شام اورعراق کو مرکزی حکومتوں سے چلانا ممکن نہیں،تقسیم ہو سکتے ہیں،سی آئی اے کے چیف کا تہلکہ خیز انکشاف

شام اورعراق کو مرکزی حکومتوں سے چلانا ممکن نہیں،تقسیم ہو سکتے ہیں،سی آئی اے ...

واشنگٹن (اے پی پی) عرب دنیا کی کشیدگی میں ہونے والے مسلسل اضافے سے مشرق وسطیٰ اس وقت شدید بحران کا شکار ہے،دوسری جانب امریکہ نے عرب دنیا میں مزید تباہی پھیلنے کا خدشہ طاہر کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق  امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ جان برینن نے تہلکہ خیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام اور عراق تقسیم ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک کا مملکتی ڈھانچہ نا قابل تلافی حد تک برباد ہو چکا ہے ۔ہمیں ان کی علاقائی سالمیت کے بارے میں خدشات لا حق ہیں اور ہمارے اندازے کے مطابق دونوں ممالک کو ایک مرکزی حکومت سے چلانا نا ممکن ہو گا۔

9/11 سے ایک روز قبل امریکہ سے غائب ہونے والے 2300 ارب ڈالر کدھر گئے اور 9/11 حملوں سے اس رقم کا کیا تعلق تھا؟ تاریخ کے سب سے بڑے راز سے پردہ اُٹھ گیا، 9/11 حملوں کا پول کھل گیا

انہوں نے ویسٹ پوائنٹ فوجی اکیڈمی کیطرف سے نشریاتی ادارے سی ٹی سی سینٹی نل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہاشام اور عراق کو خونریزی اور جھڑپوں کیطرح مذہبی فرقہ وارانہ کشیدگی نے بھی سخت نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں ان ممالک میں خود مختار علاقے وجود میں آ سکتے ہیں۔ سی آئی اے کے سربراہ نے داعش کے خانہ جنگی کے شکار ملک یمن میں بھی داخلے کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ داعش نے یمن میں القائدہ سے وابستہ گروپوں کیساتھ اتحاد کر رکھا ہے۔

مزید : عرب دنیا