اسٹیل مل پر گیس کی مدمیں واجبات 50 ارب روپے تک پہنچ گئے

اسٹیل مل پر گیس کی مدمیں واجبات 50 ارب روپے تک پہنچ گئے

کراچی(این این آئی)اسٹیل مل پر گیس کی مد میں واجبات50ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، مطلوبہ پریشر9.5کیوبک میٹر کے مقابلے میں ادارے کو محض 2.88کیوبک میٹر کے حساب سے گیس فراہم کی جارہی ہے ، اسٹیل مل کو لیٹ سرچارج کی مد میں دو بلز پر بالترتیب 50کروڑ51لاکھ اور 48کروڑ57لاکھ کی اضافی ادائیگی بھی کرنا ہوگی ۔تفصیلات کے مطابق ملک کے فولاد سازی کے سب سے بڑے کارخانے پاکستان اسٹیل مل میں پیداواری عمل معطل ہے ،تاہم ادارے پر محض گیس کی مد میں واجبات 50ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی نے ادارے کو جولائی کے گیس کے بلز ارسال کردیئے ہیں

،کسٹمر نمبر7044380000کے تحت اسٹیل مل کو 25ارب25کروڑ95لاکھ76ہزار روپے سے زائد جبکہ کسٹمر نمبر 6044380000کے تحت 24 ارب 28 کروڑ73ہزار روپے سے زائد کے بلز ارسال کئے گئے جن کی ادائیگی کی آخری تاریخ 22اگست تھی اور مقررہ تاریخ میں عدم ادئیگی کے باعث اسٹیل مل کو لیٹ سرچارج کی مد میں دونوں بلز پر بالترتیب 50 کروڑ 51لاکھ اور 48کروڑ57لاکھ روپے کی اضافی ادائیگی بھی کرنا ہوگی ،واضح رہے کہ اسٹیل مل پر گیس کی مد میں واجب الادا 50ارب روپے کے واجبات میں سے سوئی سدرن کمپنی لیٹ سرچارج کی مد میں لگ بھگ8ارب روپے منہا کرنے پر راضی ہے ،تاہم لیٹ سرچارج کی رقم منہا کرنے کے باوجود اسٹیل مل کو گیس کے واجبات کی مد میں42ارب روپے کے واجبات ادا کرنا ہیں ،ذرائع کے مطابق اسٹیل مل میں پیداواری عمل کی بحالی کیلئے گیس کے مطلوبہ پریشر کی مقدار9.5کیوبک میٹر بنتی ہے جبکہ اس وقت ادارے کو محض 2.88کیوبک میٹر کے حساب سے گیس فراہم کی جارہی ہے جس سے اسٹیل مل میں کوک اوون بیٹری کو فعال رکھنے کے ساتھ ساتھ ادارے اور رہائشی کالونیوں کو درکار گیس کی ضرورت پوری کی جارہی ہے۔

مزید : کامرس