قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث ایک ملزم کی ضمانت منظور ‘ دوسرے کی خارج

قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث ایک ملزم کی ضمانت منظور ‘ دوسرے کی خارج

  

ملتان (نمائندہ خصوصی ) ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث ملزم ظفر کی ضمانت منظورکرنے اور ملزم عبدالباسط کی ضمانت خارج کرنے کا حکم دیاہے۔مقدمہ پر بحث کئی گھنٹے جاری رہنے کے بعد شام 6 بجے اختتام پذیر ہوئی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا اوراڑھائی گھنٹے بعد فیصلہ (بقیہ نمبر34صفحہ12پر )

جاری کیا گیا۔اس دوران فاضل جج کیس کے علاوہ دلائل کے درمیان آپس میں بحث پر وکلاء کو ٹوکتے رہے۔تفصیل کے مطابق ملزموں ظفر اور ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط نے درخواست ضمانت بعد از گرفتاری دائر کی تھی کہ ان کو غلط طورپر مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف ریکارڈپر کوئی ثبوت بھی موجود نہیں ہے اس لئے ان کو ضمانت پر رہاکرنیکا حکم دیا جائے۔جس پر پولیس کی جانب سے 3 بارمہلت لینے کے بعد گزشتہ روز ریکارڈ پیش کیا گیا تو ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر جام صلاح الدین نے عدالت سے استدعا کی کہ مذکورہ ریکارڈ واپس تفتیشی آفیسر کو بھجوانے کی بجائے پراسیکیوشن برانچ کے حوالے کرنے کا حکم دیاجائے جس پرعدالت نے ا ستدعا منظورکرلی جس کے بعد ملزموں کے کونسل سردارظفرخان لینڈ نے د لائل دئیے کہ ملزم ظفر کھوسہ برادری سے تعلق رکھتا ہے ا ور مقتولہ سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے اس لئے اس کو قتل کرنے کی وجہ عناد بھی اس کی ذ ات سے منسلک نہیں کی جاسکتی ہے اوراس کے خلاف کسی بھی فرد نے تفتیشی آفیسر کو بیان قلمبند نہیں کرایاہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی غیر عدالتی اعتراف اور زبانی یاواقعاتی شہادت موجود نہیں ہے جبکہ ایماء یا معاونت کا الزام تک نہیں لگایاجاسکتاہے۔اس موقع پر سرکار کی جانب سے ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر جام صلاح الدین نے دلائل دئیے کہ پولیس نے بدنیتی سے تفتیش کرتے ہوئے سرکاری ہدایات کے باوجود پراسیکیوشن برانچ کو بائی پاس کیا ہے اور ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ باقی تھا کہ ایک ہی روزمیں اس کاعلاقہ مجسٹریٹ کے روبرو اعترافی بیان قلمبندکراکے تفتیش سے آزاد کردیا گیا جس پر تفتیشی آفیسر کے خلاف کارروائی کے لئے پولیس حکام کوآگاہ کیااورتفتیش تبدیل کراکے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پربھجوانے کی بجائے نگرانی دائر کی گئی اور پولی گرافک ٹسٹ کرایاجو پازیٹو بھی آیا ہے۔اب اگر ملزموں کو آزادکیا گیاتووہ برادری کے ساتھ مل کر مدعی کو راضی نامہ پر مجبور کردیں گے یا اس کو قتل کردیں گے اس لئے آرپی او کو مدعی کی سیکورٹی کے لئے بھی لکھ دیا گیا ہے اور ضمانت کی درخواست میں مدعی بزرگ ہونے کے باوجود اکیلا آیا ہے جو خاندان کے عنادکی دلیل ہے۔انھوں نے کہا کہ ضمانت کے باوجود ملزم حق نواز کو گرفتارکرنا پولیس کی بدنیتی تھی جس کے خلاف حکام کو بھی آگاہ کردیا گیا تھا۔اس طرح پولیس نے مدعی کی جانب سے مفتی عبدالقوی کو نامزدکرنے کے باوجو د گرفتار نہیں کیاگیا کیونکہ شہادتو ں کے بغیر کسی کو گرفتار نہیں کیاجائیگاکہ عالمی سطح پر دنیابھر کی نظریں اس کیس پر ہیں جبکہ ملزموں ظفر اور عبدالباسط کو تمام شہادتیں اکٹھی ہوجانے پر گرفتارکیا گیا ہے ان شہادتوں میں ملزموں کاموبائل ڈیٹا حاصل کیا گیا جس میں ان کا آپس میں صبح 5 بجے تک رابطہ موجود ہے اوران سے گاڑی و موبائل بھی برآمد ہوچکے ہیں اس موقع پر مدعی اور مقتولہ کے والد عظیم خان نے عدالت میں رونا شروع کردیا اس کی 80سال سے زائدعمر ہے اور وہ خدا کو گواہ بنا کرکہتا ہے کہ ملزموں نے اس کی بیٹی کو قتل کیا ہے اورملزم عبدالباسط کار سنبھال کرکھڑارہا اصل ملزم حق نواز ہے اورظفر اول درجے کا شیطان صفت آدمی ہے جبکہ مفتی عبدالقوی بھی شامل ہے جس نے اس کی بیٹی کے خلاف غلیظ پراپیگنڈہ کیا جس کی وجہ سے ملزموں نے قتل کا پلان بنایا۔پراسیکیوشن کے پرائیویٹ وکیل صفدر عباس نے کہا کہ یہ غیر ت کے نا م پر نہیں بلکہ سماجی دباؤ پرقتل ہے اوریہ دباؤ مفتی عبدالقوی نے پیداکیا ہے۔وکلاء صفائی نے دلائل دئیے کہ قبضے میں لی گئی گاڑی عبدالباسط کی نہیں بلکہ عادل نامی شخص کی ملکیت ہے اورسارا خاندان کئی سال تک مقتولہ کی کمائی پر پلتا رہا اور اب غیر ت کیسے آگئی ہے۔جس کے بعد بحث مکمل کرکے ریکارڈ عدالت کے حوالے کردیاگیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -