ہمارے بعد اندھیرا نہیں ، اُجالا ہے

ہمارے بعد اندھیرا نہیں ، اُجالا ہے
 ہمارے بعد اندھیرا نہیں ، اُجالا ہے

  

بدھ کو گھر کی بجلی اگر بارہ گھنٹے بند رہی تو بارشوں کے موسم میں تو یہ کوئی ایسی بڑی خبر نہیں کہ آدمی اِس پہ کالم لکھنے بیٹھ جائے ۔ لکھنے کا جواز تو کسی اور زاویے سے پیدا ہوا ۔ یہی کہ بارہ گھنٹے بند رہنے والی بجلی چوبیس یا چھتیس گھنٹے بند رہے تو اُس صورت میں بھی عمران خان ، مفتی پوپلزئی یا مَیں کسی کا کیا بگاڑ سکتے ہیں ۔

جب جنرل ایوب کے مارشل لا کے بعد روزنامہ پاکستان ٹائمز اور امروز کے دفاتر پہ قبضہ کیا گیا تو چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض نے اشاعتی ادارے کے سربراہ میاں افتخار الدین کو یہی کہہ کر تسلی دی تھی کہ ’’میاں صاحب ، صورتحال اِس سے بدتر بھی ہو سکتی تھی‘‘ ۔ میرے حالات یوں قابلِ برداشت رہے کہ ایک تو بارش کی وجہ سے حدت ویسے ہی کم تھی ، دوسرے ذوالحج کی چودہ کا پورا چاند ۔ باغیچے میں آنکھ مُٹکا شروع ہونے کی دیر تھی کہ بیچ میں سے لیسکو شیسکو سبھی غائب ہو گئے۔

بات کو عام فہم بنانے کی خاطر مَیں نے بارہ گھنٹے کی روئداد کو مختصر کر دیا ہے ۔ وگرنہ اُس طوفانی بارش میں درختوں کو لرزتے دیکھا تو دن کے اوقات میں بھی خوف محسوس ہوا تھا ۔ بیگم کو فون کیا کہ گلبرگ کے علاقہ میں سگنل فری بلیوارڈ کو چھوڑ کر ہر طرف پانی ہی پانی ہو گا ، اِس لئے انتظار کریں اور اسکول سے جلد واپسی کا خطرہ مول نہ لیں ۔ اِس دوران گھر کی بجلی بند ہو گئی اور وائی فائی نے کام کرنا چھوڑ دیا تو تجسس ہوا کہ دیکھیں آج مصروفیات کی شکل کیا بنتی ہے ۔ چنانچہ سہ پہر کو مینہ تھمتے ہی موبائل کی گھنٹی جو بجی تو یاروں کے یار اسلم ڈوگر ۔ ’’ ماڈل ٹاؤن پارک کے لئے تیار رہیں ، وہاں اینٹوں والی سڑک پہ کیچڑ نہیں ہوتی‘‘ ۔ مَیں سمجھ گیا کہ واک کے بہانے ڈوگر کو بڑی چھتریوں والی کینٹین کی چائے بُلا رہی ہے جس میں وہ حسبِ چسکا ذرا سی کافی بھی ڈلوا لیا کرتے ہیں ۔

اُس شام گرم مشروب کے اولین گھونٹ پر مَیں نے پہلے تو سرخوشی میں ’ہائے‘ کہا اور پھر درخت کی ٹہنیوں کے نیچے سے اشارہ کیا ’’ڈاکٹر صاحب ، اوہ ویکھو چن‘‘ ۔ سبحان اللہ ۔ دونوں بیک وقت سوچ رہے تھے کہ آج کافی کی خوشبو نے چاندنی کی پرتوں سے شناسائی کو کتنا سہل بنا دیا ہے ۔ لو جی ، ہُن موبائل دی گھنٹی فیر وجدی اے ۔ ’’آپ کو پتا ہے کہ گھر کی بجلی صبح ساڑھے گیارہ سے بند ہے اور اِس وقت رات کے ساڑھے آٹھ بجے ہیں ‘‘ ۔ ’’بھئی سب کے ساتھ گئی ہے ، سب کے ساتھ ہی آئے گی ‘‘۔ ’’جی نہیں ، صرف ہمارا اور کچھ فاصلے پر تین اور گھروں کا مسئلہ ہے ، باقی سب کی آ گئی ہے‘‘ ۔ جب پوچھا کہ اور گھر کون سے ہیں تو پتا چلا کہ ایک تو ٹرسٹ اسکول کے بانی ، دوسرے ایک سابق وزیر اور تیسرے ریٹائرڈ کیبنٹ سیکرٹری ۔ خیال آیا چلو ، بڑے آدمیوں سے قربت تو نکل آئی ۔

پر ، جناب ، قربت کا امتحان تو گھر پہنچ کر شروع ہوا جب ہمارے پرانے خدمتگار حفیظ خان نے طعنہ دیا کہ ’’ایتھے صرف ڈی آئی جی صاحب دی پاور کم کردی اے ‘‘ ۔ اِس سے پہلے اسلم ڈوگر میری خاطر ذاتی تعلق والے ایک افسر کو فون کر چکے تھے ۔ ڈوگر صاحب نے ایک نہائت جہاندیدہ سپرنٹنڈنٹ پولیس سے یہ سبق سیکھ رکھا ہے کہ خراب حالات میں اپنی جان پہچان کے ہر آدمی سے رابطہ کر کے یہی کہو کہ سر ، کچھ ہو جائے میرا کام آپ ہی کرائیں گے ۔

مزید یہ کہ کسی بھی وسیلے سے کام ہو جانے پر الگ الگ کال کر کے سب کا شکریہ ادا کر و تاکہ بچ جانے والی سفارشوں کو آئندہ بروئے کار لایا جا سکے ۔ پانی و بجلی کے ضمن میں ، مجھ سے اِن ہدایات پہ کبھی عملدرآمد نہیں ہو ا ۔ یہی وجہ ہے کہ اخبار بزنس ریکارڈر کی چیف رپورٹری کے زمانے میں دفتر کی بجلی کا حیران کن بِل دیکھا تو سفارش کی بجائے واپڈا کے جی ایم پبلک ریلشنز ، کیپٹن ارشد کی خدمت میں ایک ہجو روانہ کردی تھی ۔ تین شعر یاد ہیں:

کُرسیاں میزیں بچھیِں تزئینِ دفتر کے لئے

تار بھی موٹے لگا ترسیلِ پاور کے لئے

یو پی ایس حاصل کیا ہے گر تو جنریٹر بھی لا

ایک گھر کے واسطے ہو ، ایک دفتر کے لئے

میری معروضات پر کپتان ارشد نے کہا

’’بجلی گھر اپنا لگا بزنس ریکارڈر کے لئے‘‘

یہ تُک بندی اپنی جگہ ، لیکن کیپٹن ارشد کے موجودہ جانشین بھی طوفانی بارش کی رات دیر تک آفس میں موجود تھے ۔ ساتھ ساتھ اپنے سوالی کی ہمت افزائی کے لئے یہ بھی بتاتے رہے کہ طوفانی بارش اور آندھی کی وجہ سے کہاں کہاں نقصان ہوا ہے اور کِس کِس فیڈر کی مرمت کتنی دیر میں مکمل ہو گی ۔ مجھے ماڈل ٹاؤن پارک سے گھر پہنچا دینے کے بعد اسلم ڈوگر صاحب بھی فون پر میری عیادت کرتے رہے اور مَیں ہر مرتبہ جواب میں کہتا رہا کہ بجلی تو ٹھیک ہو جائے گی مگر مجھے کوئی خاص دِقت نہیں ۔ دِقت کیوں نہیں تھی ؟ بنیادی طور پر اِس لئے کہ دو دوست جن سے ملنے کا پروگرام بارش و بجلی کے ہنگاموں میں میرے ذہن سے محو ہو گیا ، شہر کی دو متضاد سمتوں سے وعدے کے عین مطابق آ پہنچے ۔ اُن کی موجودگی میں چاند کے ساتھ آنکھ مُٹکا پھر سے ہونے لگا ، مگر ماڈل ٹاؤن کے مقابلے میں ذرا اہتمام سے ۔

اہتمام کا پہلو یہ کہ گھر کے باغیچے میں ، جہاں کار کھڑی کر دو تو باغیچہ ’قیں‘ ہو جاتا ہے ، گاڑی گیٹ سے باہر نکال کے مہمانوں کو بٹھانے کی گنجائش پیدا کر لی ۔ پھر ، اِس خیال سے کہ اندھیرے کمرے میں اُن کے لئے گرمی کا احساس بڑھ جائے گا ، بید کا ایک ہلکا پھلکا صوفہ سیٹ جو چھیاسٹھ سال پہلے میری ماں کو اِسی لاہور شہر میں جہیز میں ملا تھا ، لا کر ڈرائیو وے پہ بچھا دیا ۔ پہلے پیالیوں میں بنی بنائی چائے آئی ۔ اُس کے بعد پلیٹوں میں ڈلا ڈلایا سادہ کھانا جیسا کہ ہمارے بچپن میں گردو و پیش کے لوگ کھاتے تھے ۔ اللہ اللہ خیر صلا ۔ بھئی ، وہ سواد آیا کہ مَیں تو اے سی ، وے سی کی خرافات کو بھول ہی گیا ۔ نظر میں بچپن کا وہ آبائی علاقہ گھومنے لگا جہاں انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں بھی کم از کم نصف محلہ میں بجلی نہیں تھی اور پانی تو اکثر پڑوسنیں ہمارے ہی گھر سے بھرا کرتیں ۔

ذرا ملاحظہ کیجئے ۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہیں ۔ صبح گیارہ بجے تک دوپہر کے لئے کھانا پک چکا ہے ۔ ابھی اجتماعی تندور والی ماسی نے لکڑیوں کو آگ نہیں دکھائی ۔ اتنے میں بریکنگ نیوز آتی ہے کہ نلکے پانی آ گیا جے ۔ شہر کی سب سے بڑی ٹینکی ، جسے اہلِ سیالکوٹ ٹانچی کہتے ہیں ، ہمارے گھر سے کوئی سو میٹر کے فاصلے پہ ہو گی ۔ لبالب بھر جانے پر پانی اوور فلو کرنے لگتا ہے ، جس کی بدولت ٹبہ ٹانچی اور ٹبہ سیداں کی پہاڑی نما گلیاں ہر روز نئے سرے سے دھُل جاتی ہیں ۔

ٹانچی کے بالکل نیچے ، پھر مسجد بابا اعظم سے کچھ ہٹ کر اور دھنیا پیاز والے شاہ جی کے مکان سے آگے میونسپل کمیٹی کے نل لگے ہوئے ہیں ۔ یہیں سے ماشکی پانی بھر کر اکثر گھروں میں پہنچاتے ہیں جہاں پاکستان بن جانے کے بعد بھی براہِ راست آب رسانی کی سہولت نہیں ۔ ہاں ، پڑوسی خواتین ہمارے صحن سے یوں پانی بھرتی ہیں جیسے یہ اُن کا اپنا گھر ہو ۔

ہر روز آنے والوں میں اول نمبر پہ کبری ، بڑی بہن صغری ، ساتھ والی فرخندہ جسے سب کھندہ کہتے ہیں اور بھائی اللہ رکھا کی کاکی ، جو غربت کے ناطے سے نام کی شناخت ہی سے محروم ہے ۔ گھروں میں اندر سے کُنڈی چڑھانے کا تو رواج ہی نہیں تھا ۔ اِس لئے پانی بھرنے والی پڑوسنیں نہائت بے تکلفی مگر تمیز کے ساتھ ڈیوڑھی اور ملحقہ صحن میں داخل ہوتیں ۔ ہماری دادی سے ، جو سارے محلہ کی بی جی تھیں ، خوشدلی سے علیک سلیک ہوتی اور تازہ معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ۔ اِس فرق کا کوئی شائبہ نہیں تھا کہ گھر کِس کا ہے اور پانی کون بھر رہا ہے ۔ جھجھر اور بالٹی بھرنے میں احتیاط اتنی کہ مجال ہے پانی کا ایک قطرہ صحن میں گِر جائے ۔ اِس سارے عمل کے دوران مَیں نے ہر کسی کو دھیمے لہجہ میں بات کرتے سنا ۔ غصے میں بولنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا ۔

تو کیا ہمارے محلہ میں سندھ طاس کے معاہدہ کی طرح برقی تقسیم کا بھی کوئی سمجھوتہ تھا ؟ جواب ہے کہ نہ تو بجلی وافر تھی ، نہ اِس کی ضرورت محسوس ہوتی تھی ۔ سامنے کی گلی پہ نظر ڈالوں تو پروفیسر مجید کے سوا ، جن کی والدہ مائی جیونی نمازِ جمعہ میں خواتین کی امامت کرتیں ، کسی گھر میں ’آنڈہ‘ جلتے نہ دیکھا ۔ بائیں طرف برگد کا درخت سارے باسیوں پہ یکساں مہربان تھا اور دائیں جانب عباس ، عابد ، خالد ، اِس سے آگے مولوی فاضل ، شِیر فروش عبداللہ ، سبھی گھروں میں لالٹینیں روشن ہوتیں یا دِیے ۔ تو اِنہیں گرمی نہیں لگتی تھی ؟ اللہ کی قسم نہیں لگتی تھی ۔ لکڑی کی چھتیں تھیں اور مٹی کی لپائی ۔ رات کو کوٹھے پہ سوتے ۔

صبح صبح چڑیوں ، طوطوں کے ساتھ آنکھ کھُل جاتی اور طبیعت شاد باد منزلِ مراد ۔ آئیے ایک روز پھر کر کے دیکھیں اور ماڈرن زندگی سے تائب ہو کر دن بھر ظہیر کاشمیری کا یہ شعر گنگناتے پھریں :

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

مزید : کالم