لبیک الٰھم لبیک ،پوری دنیا سے مکہ مکرمہ پہنچنے والے لاکھوں فرزندان توحید منیٰ کی جانب گامزن،لاکھوں سفید خیمہ بستیاں آباد

لبیک الٰھم لبیک ،پوری دنیا سے مکہ مکرمہ پہنچنے والے لاکھوں فرزندان توحید ...
لبیک الٰھم لبیک ،پوری دنیا سے مکہ مکرمہ پہنچنے والے لاکھوں فرزندان توحید منیٰ کی جانب گامزن،لاکھوں سفید خیمہ بستیاں آباد

  


مکہ مکرمہ (مانیٹرنگ ڈیسک) آج سے ارکان حج کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، پوری دنیا سے مکہ مکرمہ پہنچنے والے لاکھوں فرزندان توحید منیٰ کی جانب گامزن ہیں۔ یہ عازمین حج کے پہلے رکن کی ادائیگی کے لئے سفید احرام میں ملبوس لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے منی پہنچ رہے ہیں، جب کہ حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ اتوار کو یعنی کل ادا کیا جائے گا اور حج کے امام مسجد نمرہ سے خطبہ حج ارشاد فرمائیں گے۔

منیٰ میں عازمین کے قیام کے لئے لاکھوں خیمے نصب کئے گئے ہیں،خیموں کی اس وادی میں لاکھوں عازمین حج آج یہاں قیام کریں گے اور ذکر واذکار اورعبادت وریاضت میں مصروف رہیں گے۔ یہ روح پرور عالمی اجتماع اسلام کے 5  بنیادی ارکان میں سے ایک ہے ، جو ہر اس مسلمانوں پر فرض ہے جو مالی وجسمانی طاقت رکھتا ہو۔ حج کے زیادہ تر ارکان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر مبنی ہیں۔ ایک طرف طواف کعبہ ہے تو دوسری طرف صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کو تیز گامی سے طے کرنا ہے ، جو کہ اماں ہاجرہ کی سنت ہے۔عازمین حج ہفتہ کو منی میں قیام کرنے کے بعد اتوار کوفجر کی نماز کے بعد میدان عرفات کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ 9ویں ذی الحجہ ( اتوار )کو وقوف عرفہ ہے ، جو حج کا  رکن اعظم ہے۔ یہاں ظہر اور عصر کی نماز ادا کی جائے گی اور عازمین بارگاہ ایزدی میں رو رو  اور گڑگڑا کر دعا مانگیں گے، اس کے بعد مغرب کے وقت مغرب کی نماز ادا کئے بغیر مزدلفہ کی جانب رواں دواں ہو جائیں گے۔ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا کی نماز یں ایک ساتھ پڑھیں گے اور رات بھر یہیں قیام کریں گے۔ عازمین حج یہیں کنکریاں جمع کریں گے اور اگلے دن 10 ذی الحجہ  (سوموار )کو بعد نماز فجر عازمین مزدلفہ سے منی کی جانب کوچ کریں گے۔ یہاں پہنچ کر وہ قربانی کریں گے ، بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں گے ، بال منڈوائیں گے اور اس کے بعد احرام کھول دیں گے، اس کے بعدعازمین حج  خانہ کعبہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کریں گے۔ اس طواف کو طواف افاضہ کہا جاتا ہے جو حج کے ارکان میں سے ہے۔

دریں اثنا، حج کے دوران سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔ سعودی حکومت نے انتباہ دیا ہے کہ یہاں کسی کو بھی شرپسندی کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ سعودی حکومت نے اس سال عازمین کے لئے خصوصی انتظامات کئے ہیں، تاحد نظر خیموں کے شہر آباد ہیں جبکہ مکہ آنے والوں کے لئے خصوصی پرمٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، سیکیورٹی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔سعودی ولی عہد وزیر داخلہ اور سپریم حج کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ محمد بن نائف نے خبردار کیا ہے کہ سعودی حکومت حج کی حرمت اور عازمین حج کی سکیورٹی کو متاثر کرنے والی کسی بھی سرگرمی اور حج کے اجتماع کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے اور اس موقع پر کسی قسم کی نعرے بازی یا مظاہرے کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نے عازمین حج کو بھی ہدایت کی کہ وہ سیاسی پروپیگنڈہ یا حج کی حرمت کو متاثر کرنے والی کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں۔ محکمہ پبلک سکیورٹی روزانہ ہیلی کاپٹروں اور ہوائی جہازوں کی 100پروازوں کے ذریعے شعار مقدسہ کی نگرانی کرکے صورتحال کا جائزہ لے گا۔سعودی وزارت صحت نے حاجیوں کو فوری طبی امداد مہیا کرنے کیلئےہیلپ لائن قائم کر دی ہے جس کا نمبر 937 ہے۔ کسی ایمرجنسی کی صورت میں حاجی اپنے موبائل سے کال یا ایس ایم ایس کر کے مدد طلب کر سکتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں