امن وامان کے قیام کیلئے آپریشن ضرب عضب کامیابی کیساتھ آگے بڑھ رہا ہے، سینیٹ ارکان

امن وامان کے قیام کیلئے آپریشن ضرب عضب کامیابی کیساتھ آگے بڑھ رہا ہے، سینیٹ ...

اسلام آباد (این این آئی) اراکین سینٹ نے کہا ہے کہ امن وامان کے قیام کیلئے آپریشن ضرب عضب کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ٗ پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ٗلوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے صورتحال بہتر بنانے کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ٗ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل تیز ہونا چاہیے، مردم شماری قوم کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے ٗ صدر مملکت کا خطاب بڑا جامع اور متوازن تھا۔ جمعہ کو پارلیمنٹ کے مشتر کہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں اپنا وژن واضح کیا ہے اور حکومت کیلئے آئندہ کی سمت متعین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے آپریشن ضرب عضب کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، بجلی کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے بھی مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جب تک لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوگی پاکستان کی معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں تمام شعبوں کا احاطہ کیا،انہوں نے گورننس اور معیشت کے معاملات پر بھی اظہار خیال کیا، اپنے خطاب میں ۔ انہوں نے اقتصادی بحالی کے لئے حکومت کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جس طرح کی صورتحال درپیش ہے ان سے نمٹنے کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے اور صدر مملکت کے خطاب میں جو تجاویز دی گئی ہیں اور جس طرح کی رہنمائی کی گئی ہے اس کی روشنی میں ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات اور انتخابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ عدالتی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے تاکہ مقدمات کو جلد نمٹایا جاسکے۔ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل تیز ہونا چاہیے، مردم شماری قوم کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔ 1998ء سے ہمارے ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی۔ مردم شماری کے لئے صوبوں کے تعاون سے آگے بڑھنا ہوگا۔یہ ضروری نہیں کہ پورے ملک میں ایک ہی وقت میں مردم شماری کرائی جائے۔ اسے مختلف درجات میں تقسیم کرکے بھی مردم شماری کرائی جاسکتی ہے۔ مردم شماری سے ملکی وسائل کو مساوی انداز میں تقسیم کیا جاسکے گاسینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ صدر مملکت کا خطاب بڑا جامع اور متوازن تھا۔ انہوں نے ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کو احاطہ کیا اور پاکستان کی معیشت پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں ایک پالیسی متعین کی ہے جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے معاشی شعبے میں حکومت کی کامیابیوں کو بھرپور طریقے سے سراہا ہے، امن و امان کے حوالے سے بھی صدر مملکت کے خطاب میں جو نکات اٹھائے گئے ہیں وہ قابل تقلید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے، پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پارلیمانی سال کے آغاز پر خطاب پورے سال کے لئے حکومت کے لئے ایک سمت کا تعین کرتا ہے اور پچھلے ایک سال کے دوران حکومتی اقدامات کا اس میں احاطہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے پورے ملک کے عوام کو مستفید کرنا چاہیے اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں کہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہو۔ سینیٹر غوث محمد نیازی نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے‘ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں۔ جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تھی تو اس وقت پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ دیوالیہ ہونے والا ہے لیکن موجودہ حکومت نے اسے دیوالیہ ہونے سے بچایا اور معیشت کو بہتر بنایا ہے۔ ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس مشینری کی بھی اصلاح کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کی تقدیر بدلنے کا موقع ہے اس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور پورے ملک میں ترقی کا انقلاب آئے گا۔بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ہر ملک کا سربراہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر خطاب کرتا ہے اور اس خطاب میں آئندہ سال کے لئے حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے ایک رہنمائی دی جاتی ہے اور پچھلے سال کی کارکردگی کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے خطاب میں مختلف موضوعات پر بات کی گئی اور اس سلسلے میں کئی نکات اٹھائے گئے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ صدر مملکت وفاق کی علامت ہیں‘ ان کے خطاب میں حکومت کے لئے پورے سال کی رہنمائی شامل ہوتی ہے۔ صدر کے خطاب میں تمام چیزوں کا احاطہ کیا جاتا ہے تاہم حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی پالیسیاں بنائے جن سے عوام کو فائدہ ہو۔ صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب طویل المعیاد وژن پر مشتمل ہونا چاہیے بعد ازاں سینٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا

سینٹ ارکان

مزید : پشاورصفحہ اول