اسرائیل کی سرحد پر بڑے حملے کی تیاری مکمل، کون یہ کام کرنے والا ہے؟ ایرانی فوج نہیں بلکہ ایسی طاقت میدان میں آگئی کہ اسرائیل نے سوچا بھی نہ تھا

اسرائیل کی سرحد پر بڑے حملے کی تیاری مکمل، کون یہ کام کرنے والا ہے؟ ایرانی ...
اسرائیل کی سرحد پر بڑے حملے کی تیاری مکمل، کون یہ کام کرنے والا ہے؟ ایرانی فوج نہیں بلکہ ایسی طاقت میدان میں آگئی کہ اسرائیل نے سوچا بھی نہ تھا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل جنگ سے تباہ حال ملک شام کا ہمسایہ ہونے کے باوجوداب تک خود کو اس آگ کی لپیٹ سے بچائے ہوئے تھا لیکن اب اس کے لیے ہولناک خبر آ گئی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش اسرائیل پر بڑے حملے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں داعش نے مصر کے صحرائے سینا میں اسلحہ و گولہ بارود جمع کرنا شروع کر رکھا ہے۔رپورٹ کے مطابق داعش شام سے اسلحہ اور میزائل وغیرہ چوری کرکے اس صحرا میں اکٹھے کر رہی ہے جسے ممکنہ طور پر اسرائیل پر حملے میں استعمال کیا جائے گا۔

’تیسری جنگ عظیم اس جگہ سے شروع ہوگی‘ بڑی پیشنگوئی منظرعام پر، جان کر پاکستانیوں کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ داعش اب تک ان کے شمالی بارڈر کے ساتھ 50سے زائد میزائل لا چکی ہے جو ممکنہ طور پر ان کے خلاف استعمال کیے جائیں گے۔اسرائیلی فوجی آفیسر کادی ٹیلیگراف سے گفتگو میں کہنا تھا کہ داعش کے شدت پسند شامی فوج سے ایک ایم60ٹینک اور 3روسی ساختہ کورنیٹ میزائل بھی چھین کر صحرائے سینا میں لا چکی ہے۔ داعش آج، کل یا کسی بھی وقت اسرائیل پر حملہ کر سکتی ہے۔ اگلے 6ماہ اس حوالے سے بہت اہم ہیں۔ ان چھ مہینوں کے اندر اندر وہ اسرائیل پر بڑا حملہ کریں گے۔“رپورٹ کے مطابق اگر داعش کے اسرائیل پر حملہ کرنے کی یہ خبر درست ثابت ہوتی ہے تو 2012ءکے بعد یہ پہلا حملہ ہو گا جو شدت پسند تنظیم داعش اسرائیل پر کرے گی۔اسرائیلی فوج بھی اس ممکنہ حملے میں داعش کے خلاف لڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل 2012ءمیں داعش نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت یہ شدت پسند تنظیم ”انصار بیت المقدس“ کے نام سے معروف تھی اور القاعدہ سے منسلک تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -