عید کی آمد، قیدیوں کے لواحقین سے عیدی بٹورنے کی مہم عروج پر

عید کی آمد، قیدیوں کے لواحقین سے عیدی بٹورنے کی مہم عروج پر

لاہور(کامران مغل)ماتحت عدالتوں میں بخشی خانے اور سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار وں کی پیشی پر لائے قیدیوں کے لواحقین سے "عیدی "بٹورنے میں مصروف ،شیرجوانوں کی عیدی مہم عروج پر ،مہنگائی بڑھتے ہی ریٹ بھی ڈبل کردیئے ، فی کس قیدی سے مبینہ طور پرفون پر بات کرنے کے 500جبکہ ملاقات کے لئے 1000روپے تک ریٹ مقرر کردیاگیا، مہنگائی کے ستائے غریب لواحقین پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اپنے پیاروں سے ملاقات کئے بغیر ہی گھروں کو روانہ ہونے لگے ہیں، اپنے پیاروں سے ملاقات نہ ہونے پرپولیس اہلکاروں کو جھولیاں اٹھا کربدعائیں دینے پر مجبور، متعلقہ حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بن گئے ہیں،اس حوالے سے سروے کے دوران "پاکستان"سے گفتگو کرتے ہوئے پیشی پر آئے ملزمان کے لواحقین رشید، اکرام، راشد ،سلیم ، قیصر،نیلم ،سلمی وغیرہ نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ویسے تو اکثر ہی پیشی پرلے جانے والا عملہ کمرہ عدالت کے باہر ہی ان سے ملاقات کے لئے رشوت طلب کرنا شروع کردیتا ہے لیکن اب جیسے ہی عید الاضحی قریب آرہی ہے پولیس اہلکاروں نے رشوت کا بازار گرم کردیا ہے اس حوالے سے عدالتوں میں موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کروانے پر لواحقین سے رشوت لینی والی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے وہ احسن طریقے سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو مٹھی گرم نہیں کرتااسے ملاقات نہیں کرنے دی جاتی ہے اور اگر فون پر بات کروانے کے لئے کہا جائے تو متعلقہ اہلکاروں کی جانب سے اس کے لئے بھی کم از کم500روپے کاتقاضہ کیا جاتا ہے اور اگر ملاقات کے لئے یہ1000تک کا مطالبہ کردیتے ہیں جو کہ انتہائی ظلم ہے کیونکہ پہلے ہی وہ عدالتوں کے چکر لگا لگا کر خوار ہو چکے ہیں اور اوپر سے پولیس اہلکار عید ی کے نام پر ان کی جیبیں خالی کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت میں پیش ہونے کے بعد واپسی پر اپنے پیاروں کے لیے لواحقین کی جانب سے لائے جانے والے کھانوں کو بھی ان تک پہنچانے کے لئے پولیس کو پیسے دینے پڑتے ہیں کیونکہ انچارج سمیت بخشی کانے کا تمام عملہ کرپشن کو گڑھ بن چکا ہے جو بغیر رقم کے ملاقات کروانا تو دور بات کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بخشی خانے میں سیکورٹی اہلکار اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر عیدی کمانے کے چکر میں مٹر گشت کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی دہشت گردی کا واقع رونما ہوسکتا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4