لڑکی کی برہنہ تصویر فیس بک نے ڈیلیٹ کی تو دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیا، مجبوراً واپس لگانا پڑگئی، آخر اس میں ایسی کیا انتہائی خاص بات ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

لڑکی کی برہنہ تصویر فیس بک نے ڈیلیٹ کی تو دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیا، مجبوراً ...
لڑکی کی برہنہ تصویر فیس بک نے ڈیلیٹ کی تو دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیا، مجبوراً واپس لگانا پڑگئی، آخر اس میں ایسی کیا انتہائی خاص بات ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) فیس بک نے اپنے کمیونٹی سٹینڈرڈز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نارویجن مصنف کی شیئر کی گئی برہنہ لڑکی کی تصویر ویب سائٹ سے ہٹا دی اور اس مصنف کا اکاﺅنٹ بھی بلاک کر دیا، لیکن فیس بک کے اس اقدام پر دنیا میں ایسا ہنگامہ برپا ہواکہ ناروے کی وزیراعظم ایرنا سولبرگ کو بھی فیس بک کے خلاف میدان میں اترنا پڑ گیا اور نتیجتاً فیس بک کو وہ تصویر واپس لگانی پڑ گئی۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ تصویر ناروے کے مصنف ٹام ایجلینڈ نے شیئر کی تھی، اور یہ 1972ءمیں لڑی جانے والی ویت نام جنگ کے دوران بنائی گئی تھی۔ تصویر میں چند بچوں کو دکھایا گیا ہے جو نیپام کیمیکل بم کے دھماکے سے بچنے کے لیے ایک طرف بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ ان میں ایک 9سالہ بچی برہنہ ہوتی ہے۔ ان بچوں کے چہروں پر آنسو عیاں ہوتے ہیں اور وہ روتے ہوئے سرپٹ بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ تصویر میں ایک بچی اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھامے ہوئے دوڑ رہی ہوتی ہے۔ غرض یہ تصویر کسی بھی جنگ کی ہولناکی اور تباہ کاری کو کلی طور پر واضح کرتی ہے۔

ظلم کا حساب دینے کا وقت آگیا! اسرائیل کے خلاف وہ کام ہوگیا کہ اس نے کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچا ہوگا، مسلمانوں کو بڑی کامیابی مل گئی

رپورٹ کے مطابق جب فیس بک نے ایجلینڈ کی اس تصویر کی حامل پوسٹ ہٹائی تو نارے کے اخبار Aftenposten یہ معاملہ اپنی رپورٹ میں شائع کر دیا۔ اس پر ناروے کی وزیراعظم ایرنا سولبرگ نے بھی یہ تصویر شیئر کر دی اور فیس بک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ایڈیٹنگ پالیسی پر نظرثانی کرے لیکن فیس بک نے ایرنا سولبرگ کی یہ پوسٹ بھی ہٹا دی۔ اس پر دنیا بھر سے شدید ردعمل سامنے آیا اور صارفین نے لاکھوں کی تعداد میں اس تصویر کو پوسٹ کرنا شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ ایجلینڈ کا اکاﺅنٹ بحال کرتے ہوئے اس کی وال پر دوبارہ یہ پوسٹ واپس لائی جائے۔ مجبوراً فیس بک کو ایجلینڈ کا اکاﺅنٹ بھی بحال کرنا پڑا اور جتنے اکاﺅنٹس سے اس نے یہ تصویر ہٹائی تھی وہ بھی واپس لگانی پڑی۔ ایرنا سولبرگ نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”یہ اچھی بات ہے کہ فیس بک کمیونٹی کو اس طرح کے مواد سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتا ہے لیکن اس تصویر کا معاملہ کچھ اور ہے۔ فیس بک کو اس کی تاریخی اہمیت سمجھنی چاہیے اور اسے واپس لگانا چاہیے۔“اس پر فیس بک کی طرف سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا۔ بیان میں کمپنی کا کہنا تھا کہ ”عمومی طور پر کسی بچے کی برہنہ تصویر ہماری پالیسی کی خلاف ورزی ہے لیکن اس تصویر کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اسے واپس صارفین کی والز پر لگایا جا رہا ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -