قرآن سے شادی اوربگڑی ہوئی عورتیں

قرآن سے شادی اوربگڑی ہوئی عورتیں
قرآن سے شادی اوربگڑی ہوئی عورتیں

  


عندلیب مصطفے ایڈووکیٹ

گزرنے والا ہر دن اپنے ساتھ بہت سی تلخیاں، تجربے اور انمٹ حقیقتیں دے کر جاتا ہے ۔وکالت کے پیشے میں بھی ہر روز کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کے لئے ضرور ہوتا ہے۔ وکالت کا پیشہ ایک لحاظ سے عشق حقیقی تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر اسے سچائی ، دیانتداری اور محبت سے نبھایا جائے تو....

مجھے یاد ہے بچپن میں اگر یہ معلوم ہو جاتا کہ کسی نے چوری کی یا جھوٹ بولا ہے تو اس بچے سے نفرت ہونے لگتی تھی۔ اس کے ساتھ مل کر کھیلنے کو دل نہیں کرتا تھا۔ یہ احساس ہر وقت رہتا تھا کہ یہ گندا بچہ ہے۔ جب اس پیشے سے منسلک ہونے کے بعد زندگی کی تلخ حقیقتیں واضح ہوئیں اور اس کے بدنما رنگ عیاں ہوئے تو ایک لمحے کے لئے تو ان سب مجرم صفت لوگوں سے نفرت ہونے لگی۔ اپنا آپ بہتر اور برتر لگنے لگا اورکہیں یہ احساس برتری غالب ہونے لگا کہ ہم تو بہت لوگوں سے بہتر ہیں۔

ایسے میں ایک روز اچانک سے دل میں کہیں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ تیرا ربّ کتنا عظیم ہے کہ وہ ان سب گناہ گار اور سیاہ کار بندوں سے بھی محبت کرتا ہے ۔ ان کے کالے کرتوتوں کے باوجود بھی انہیں نوازتا ہے اور پھر بھی انہیں موقع دیتا ہے کہ یہ توبہ کر لیں اور وقت نزع تک یہ موقع دیتا ہے اور اگر کوئی سچے دل سے توبہ کر لے تو اسے قبول کر لیتا ہے۔ اس سوچ نے میرے سوچنے کا انداز ہی بدل دیا اور مجھے سمجھ میں آیا کہ وکیل کے لئے اس کا یہ پیشہ عشق حقیقی تک رسائی کا ذریعہ ہے مگر افسوس کہ اب ایسے وکلاءکی تعداد بہت قلیل ہے ۔شاید آٹے میں نمک کے برابر۔ اب تو بس رویپہ پیسہ ہی بہت سے وکلاءکا ایمان اور قانون ہے۔

ایک روز ایک لڑکی جو کہ تقریباً18یا 19سال کی ہوگی میرے آفس میں آئی۔ اس کے ساتھ اسکی بہن تھی۔ لڑکی کافی گھبرائی ہوئی اور سہمی ہوئی تھی۔ لڑکی کی بہن نے مجھے بتایا کہ یہ اس کی چھوٹی بہن ہے۔ ان کے بھائیوں نے جائیداد ہتھیانے کے لئے اس لڑکی کی شادی قرآن پاک سے کروا رکھی ہے۔ جبکہ یہ لڑکی کسی کو پسند کرتی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ گو کہ میں نے یہ سن رکھا تھا کہ کچھ لوگ قرآن پاک سے شادی کروا کر بہنوں کو جائیداد سے محروم کر دیتے ہیں مگر آج پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ رہی تھی کہ سگے بھائی بھی اس قدر سفاکی اور درندگی کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ وہ لڑکی زاروقطار رو رہی تھی میں نے اس کی ڈھارس بندھائی اور اسے سمجھایا کہ وہ اس مسئلے سے جلد نکل آئے گی بلکہ اس کے بھائیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرکے اسے انصاف دلایا جائے گا۔

میں نے ان دونوں بہنوں کو سمجھایا کہ انہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے کہ قرآن پاک اللہ کی وہ مقدس کتاب ہے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کی گئی۔ جو روز قیامت تک ہمارے لئے ہدایت اور رہنمائی کا سر چشمہ ہے مگر قرآن پاک کے ساتھ نکاح.... بالکل غیر شرعی ہے ، گناہ ہے۔ قانون میں پاکستان پینل کوڈ کے زیر دفعہ498Cکے تحت کوئی بھی ایسا شخص جو اپنی شادی کروانے کے لئے مجبور کرے یا موجب بنے اسے کم از کم تین سال قید اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور جرمانہ کی سزا سنائی جائے گی۔

عموماً یہ جرم وہی لوگ کرتے ہیں جو بہنوں کے وراثتی حق کو تسلیم نہیں کرتے اور انہیں جائیداد سے دور رکھنے کے لئے ایسے حربے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ تمام عمر اُن کی دہلیز پر بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جائیں اور وہ عیاشی کریں۔ معاشرے میں بگاڑ کی اصل وجہ ہی حرص اور طمع ہے۔ خود غرضی اور لالچ نے خونی رشتوں کو بھی نہیں بخشا یہ ہی وجہ ہے کہ معاشرہ دن بدن پستی کی طرف جا رہا ہے۔

مرد اکیلے معاشرے کے بگاڑ کا باعث نہیں ہیں۔ عورتیں بھی اب کسی سے کم نہیں۔ خواتین اس قدر بے راہ روی کا شکار ہو گئی ہیں کہ اب ان کا سدھرنا ناممکن لگتا ہے۔ پچھلے روز ایک خاتون سے ملاقات ہوئی جس نے پہلے شوہر کے ہوتے ہوئے کئی اور مردوں سے شادی کر رکھی تھی گو کہ وہ شادی تو نہیں کہی جا سکتی البتہ ناجائز تعلقات کے زمرے میں ضرور آسکتی ہے۔ اس کے شوہر نے پاکستان پینل کوڈ کے زیر دفعہ 494کے تحت اس پر کیس کر رکھا تھا جس کی رو سے پہلے شوہر کی موجودگی میں دوسری شادی بنا طلاق لئے کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ جس میں سات سال تک سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔لیکن جو عادی ہوچکے ہوں وہ لوگ قانون کی پرواہ نہیں کرتے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ قانون تو ایسی عورت کو جرمانہ یا سزا دے دے گا مگر وہ اپنے ضمیر کو کیسے مطمئن کرے گی۔ ضمیرکی عدالت جب ایک مرتبہ لگتی ہے تو پھر کوئی وکیل یا جج اس سے بری نہیں کروا سکتا۔ وہاں عمر بھر سے کم سزا کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بڑے بڑے سفاک اور ظالم لوگ ضمیر کی عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے بعد سسک سسک کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں مگر پھر انہیں نہ معافی ملتی ہے اور نہ رہائی۔

قرآن سے نکاح پاکستان کے آئین اور قانون کی رو سے بالکل غیر قانونی ہے ۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کا باضابطہ طور پر نکاح حضرت علی ؓ سے کیا۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کسی بھی ایسے رواج کا قائل نہیں ہے ۔ یہ سراسر غیر شرعی ہے جبکہ کوئی عورت بھی اپنے پہلے شوہر سے طلاق لئے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتی۔ قانون میں ایسی شادی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی عورت یقینی طور پر سزا کی حقدار ہے۔

مزید : بلاگ