دینی مدارس میں بغیر مشاورت اصلاحاتی عمل بڑھانا ممکن نہیں، ڈاکٹر عامر طاسین

دینی مدارس میں بغیر مشاورت اصلاحاتی عمل بڑھانا ممکن نہیں، ڈاکٹر عامر طاسین

ملتان (سٹی رپورٹر) پاکستان کے دینی مدارس دینی علوم کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔حکومت دینی مدارس میں اصلاحاتی پروگرام اور ہر معاملے میں ممتاز اور ماہر علمائے کرام کی سے مشاورت کو اہمیت دیتی ہے اور دینی مدارس میں مشاورت کے بغیر اصلاحات (بقیہ نمبر40صفحہ7پر )

کے عمل کو بڑھاناناممکن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئر مین ڈاکٹر عامر طاسین کا دو روزہ سکھر میں سرکاری ماڈل مدارس کا دورہ میں اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چیئر مین ڈاکٹر عامر طاسین نے ماڈل دینی مدرسہ کے علاوہ سکھرکامعروف تعلیمی ادارہ آئی بی اے اور ان کے زیر انتظام پبلک اسکول کا بھی دورہ کیا اور ڈائیریکٹر ڈاکٹر نثاراحمد اور رجسٹرار زاہد حسین کھنڈ سے خصوصی ملاقات کی ۔انہوں نے چیئرمین ڈاکٹر عامرطاسین کو گیارہ سال بعد پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کوفعال کرنے پر مبارکبا دی اور پیشکش کی کہ آئی بے اے کی اساتذہ تربیتی ورکشاب میں سرکاری ماڈل مدرسہ کے اہم اساتذہ کو شمولیت دی جائے گی تاکہ مدارس اور جدیدتعلیمی اداروں کے درمیان نہ صرف ہم آہنگی ورابطہ پیدا ہو سکے بلکہ تدریس کے نت طریقوں سے بھی واقفیت ہو سکیں۔ بعد ازاں چیمبر آف کامرس سکھر کے نائب صدر جاوید علی شیخ اور سابق صدر انجیئنرعبدالفتح شیخ ، پرنسپل پبلک اسکول علی گوہر ،مسلم لیگ ن کے صدر سرور لطیف سے بھی سے خصوصی ملاقات ہوئی اور پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور بتایا کہ پاکستان کے دینی مدارس بالخصوص سرکاری ماڈل مدارس میں اصلاحات کا عمل شروع کیا جا چکا ہے اور جلد ہی طلبہ و طالبات کوضرورت کے مطابق جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کمپیوٹر ،لینگویج اور ساتھ ہی مختلف فنی علوم کے کورسز بھی کرائے جائیں گے۔ ڈاکٹر عامر طاسین نے سکھر کے قدیم دینی درس گاہ جامعہ انوار العلوم ڈگری کالج کا بھی دورہ کیا اور مہتم اور اساتذہ سے ملاقات کی۔ دوران گفتگو اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کے دینی مدارس دینی علوم کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ قرآنی تعلیمات سے روشناس کرانا سب اہم ذمہ داری جسے احسن انداز میں ادا کر رہے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر