کرپشن فری پاکستان کا خواب

کرپشن فری پاکستان کا خواب
 کرپشن فری پاکستان کا خواب

  

اچھی بات ہے کہ اب کرپشن فری پاکستان کی باتیں ہونے لگی ہیں۔۔۔ 6ستمبر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کہا کہ ہم آنے والی نسلوں کو پُر امن اور کرپشن سے پاک پاکستان دینا چاہتے ہیں۔ تقریباً ہر سیاسی رہنما بھی آج کل یہی کہہ رہا ہے کہ ملک میں سب کا احتساب ہونا چاہئے اور کرپشن فری پاکستان ہماری ضرورت ہے۔ یہ ایک نیک شگون ہے۔ اب یہ بحث انجام کو پہنچ رہی ہے کہ سیاستدانوں کا احتساب ہوتا ہے تو باقی شعبوں کے افراد کا کیوں نہیں ہوتا، خاص طور پر لوگ جرنیلوں کی طرف انگلی اٹھاتے تھے کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، وہ جو چاہیں کریں، مگر اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس عزم کے بعد کہ ہم کرپشن سے پاک پاکستان دینا چاہتے ہیں، یہ بحث ختم ہو جانی چاہئے کہ صرف سیاستدانوں کی کرپشن کا ذکر ہوتا ہے، پورا پاکستان اسی صورت میں کرپشن سے پاک ہو سکتا ہے، جب ہر شعبے سے کرپشن ختم کردی جائے۔۔۔کرپشن ایک بہت بڑے حوالے کے طورپر ہماری سیاست و سماج میں پہلے بھی موجود رہی ہے، مگر اسے غیر مانوس طریقے سے سب نے قبول کررکھا تھا، چونکہ کرپشن کی بڑی بڑی کہانیاں حکمرانوں اور اشرافیہ سے وابستہ ہوتی تھیں، اس لئے کارروائی ہوتی تھی اور نہ ہی کرپشن کو ختم کرنے کے لئے بڑا قدم اٹھایا جاتا تھا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کرپشن کے الزامات پر ایک کیس چلا اور اس میں حاضر سروس وزیر اعظم کو نااہل قرار دے کر اقتدار سے نکال دیا گیا۔صرف یہی نہیں، بلکہ اسی وزیر اعظم اور اس کے بچوں پر کرپشن کیس بنا کر انہیں عدالت میں بھی بھیجا گیا ہے۔ یوں ایک بڑی روایت قائم ہو چکی ہے۔

اس وقت نواز شریف سے بڑی اور طاقتور شخصیت ملک میں موجود نہیں۔ وہ کھرب پتی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی ہیں، یہی نہیں، بلکہ وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے باوجود اُن کے سیاسی اثرورسوخ کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ حکومت اُن کے نام پر چل رہی ہے، اگر اُن کے خلاف احتساب کی کارروائی شروع ہوسکتی ہے تو باقی کون اس ملک میں ایسا ہے جو کرپشن کرنے کے باوجود قانون کی گرفت سے باہر رہے گا۔

سو اس وقت جو کرپشن فری پاکستان کی باتیں ہورہی ہیں، تو انہیں غیر متعلقہ نہیں کہا جاسکتا، اب اُن میں وزن بھی ہے اور انہیں عوام کی تائید بھی حاصل ہے۔ یہ اُس ملک میں ہورہا ہے، جہاں کئی بار حکومتیں کرپشن کے الزامات پر ختم کی گئی ہیں۔ محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو اور خود نواز شریف کو کرپشن کے الزامات لگا کر گھر بھیجا گیا، مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کرپشن کے الزامات کوکسی عدالت میں ثابت بھی کیا گیاہو۔ یہی وجہ ہے کہ بے نظیر بھٹو ایک بار حکومت سے نکلنے کے بعد واپس آگئیں اور یہی کچھ نواز شریف کے ساتھ بھی ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانے تک کرپشن کے الزام کو حکومتوں کی وقت سے پہلے رخصتی کا بہانہ بنایا گیا۔

اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر دور میں احتساب کے ادارے کو سیاسی مخالفین کی گردن مروڑنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر نواز شریف کے دور میں کیس بنائے گئے اور نواز شریف کے خلاف پرویزمشرف کے دور میں، اُس سے پہلے بے نظیر بھٹو کے ادوارِ حکومت میں بھی ادلے کا بدلہ لینے کی یہ سکیم جاری رہی، یوں جان بوجھ کر احتساب کو ایک مذاق بنایا گیا۔ نیب جیسے ادارے کی حالت ایک ایسے بھاڑے کے قاتل کی ہوگئی، جو سیاسی مخالفین کے کردار کو قتل کرنے کے لئے احتساب کا گنڈاسہ استعمال کرتا تھا۔ اس پالیسی کے دو سنگین اثرات مرتب ہوئے۔۔۔ ایک یہ کہ سیاست بدنام ہوگئی اور دوسرا کرپشن عام ہوگئی۔ پھر ایک اور تڑکا یہ لگایا گیا کہ احتساب کو سیاسی انتقام کا نام دے دیا گیا، گویا ملک میں کرپشن نام کی کوئی شے تو سرے سے موجود ہی نہیں تھی، بس سیاسی انتقام کے لئے اُس کا سہارا لیا جاتا تھا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی اور ایک عام آدمی بھی جانتا تھا کہ پاکستان میں ہر ادارہ کرپٹ ہو چکا ہے۔ بڑی سطح کی کرپشن کے بارے میں تو عوام صرف کہانیاں سنتے تھے، لیکن جو کرپشن ان کے اِردگرد جاری تھی، اُسے دیکھ کر وہ کڑھتے تھے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ کرپشن کا الزام لگا تو اس کا پوری طرح پیچھا کیا گیا اور بالآخر سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی نااہلی کا فیصلہ سنادیا۔ پہلے کرپشن پربرطرفی فوج یا صدر کے ذریعے ہوتی تھی، مگر احتساب نہیں ہوتا تھا، اس بار برطرفی سپریم کورٹ کے حکم سے ہوئی ہے اور احتساب کا عمل بھی شروع ہوگیا۔

شریف خاندان اس بڑی تبدیلی کو قبول نہیں کررہا۔ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی نہیں مانتا اور نیب ریفرنسز کو بھی قبول کرنے سے انکاری ہے۔ نجانے یہ کہاں کی حکمت عملی ہے اور اس کا شریف خاندان کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے، تاہم اگر اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ عوامی دباؤ استعمال کرکے ایک نیا این آر او کیا جاسکتا ہے تو یہ موجودہ منظر نامے میں ایک خواہش کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس وقت حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کوئی بھی ادارہ کسی این آر او کا اہتمام نہیں کرسکتا۔ جو این آر او ماضی میں ہوئے، وہ اپنے مخصوص حالات کی پیداوار تھے۔ سیاسی جماعتیں بھی اُن کے لئے تیار تھیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی، اب سیاسی جماعتیں کسی نئے این آر او کی سخت مخالف ہیں، حتیٰ کہ پیپلز پارٹی بھی، جو ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ رہی ہے، اب این آر او کو خارج از امکان قرار دے چکی ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ فوج اگر چاہے تو اب بھی شریف خاندان کو این آر او کے ذریعے بیل آؤٹ کرسکتی ہے، مگر ایسا سوچنے والے اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ اب سارے معاملے میں عدلیہ ایک بڑے فریق کے طور پر موجود ہے۔ اب کوئی سیاسی این آر او احتساب کے اس عمل کو نہیں روک سکتا جو شروع ہوچکا ہے۔ پھر یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ شریف فیملی سے این آر او کس نکتے پر ہوسکتا ہے؟ کیا اس نکتے پر کہ اس کے خلاف تمام کیسز ختم کئے جاتے ہیں۔ ظاہرہے ایسا کیسے ممکن ہوگا۔ جو سپریم کورٹ احتساب کے بارے میں اس قدر سنجیدہ ہے کہ اُس نے احتساب عدالت میں بھیجے گئے ریفرنسز کی بروقت سماعت کے لئے ایک مانیٹرنگ جج مقرر کردیا ہے، وہ کسی این آر او کے ذریعے مک مکا کیسے قبول کرے گی؟۔۔۔ بدلے ہوئے حالات کا تقاضہ تو یہی ہے کہ نواز شریف اپنے خلاف نیب ریفرنسز کا سامنا کریں اور ایسے شواہد سامنے لائیں جو ان ریفرنسز کو بے اثر کرسکیں۔ سیاسی دباؤ کے ذریعے ریلیف ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نظرنہیں آتا۔

یہ پوری قوم کے دل کی آواز ہے کہ پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہو۔ اوپر سے لے کر نیچے تک ایک شفاف گورننس کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔ کرپشن کے معاملے میں کسی کو مقدس گائے کا مرتبہ نہ دیا جائے۔ فوج، عدلیہ، بیوروکریسی اور سیاستدان سبھی خود کو احتساب کے لئے پیش کریں، تیار رکھیں۔ نیب پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ ملک میں احتساب کے عمل کو تیز کرے۔

اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے منتخب احتساب کی اب قلعی کھل چکی ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے بھی کئی بار یہ ریمارکس دیئے گئے ہیں کہ نیب اب مردہ گھوڑا بن چکا ہے۔ اس تاثر کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نیب نے اگر شریف فیملی کے خلاف ریفرنس دائر کردیئے ہیں تو اب ملک میں کوئی بھی ایسا نہیں بچا جس نے کرپشن کی ہو اور محفوظ بیٹھا ہو۔ اب ہر ایک پر ہاتھ ڈالا جاسکتا ہے، پوری قوم نیب سے یہی چاہتی ہے۔70سال تک کرپشن میں اُلجھے رہنے کی وجہ سے پاکستان کھربوں روپے کے قرضے میں دب کر رہ گیا ہے۔

نہ صرف اب کرپشن کا پرنالہ بند کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ کرپشن کی کمائی سے جو اربوں ڈالر پاکستان سے باہر بھیجے گئے ہیں، ان کی واپسی کے لئے بھی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو یہاں نہ صرف ایک فلاحی ریاست قائم ہوسکتی ہے، بلکہ عوام کی زندگیوں میں ایک مثبت انقلاب بھی آسکتا ہے۔

مزید : کالم