پاکستان عالمی برادری میں اہم مقام رکھتا ہے ،مہدی مسعود

پاکستان عالمی برادری میں اہم مقام رکھتا ہے ،مہدی مسعود

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان کے سابق سفیر مہدی مسعود نے کہا ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران کبھی کسی مسلمان کے منہ سے لسانی، صوبائی یا فرقہ وارانہ تعصب کی کوئی بات سننے میں نہیں آتی تھی سب کے منہ پر صرف نظریہ پاکستان، مسلم کاز اور تخلیق پاکستان کی بات ہوتی تھی، ملک میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے کے لیے اسی قومی فخر اور سوچ و جذبے کے احیاء کی ضرورت ہے۔ وہ گزشتہ روز ’’نظریہ پاکستان کے احیاء اور قومی یکجہتی کی ضرورت‘‘ کے موضوع پر جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت شوریٰ ہمدرد کراچی کے اجلاس سے ایک مقامی ہال میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بالکل صحیح بنا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس میں اتنی زیادہ قوت متحرکہ اور قوت نمونہ ہوتی کہ 1971 ء میں آدھا ملک رہ جانے کے باوجود یہ قائم و دائم ہے ا ور ہنوز عالمی برادری میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک سے انتہا پسندی کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک دہشت گردی پر قابو پانا اور قومی یکجہتی کا حصول ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے ملک کو بیدار مغز قیادت اور فروغ تعلیم کی ضرورت ہے۔ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ بقول شہید حکیم محمد سعید اسلامی تعلیمات کی پیروی، اسلامی تہذیب و اقدار کا تحفظ، سادگی و قناعت اختیار کرنا اور ترقی و خوشحالی کے لیے جہد و عمل میں تیزی لانا۔ یہی نظریہ پاکستان ہے اور یہی ملک کے دفاع، یکجہتی، استحکام اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہے۔ بریگیڈیر (ر) جاوید حسین نے کہا کہ شروع سے ملک میں سیاسی نظام غیرمتوازن رہا ہے، پارلیمانی نظام فیل ہوگیا ہے، قوم کو ایسے متبادل نظام پر غور کرنا چاہیے جو ملک میں بہترین دماغوں کو حکومت میں لانے اور قومی یکجہتی پیدا کرنے کا ذریعہ بنے۔ ابوالفضل نے کہا کہ ہمارے ملک پر جاگیردار طبقہ حکمراں رہا اس لیے ملک صنعتی طور پر ترقی نہ کر سکا۔ ملک کو صنعتی ترقی بورژوا طبقہ دیتا ہے جو اس وقت حکمراں ہے مگر کمزور ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔ شیخ محمد عثمان دموہی نے کہا کہ بھارت اگر کشمیر کا مسئلہ حل کر لے تو اسے بھی اور ہمیں بھی سکون ملے گا اور یہ بات جتنی جلدی بھارت کی سمجھ میں آجائے اتنا ہی دونوں ممالک کے لیے بہتر ہے۔ پروفیسر کفیل احمد نے کہا کہ انصاف، برداشت، مثبت سوچ اور اتحاد و یکجہتی وہ خوبیاں ہیں جو ہماری قوم کو تعلیم سے ہی حاصل ہو سکتی ہیں لہٰذا حکومتی ترجیحات میں تعلیم کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد نے کہا کہ موجودہ نسل کو چاہیے کہ وہ نظریہ پاکستان کے اصل مفہوم، جو دیانت داری، فرض شناسی اور حب الوطنی پر مبنی ہے، سے نئی نسل کو آگاہ کرے۔ ہمہ بیگ نے کہا کہ ہمیں جب بھی شکست ہوئی تو دروازہ اندر سے کھولا گیا، ہمیں بیرونی کے ساتھ ساتھ اندرونی دشمنوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ صفیہ ملک نے کہا کہ لوگ قائد کے انگریزی لباس کو نہیں بلکہ ان کی دیانت داری، سچائی اور کردار کو دیکھتے تھے۔ پاکستان نہ بنتا تو مسلمان بڑے بڑے عہدوں پر متمکن نہیں ہو سکتے تھے۔ خورشید ہاشمی نے کہا کہ جہاد کی تلقین کی جاتی ہے ٹھیک ہے مگر اس کے ساتھ حصول تعلیم و علم کی بھی تلقین کی جانی چاہیے کہ اس کے بغیر ملک میں ترقی و استحکام ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر شیخ نے کہا کہ ہمیں کنویں کا مینڈک نہیں بنناچاہیے اور محدودیت ختم کر کے پوری انسانی برادری کے بارے میں سوچنا اور سوچ کے دھارے کو بلندی پر لے جانا چاہیے۔ انور عزیز جکارتہ والا نے کہا کہ اصل مسئلہ معاشیات کا ہے جس کو فروغ دے کرہی ہم اپنے ملک کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ قدسیہ اکبر نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم تحریک پاکستان کے جذبے کو اپنے بچوں میں منتقل کریں۔ غازی صلاح الدین نے کہا کہ قومی یکجہتی کا مسئلہ قومی سمت اور رولنگ آئڈیاز کو بدلنے سے حل ہوگا۔ کیا ہم پرانے رولنگ آئڈیاز کو رد کر کے نئے رولنگ آئڈیاز قبول کر سکتے ہیں ؟ ہمیں اس کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ایس ایم غیاث الدین نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی فالٹ لائن فاصلہ تھا، اسی لیے وہ بنگلہ دیش بن گیا۔ موجودہ پاکستان میں بھی فالٹ لائنز ہیں جن کی نشاندہی کر کے ہمیں انہیں ٹھیک اور ختم کرنا ہوگا۔ میجر (ر) عنایت شیر خان نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 ۔ اگست1947 کی تقریر میں نظریہ پاکستان کو واضح کر دیا گیا تھا مگر اسے مانا نہیں گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کو درست کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اچھے لوگوں پر مشتمل قیادت پیدا کی جائے اور یہ قیادت سیکولر تعلیم سے ہی آئے گی۔ اجلاس میں مبصرین نے بھی شرکت کی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -