حویلی بہادرشاہ پاورپروجیکٹ آئندہ سال بجلی پیداکرے گا،سلیم اختر

حویلی بہادرشاہ پاورپروجیکٹ آئندہ سال بجلی پیداکرے گا،سلیم اختر

  

لاہور(خصوصی رپورٹ) 1230میگاواٹ حویلی بہادر شاہ پاور پروجیکٹ مارچ 2017میں پیداوار شروع کر دے گا ۔منصوبے کا افتتاح وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 16اکتوبر 2015کو کیا تھا ۔ پاور پروجیکٹ مارچ2017میں 1230میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا ۔ منصوبے پر 50فیصد کام مکمل ہو چکا ہے پروجیکٹ کی تکمیل سے لوڈ شیڈنگ میں خاظر خواہ کمی آئے گی۔منصوبے کی تفصیل بتاتے ہوئے جنر ل مینجر پروجیکٹ محمد سلیم اختر نے بتایا کہ NESPAK اس منصوبہ میں بطور کنسلٹنٹ جب کہ لحمیارانٹرنیشنل کمپنی اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گئی اس پلانٹ پر دنیا کی جدید ترین مشینری لگائی جارہی ہے۔ جو کم فیول میں زیادہ بجلی پیدا کرے گی ۔ یہ پلانٹ کمبائینڈ سائیکل ہے جوگیس اور ڈیزل دونوں پر چلایا جاسکتا ہے ۔ پلانٹ میں متبادل ایندھن کی سٹوریج کے لیے بھی دو ٹینک بنائے جارہے جن میں 21 ہزار میٹر ڈیزل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، پلانٹ اور چینی انجینئرز کی حفاظت کے لیے سیکوٹی کے فول پروف اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ جھنگ سے 20کلومیٹر اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے 47 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے جو تریموں سدھنائی لنک کینال کے کنارے قائم کیا جارہا ہے 130 ایکٹر رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس منصوبہ کے پلانٹ کے لئے 94.5 ایکڑ رقبہ مختص کیا گیا ہے۔ سائیٹ پر تقریبا 2000 افراد کام کر رہے ہیں جن میں سے 622 چائنیز ہیں۔ان میں سے 150 انجینئر اور باقی مزدور ہیں پاکستانی افرادی قوت میں انجینئرز اور ورکر شامل ہیں اس میں گیس سے چلنے والی دو ٹربائن بجلی پیداکریں گی۔منصوبہ 2 گیس ٹربائن ، 2 HRSG (ہیٹ ریکوری سٹیم جنریٹرز) اور ایک سٹیم ٹرباین پر مشتمل ہو گا۔ دیگر مشینر ی و ٹربائنز جنر ل الیکڑک کمپنی کی تیار کر دا جو دنیا کی مشہور کمپنی ہے اور لگائی جانے والی ٹربائنز بھی دنیا کی جدید ترین ٹربائنز ہیں ۔ بنیادی کام تقریبا پچاس فیصد مکمل ہو چکا ہے تعمیراتی کام دن رات جاری ہے جنرل مینجر پروجیکٹ محمد سلیم اختر کے مطابق پہلے مرحلہ میں پہلی ٹربائن مارچ میں بجلی کی پیداوار شروع کر دے گی اور اگست 2017تک یہ منصوبہ700میگا واٹ بجلی پیدا کرنا شروع کردے گاجبکہ جنوری 2018 تک یہ منصوبہ اپنی مکمل استعداد سے بجلی کی MW1230پیداوار شروع کر دے گا اس منصوبہ کی خاص خوبی جو اسے دوسرے گیس سے بجلی پیدا کرنے والے منْصوبوں سے منفرد بناتی ہے وہ اس کا بھاپ کا سسٹم ہے جو پانی ٹربائن کو ٹھنڈا کر نے کے بعد بھاپ میں تبدیل ہو گا اس کو بھی استعمال میں لا کر بجلی پیدا کی جائے گی جس سے مزید سستی بجلی سسٹم میں شامل ہو گی۔ اس منصوبہ کا ابتدائی تخمینہ 93 ارب روپے تھا مگر بہتر کارکردگی اور منصو بہ بندی کی شفافیت کی وجہ سے اب یہ منصوبہ تقریبا55 ارب روپے میں مکمل ہو گا اس پروجیکٹ کی تکمیل سے ہر سال تقریبا6.6 ملین روپے کی بچت بھی ہوگی۔ منصوبے میں استعمال ہونے والے آلات و مشینری بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہیں جبکہ چینی اور پاکستانی ماہرین کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں اس منصوبے کو کامیابی کے ساتھ پائیہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ڈپٹی مینجر پروجیکٹ سونگ ژمنگ کے مطابق یہ منصوبہ پاک چائنا دوستی کی علامت ہے اور چین پاکستانی بھایؤں کے ساتھ مل کر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے لئے دن رات کام کر رہا ہے امید ہے جلد ہی پاکستان سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگااور پاکستان بھی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -