پاکستان میں انتہائی ترقی یافتہ ملک بننے کے تمام اسباب موجود ہیں

پاکستان میں انتہائی ترقی یافتہ ملک بننے کے تمام اسباب موجود ہیں

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے صنعت کے چئیرمین عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک پاکستان میں وہ تمام اسباب موجود ہیں جو ملک کو انتہائی ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں مگر بعض پالیسیوں اور اصلاحات کی طرف توجہ نہ دینے نے ترقی کا سفر روک رکھا ہے۔ ٹیکس کا نظام غیر متوازن ہے جو سرمایہ کاری کی مسلسل حوصلہ شکنی کر رہا ہے جس نے دولت کی مساویانہ تقسیم کو ایک خواب بنا دیا ہے ۔اسی وجہ سے متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قرضے ، تجارتی خسارہ اور جاری حسابات کا خسارہ ریکارڈ سطح تک جا پہنچے ہیں جو انتہائی تشویشناک ہے۔عاطف اکرام شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی معیشت جہاں مسلسل زوال پزیر ہے وہیں خطے کے دیگر ممالک کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے اور اب بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان سے الگ ہوتے وقت بنگلہ دیش ایک انتہائی غریب ملک تھا جس کی صنعت کا جی ڈی پی میں حصہ بمشکل سات فیصد تھا جبکہ اس وقت پاکستانی جی ڈی پی میں صنعت کا تناسب بیس فیصد تھا۔

جنگ اور تباہ کن سیلاب نے بنگلہ دیش کے انفراسٹرکچر اورکمزور معیشت کومکمل طور پر تباہ کر دیا تھا مگر اب اسکی فی کس آمدنی 1538 ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پاکستان کی فی کس آمدنی 1470 ڈالر ہے۔اس وقت بنگلہ دیش کی معیشت میں صنعت کا حصہ29 فیصد ہے ، اسکی اوسط شرح نمو گزشتہ دس سال سے چھ فیصد اور گزشتہ دو سال سے سات فیصد سے زیادہ ہے جبکہ کپاس درامد کرنے والا یہ ملک پاکستان اور بھارت کی ریڈی میڈ گارمنٹس کی کل برامدات سے زیادہ ملبوسات برامد کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کی برامدات 270 ارب ڈالر اور پاکستان کی بیس ارب ڈالر کے قریب ہیں جو 2011 میں پچیس ارب ڈالر تھیں۔انھوں نے کہا کہ برامدات کو بڑھانے کیلئے کاروباری ماحوال کو سازگار بنانا ضروری ہے ورنہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کیلئے مزید قرضے لینا پڑیں گے جس کی ایک حد ہے۔

مزید : کامرس