سعودی عرب میں لڑکیوں کے گھر سے بھاگ جانے کی سب سے بڑی وجہ تحقیق میں سامنے آگئی، ایسی وجہ کہ اب تک کسی نے سوچا بھی نہ تھا

سعودی عرب میں لڑکیوں کے گھر سے بھاگ جانے کی سب سے بڑی وجہ تحقیق میں سامنے ...
سعودی عرب میں لڑکیوں کے گھر سے بھاگ جانے کی سب سے بڑی وجہ تحقیق میں سامنے آگئی، ایسی وجہ کہ اب تک کسی نے سوچا بھی نہ تھا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) نوعمر سعودی لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کا مسئلہ اس قدر تشویشناک صورت اختیار کرگیا ہے کہ حکومت کو اس کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیق کرنا پڑ گئی، جس کے چشم کشا نتائج اب سامنے آگئے ہیں۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزارت محنت و سماجی ترقی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال 1750 لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کے کیسز کا اندراج کیا گیا، جن میں سے 67 فیصد غیر ملکی تھیں۔ گھر سے بھاگنے والی 65 فیصد لڑکیاں نو عمر تھیں۔ سب سے زیادہ فرار کے واقعات جدہ اور مکہ میں پیش آئے جہاں ان کی تعداد 82 فیصد تھی۔ گھر سے بھاگنے کے سب سے کم واقعات ریاض اور مشرقی صوبے میں پیش آئے جہاں ان کی شرح 18 فیصد رہی۔

”جہاں بھی کسی غیر ملکی کو یہ کام کرتے دیکھو تو فوراً اس نمبر پر کال کرو“ سعودی عرب نے شہریوں کو ہدایت دے دی، ملک میں مقیم غیر ملکیوں کو مزید پریشان کردیا

امام یونیورسٹی کے پروفیسر آف سوشیالوجی ڈاکٹر عبداللہ عبدالعزیز الیوسف کا کہنا تھا کہ سعودی لڑکیوں کے گھروں سے بھاگنے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سوشل میڈیا کا استعمال، گھریلو تشدد، والدین کی عدم توجہی اور غیر ملکی کلچر کی محبت سرفہرست ہیں۔ بری صحبت اور عمر رسیدہ افراد سے شادی کو بھی لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ گھر سے بھاگنے والی اکثر لڑکیاں سکول اور کالج کی عمر کی ہیں، جن میں سے 86 فیصد سے زائد غیر شادی شدہ ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -