درکار عملے کی کمی پوری کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کی جس کے نتیجے میں اب صوبے کے چھوٹے بڑے تمام طبی مراکزمیں ڈاکٹروں سمیت دیگر عملے کی کمی تقریباً پوری ہو گئی ہے جبکہ ان ہسپتالوں میں طبی آلات کی کمی پوری کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایک منصوبہ بنایا گیا ہے اور عنقریب صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں طبی آلات کی کمی بھی دور ہو جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینوں کی تنصیب کی جارہی ہے جس سے دور درازعلاقے کے لوگوں کو یہ سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم ہو سکیں گی اور اس طرح صوبے کے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کابوجھ بھی کم ہو جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میڈیکل ڈائریکٹر کے ٹی ایچ پروفیسر ڈاکٹر روح المقیم نے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سروسز،آئندہ کے منصوبوں اور دیگر مختلف امور پر روشنی ڈالی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -