آلودگی کیس میں3 وفاقی سیکرٹریوں کی غیر حاضری پر برہمی ، گرفتار کر کے پیش کیا جائے: سپریم کورٹ

آلودگی کیس میں3 وفاقی سیکرٹریوں کی غیر حاضری پر برہمی ، گرفتار کر کے پیش کیا ...
آلودگی کیس میں3 وفاقی سیکرٹریوں کی غیر حاضری پر برہمی ، گرفتار کر کے پیش کیا جائے: سپریم کورٹ

  


کراچی (صباح نیوز) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ماحولیاتی اور سمندری آلودگی کے حوالہ سے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے وفاقی سیکرٹری خزانہ اور وفاقی سیکرٹری برائے ترقی و منصوبہ بندی اور سیکرٹری برائے پانی و بجلی کے پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو سیکرٹریز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں گے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری خزانہ کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ عدالت نے طلب کیا ہے۔

اس موقع پر عدالت نے کہا کہ ایس ایس پی اسلام آباد کو حکم دیتے ہیں کہ سیکرٹریز کو گرفتار کر کے پیش کریں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تمام سرکاری اداروں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کریں ورنہ نتائج کے لئے تیار رہیں۔ عدالت نے تینوں سیکرٹریز کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کر دیا اور مزید سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مسائل حل کرنے کے بجائے تمام ادارے ملبہ ایک دوسرے پرڈال دیتے ہیں اور بھگتنا عوام کو پڑتا ہے۔ عدالت نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور نکاسی آب کے منصوبے ایس تھری میں ٹال مٹول پر برہمی کا اظہارکیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ماحولیاتی اور سمندری آلودگی کا معاملہ 24 سال سے زیر التوا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومت پنگ پانگ کھیل رہی ہیں۔ مفاد عامہ کے مسائل بھی حل نہیں کئے جاتے۔

روزنامہ پاکستان کی تازہ ترین اور دلچسپ خبریں اپنے موبائل اور کمپیوٹر پر براہ راست حاصل کرنے کیلئے یہاں کلک کریں‎

چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ ایس تھری منصوبے کو ری ڈیزائن کرکے وفاق کو جون میں بھیجا گیا۔ معاملہ متعلقہ کمیٹی کی منظوری کے بعد ایک ماہ میں وزیراعظم کو بھجوایا جائے گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 24 سال سے معاملہ صرف کاغذوں پر ہے اور شہری گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ جبکہ کراچی کے اکثر علاقوں میں سیوریج کا ملا ہوا پانی ملتا ہے۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری طور پر منصوبے کو مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی۔

مزید : کراچی