”ہم امن کیلئے تیار ہیں“افغان حکومت اور حزب اسلامی کے مابین امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق

”ہم امن کیلئے تیار ہیں“افغان حکومت اور حزب اسلامی کے مابین امن معاہدے کے ...
”ہم امن کیلئے تیار ہیں“افغان حکومت اور حزب اسلامی کے مابین امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق

  


کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغان حکومت اور افغان جہاد کے کمانڈر گلبدین حکمت یار کے گروپ حزب اسلامی کے مابین امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس پر دونوں جانب سے جلد دستخط کرنے کی امید ہے۔

بی بی سی کے مطابق حزب اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ امین کریم نے کہا ہے کہ افغان حکومت اور حزبِ اسلامی کے درمیان جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں،امین کریم کے بقول امن معاہدے کی جن چند شقوں پر اختلاف تھا اب وہ حل کر لیاگیا ہے اور امید ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں اس معاہدے پر دونوں فریق دستخط کر دیں گے۔

افغان حکومت اور حزبِ اسلامی کے مابین ہونے والے معاہدے کی شقیں ابھی واضح نہیں ہیں، تاہم مذاکرات میں جن شقوں پر بات چیت ہوئی ہے اس میں غیرملکی افواج کی افغانستان میں موجوگی بھی شامل ہے،حزبِ اسلامی کا درینہ موقف رہا ہے کہ غیرملکی افواج افغانستان سے نکل جائیں۔اس حوالے سے جب امین کریم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے اور یہ بات طے ہوگئی ہے کہ کب تک غیر ملکی افواج ملک میں رہیں گی۔

یورپی ملک میں حاملہ مسلمان لڑکی کے پیٹ پر شہریوں کا لاتوں سے حملہ، خوفناک حرکت کی وجہ ایسی شرمناک کہ جان کر کسی بھی مسلمان کو غصہ آجائے

امین کریم نے مزید بتایا کہ معاہدے کے بعد افغان صدر اور گلبدین حکمت یار کے مابین ہونے والی پہلی ملاقات کے ایجنڈے میں بھی یہ مسئلہ شامل ہوگا۔

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو افغان حکومت کے مخالف ایک مسلح گروہ پر امن ہو جائے گا جس سے حکومت مخالف مسلح کارروائیوں میں کچھ کمی آئے گی، اگرچہ حزبِ اسلامی کے جنگجوو¿ں کی تعداد بہت کم ہے لیکن اس معاہدے کی سیاسی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ ملک میں امن کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی