کراچی ،راولپنڈی اور پشاور دنیا کے 10ؤآلودہ ترین شہروں میں شامل ،وزارت موسمیاتی تبدیلی

کراچی ،راولپنڈی اور پشاور دنیا کے 10ؤآلودہ ترین شہروں میں شامل ،وزارت ...

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ دنیا کے 10آلودہ ترین شہرؤں میں کراچی ،راولپنڈی اور پشاور شامل ہیں، حکومت نے مارچ 2013سے جولائی 2016تک پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو 10ارب 6کروڑ 31لاکھ 12 ہزار روپے کے اشتہارات دیئے، پاکستان ریلوے تاحال خسارے سے دوچار ہے، مالی سال 2013-14 میں پاکستان ریلوے کا خسارہ 32.527 ارب تھا جو مالی سال 2015-16 میں کم ہو کر 26.993 ارب روپے رہ گیا ہے،دنیا کی 100صف اول یونیورسٹیوں میں کوئی بھی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیں، ملک کے 89اضلاع ایسے ہیں جہاں کوئی سرکاری یونیورسٹی قائم نہیں، 2013ء میں پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد 17ہزار 78تھی جو اگست 2016 میں کم ہو کر 14ہزار 342 رہ گئی اور فی طیارے پر 502ملازمین کم ہو کر 377 رہ گئے ہیں ،یکم جون 2013سے ابتک پی آئی اے کے زمینی اور فضائی عملے کیخلاف 13623شکایات موصول ہوئیں۔جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کے سوالوں کے جواب وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب، وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمن اورپارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ مریم اورنگزیب نے دیئے۔ رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اﷲ کے سوال کے جواب میں وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ مارچ 2013 سے 31جولائی 2016تک حکومت نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو 10ارب 6کروڑ 31لاکھ 12ہزار روپے کے اشتہارات دیئے جن میں پرنٹ میڈیا کو 7ارب 28کروڑ 80لاکھ 43ہزار 959 روپے کے اشتہارات دیئے گئے جبکہ الیکٹرانک میڈیا کو 2ارب 77کروڑ 50لاکھ 68ہزار روپے سے زائد کے اشتہارات دیئے گئے۔ رکن نگہت پروین میر کے سوال کے جواب میں وزارت کیڈ نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں 604 بیڈز کی سہولت موجود ہے جبکہ چلڈرن ہسپتالوں میں 242 بیڈز کی سہولت موجود ہے۔ اسلام آباد میں زچہ بچہ مرکز صحت کے 140 مراکز ‘ برن کیئر سنٹر کے 20 اور جراحی قلب کے 107 مراکز ہیں۔ رکن ساجدہ بیگم کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمن نے کہا کہ دنیا کی 100صف اول یونیورسٹیوں میں کوئی بھی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیں ہے۔ کیو ایس عالمی درجہ بندی 2016 میں 501 سے 701 تک کی یونیورسٹیوں میں 6 پاکستانی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ کیو ایس ایشیاء درجہ بندی 2016 میں 100 تا 350 تک کی یونیورسٹیوں میں پاکستان کی 10یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ رکن وسیم اختر شیخ کے سوال کے جواب میں وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے تحریری جواب میں آگاہ کیا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان ٹیلی ویژن میں 387تکنیکی اور 494 غیر تکنیکی عملہ بھرتی کیا گیا۔ رکن طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ پی آئی اے نے حال ہی میں لندن کے لئے پریمیئر سروس شروع کی ہے عالمی مارکیٹ میں طیاروں کی کمی کی وجہ سے صرف ایک طیارہ مل سکا ہے آئندہ دو ماہ کے اندر مزید دو طیارے پریمیئر سروس کے لئے حاصل کرلیں گے۔ رکن شکیلہ لقمان کے سوال کے جواب میں وزارت ریلوے نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ پاکستان ریلوے تاحال خسارے سے دوچار ہے مالی سال 2013-14 میں پاکستان ریلوے کا خسارہ 32.527 ارب تھا جو مالی سال 2015-16 میں کم ہو کر 26.993 ارب روپے رہ گیا ہے۔ رکن ساجد احمد کے سوال کے جواب میں وزارت تعلیم نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے 2427.1ملین کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات ہیں۔ جن میں منقولہ 676.68ملین جبکہ 1798.49 ملین غیر منقولہ اثاثہ جات ہیں۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی

اسلام آبا (آئی این پی) قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں بنائی گئی پانچ رکنی کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی‘ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل کردیا جائے‘ ایف سی آر کا قانون ختم کردیا جائے اور اس کی جگہ مقامی رسومات و رواج پر مبنی ’’رواج ایکٹ‘‘ نافذ کیا جائے‘ سول و فوجداری امور کے لئے جرگہ نظام کو برقرار رکھا جائے‘ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک بڑھا دیا جائے‘ 31دسمبر تک تمام متاثرین کی واپسی یقینی بنائی جائے‘ تعمیر نو کا منصوبہ 2018 تک مکمل کیا جائے‘ 2017 میں فاٹا میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرادیئے جائیں۔ جمعہ کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے فاٹا اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز‘ وفاقی وزیر برائے ریاستیں و سرحدی امور جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ‘ فاٹا ارکان کے لیڈر شاہ جی گل آفریدی‘ حاجی غلام احمد بلور‘ صاحبزادہ طارق اﷲ‘ آفتاب خان شیرپاؤ‘ نوید قمر‘ شہریار آفریدی اور کیپٹن صفدر نے رپورٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف‘ فاٹا اصلاحات کمیٹی اور عوام کو فاتا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی رپورٹ پر خراج تحسین پیش کیا۔ رپورٹ پیش کرنے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے قائم کمیٹی کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئین کا تقاضا تھا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔ کمیٹی نے چھ ماہ فاٹا میں دورے کئے اور وہاں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں‘سول سوسائٹی‘ طلباء‘ قبائلی عمائدین سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کی۔ فاٹا کی سات ایجنسیوں اور ایف آرز کے دورے کئے گئے مشاورت وسیع اور مفید رہی۔ فاٹا کے لئے چار آپشن سامنے تھے جن میں فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانا‘ موجودہ حیثیت کو بحال رکھنا‘ خیبرپختونخوا میں ضم کرنا یا گلگت بلتستان کی طرز پر سیٹ اپ بنانا شامل تھا۔ علیحدہ صوبہ بنانا مشکل تھا اور سٹیٹس کو بھی کوئی حل نہیں تھا۔ مشاورت کے بعد کمیٹی نے سفارشات تیار کی اور یہ تجویز دی کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے۔ فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا کے برابر لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں ٹی ڈی پیز کی واپسی اور آباد کاری‘ تعمیر نو کی جائے بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں سکیورٹی نظام بہتر کیا جائے۔ فاٹا کی حیثیت کے بارے سفارشات پارلیمنٹ سے منظور ہوں گی۔ جنرل (ر) عبدالقادر نے کہا کہ قیام پاکستان سے آج تک فاٹا آئینی حقوق سے محروم رہا وزیراعظم نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے اس مقصد کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی اس دوران فاٹا دہشت گردی کی آماجگاہ بن گیا ۔طالبان نے اس علاقہ میں قانون میں عمل داری ختم کرنے کے لئے پولیٹیکل ایجنٹ اور عمائدین کو نشانہ بنایا جس کے بعد وہاں آپریشن شروع ہوا۔ آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں بے گھر افراد کی آباد کاری بھی ایک مسئلہ تھا فاٹا اصلاحات مقامی لوگوں کی مشاورت سے تیار کی گئیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر