گفتار کے ساتھ کردار کا غازی ہونا بھی ضروری ,عمران خان کے ٹارگٹ بدلتے رہتے لیکن اصل ہدف وزیراعظم کی کرسی ہے:راجہ اشفاق سرور

گفتار کے ساتھ کردار کا غازی ہونا بھی ضروری ,عمران خان کے ٹارگٹ بدلتے رہتے ...
گفتار کے ساتھ کردار کا غازی ہونا بھی ضروری ,عمران خان کے ٹارگٹ بدلتے رہتے لیکن اصل ہدف وزیراعظم کی کرسی ہے:راجہ اشفاق سرور

  

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) پنجاب کے جنرل سیکریٹری ا ور صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور نے کہا ہے کہ عمران خان کے ٹارگٹ بدلتے رہتے ہیں لیکن ان کا اصل ہدف وزیراعظم کی کرسی ہے جس کے نہ ملنے پرمجھے ان سے ہمدردی ہے، وہ اگر چاہیں تو میں انہیں اپنی جیب سے شیروانی سلوا کر دے سکتا ہوں، وہ شیروانی پہن کر جہاں سے گزریں، لوگوں سے کہیں کہ انہیں وزیراعظم کہنا شروع کردیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے راجہ اشفاق سرور کا کہنا تھا کہ گفتار کے غازی کے ساتھ کردار کا غازی ہونا بھی ضروری ہے،بھارت میں مسلم کش فسادات کرانے والوں کے ہاں جاکر دعوتیں اڑانے والوں کو پوری امت مسلمہ جانتی ہے،کینیڈا کی وفاداری کا حلف اٹھانے والے پاکستان کے وفادار کیسے ہوسکتے ہیں؟ چور دروازوں ، دھرنوں اور جھوٹے الزامات سے عزت نہیں ملتی، آج عمران خان کون سے احتساب کی بات کررہے ہیں؟ پہلے وہ اپنے دائیں بائیں کھڑے جہانگیر ترین کا احتساب کرکے کروڑوں روپے کے قرضے واپس جمع کروائیں اور علیم خان سے قبضے واگذار کرکے لوگوں کی زمینیں واپس کروائیں پھر کسی احتساب کی بات کریں۔ راجہ اشفاق سرور نے کہا کہ وہ کون سی تبدیلی اور احتساب کی بات کرتے ہیں؟ کیا اسی خیبرپختونخوا میں احتساب سیل کے چیئرمین کو کرپشن بے نقاب کرنے پر ہٹایا نہیں گیا؟کیا ایک وزیر نے پولیس کی موجودگی میں انتخابی ڈبے نہیں اٹھائے؟

مزید :

راولپنڈی -