دریا پارکچہ کے 28مواضعات پر مشتمل 1لاکھ آبادی شناختی کارڈ سے محروم

دریا پارکچہ کے 28مواضعات پر مشتمل 1لاکھ آبادی شناختی کارڈ سے محروم

  

سیت پور (سٹی رپورٹر ) تحصیل علی پور کی8لاکھ آبادی کے لئے صرف ایک نادرا آفس،دریا پار کچہ کے28مواضعات پر مشتمل ایک لاکھ آبادی شناخت سے محروم تفصیل کے مطابق تحصیل علی پور کی آبادی 8لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اتنی بڑی آبادی کے لئے صرف ایک نادر ا آفس علی پور شہر میں موجود ہے ،علی پور کے دریائے سندھ کے پار کچہ کے علاقوں میں 28مواضعات خانواہ،کوٹری لعل ،نصرت پور ،دولت پور ،بھمبھڑی ،شاہ پور ،امیر پور ڈاہا ،بیٹ باغ (بقیہ نمبر23صفحہ7پر )

شاہ ،ٹھل مینگھراج ،بیٹ سونترہ ،چک داؤد ،ڈھاکہ ،بستی حاجی ،بیٹ عیسیٰ ،خیر پو ر پاڑہ ،محب شاہ ،بیٹ جھبیل ،بیٹ واگواڑ ،باقر شاہ جنوبی ،بیٹ پرارہ ،خانپور نہڑکا ،موضع چانڈیہ ،شاہ والی ،ٹبہ نور گوپانگ ،نہڑ والا ،موضع والوٹ ،کوہر پیراں اور موضع سوئی و دیگر کی آبادی تقریباََ ایک لاکھ سے زائد ہے ،ان علاقوں سے نادر ا آفس علی پور 50کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ،ان مواضعات کے باسیوں کو شناختی کارڈ کے حصول کے لئے دریائے سندھ عبور کرکے طویل مسافت کے بعدعلی پور پہنچنا ہو تا ہے جس کی بناء پر ان کا پورا دن آنے جانے میں ضائع ہو جاتا ہے اور نادرا آفس میں رش کی وجہ سے شام کو خالی لوٹ آتے ہیں ،ان 28مواضعات کے مکینوں راؤ افسر ،فخر جہاں خان لاشاری ،حاجی مظہر حسین کلاچی ،جام عطا محمد جھبیل ،سید عبدالقادر شاہ ،سید غلام قاسم شاہ ،سید جعفر حسین شاہ ،رائے خا ن محمد کھرل ،منیر خان گوپانگ ،سید نزاکت حسین ،سید سردار شاہ ،محمد اکرم قریشی ،رانا مقبول احمد ،غلام مصطفی مسن ،ملک غلام باقر ملانہ ،محمد اکرم خان گوپانگ ،ملک لعل نمبر دار ،عبدالخالق بوہڑ ،ناظم حسین عبدالرشیدودیگر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے سائنسی دور میں کسی بھی دفتر میں شناختی کارڈ کے بغیر کوئی کام نہیں ہو تا ،لوگوں کو بنک ،انتقال وراثت ،پاسپورٹ ،ووٹ کے استعمال و دیگر کاروباری معاملات میں شناختی کارڈ کی ضرورت پڑتی ہے ،شناختی کارڈ نہ ہونے کی بناء پر ہمیں دشواری اور پریشانی کا سامنا ہے ،حکمرانوں اور سیاستدانوں نے آج تک اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ نہ دی ،انہوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ علی پور کے دریا کچہ کے 28مواضعات میں ایک لاکھ سے زائد آبادی کے شناختی کارڈ بنانے کے لئے نادر ا موبائل ٹیمیں بھجوائیں جائیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -