پی ایس 127میں شکست،متحدہ کی کشتی منجدھار میں

پی ایس 127میں شکست،متحدہ کی کشتی منجدھار میں

  

(تجزیہ/کامران چوہان)بانی ایم کیوایم کی22اگست کی تقریرکے بعدسے متحدہ کے مشکل وقت کاآغازہواڈاکٹرفاروق ستارایم کیوایم کی ڈولتی کشتی کے نئے ناخدا بن کرسامنے آئے ہیں ۔انہوں نے بانی ایم کیوایم کی تقریراورملک کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت اوربیان سے لاتعلقی توضرورکی مگروہ بانی ایم کیوایم سے باضابطہ اوربرملااندازمیں لاتعلقی کے حوالے سے واضح بیان دینے سے احتیاط برت رہے ہیں۔بانی ایم کیوایم کی پاکستان مخالف تقریر کے بعدایم کیوایم کے متعدد رہنماؤں نے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے اورسوشل میڈیا پر پیغامات پوسٹ کرکے بانی ایم کیوایم سے لاتعلقی کرنے کا عندیہ دیاتھا جس کے بعدمتحدہ کی ڈولتی کشتی کوگرداب سے نکالنے کیلئے فاروق ستار ناخدابن کرمیدان میں اترے۔فاروق ستارنے بانی متحدہ کی تقریرکی مذمت اوراس سے لاتعلقی کااعلان کیااورخود کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کاسربراہ بتایا ۔گوکہ فاروق ستار کے اس عمل کوانکے سیاسی مخالفین سیاسی چال اورمشکوک قراردے رہیں مگرفاروق ستارمسلسل اصرارکررہے ہیں کہ ہمیں وقت دیا جائے۔ اس نئی سیاسی صورت حال میں آہستہ آہستہ منظرسے غائب ہونے والے متحدہ رہنماسامنے آکر فاروق ستارپر مکمل اعتمادکااعلان کررہے ہیں۔فیصل سبزواری کے بعد حیدرعباس رضوی کاٹوئٹ اس بات کا عندیہ ہے کہ شایدبکھری متحدہ پھرسے یکجاہونے جارہی ہے ۔مگرمنظرسے غائب کچھ متحدہ رہنمااب بھی "wait and watch"کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکرحالات کاباریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے جومناسب وقت پر فیصلہ کریں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی اچانک دوبارہ انٹری کی ٹائمنگ انتہائی معنی خیز ہے ۔ ضمنی الیکشن والی رات فیصل سبزواری نے ٹی وی شو کے دوران فاروق ستارپر اعتمادکا اعلان کیا جبکہ حیدرعباس رضوی کی جانب سے ملیرپی ایس 127کے ضمنی الیکشن والے دن متحدہ کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی جو کہ شدیددباؤ کے بعد عوام کوراغب کرنے اورالیکشن جیتنے کی ناکام کوشش تھی ۔تاہم تمام ترکوششوں کے باوجود بھی ایم کیوایم فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی اور پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھراپنی کھوئی ہوئی نشست حاصل کرلی جو2004ء میں عبداللہ مراد کے قتل کے بعدپیپلزپارٹی کے ہاتھ سے نکل گئی تھی ۔پی ایس 127کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کے امیدوارمرتضی بلوچ نے 21187 جبکہ متحدہ کے امیدوار وسیم احمد نے 15553ووٹ حاصل کیئے۔واضح رہے2008ء کے الیکشن میں متحدہ کے امیدوار نے 65434جبکہ 2013 ء میں 59811 ووٹ حاصل کرکے فتح حاصل کی تھی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -