معاشی اتحاد نے سٹریٹجک اکنامک فارن پالیسی کی ضرورت کو اجاگر کردیا : ماہرین

معاشی اتحاد نے سٹریٹجک اکنامک فارن پالیسی کی ضرورت کو اجاگر کردیا : ماہرین

لاہور (کامرس رپورٹر) جیوپولیٹیکل چیلنجز اور دنیا بھر میں تشکیل پانے والے نئے تجارتی و معاشی اتحادوں نے پاکستان کے لیے نئی سٹریٹجک اکنامک فارن پالیسی کی ضرورت کو پوری طرح اجاگر کردیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط، سینئر نائب صدر امجد علی جاوا، نائب صدر ناصر حمید خان، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، الماس حیدر، حسین رضا مرزا شمشاد احمد، لیفٹیننٹ جنرل ر) سکندر افضل اور دیگر ماہرین نے لاہور چیمبر میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی اراکین ذیشان خلیل، اویس سعید پراچہ، معظم رشید اور طارق محمود بھی سیمینار میں موجود تھے۔ ماہرین نے کہا کہنا تھا پاکستان کو نئے معاشی اتحادوں کا حصہ بنا چاہیے تاکہ یہ گلوبلائزیشن کے عمل سے بھرپور فائدہ اٹھاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران عالمی سطح پراہم تجارتی ، معاشی اور سیاسی اتحاد تشکیل پائے ہیں جبکہ تجارت کے لیے چند ممالک پر انحصار نے پاکستان کے لیے معاشی مسائل پیدا کیے، یہ اچھا شگون ہے کہ پاکستان نے ترجیحات تبدیل کرتے ہوئے نئے پارٹنرز پر توجہ مرکوز کرنا شروع کردی ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان، روس، چین اور ایران کا معاشی اتحاد اس خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے جہاں دنیا کی نصف آبادی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور کے تحت بہت سے اہم پراجیکٹ زیر تکمیل ہیں، 2020ء تک پاکستان کے پاس وافر بجلی ہوگی جبکہ ہمارا ریلوے اور روڈ نیٹ ورک نئے اتحاوں کا حصہ بننے میں مدد دے گا۔ ماہرین نے کہا کہ چین کو پاکستانی مصنوعات کے لیے بڑی برآمدی منڈی بنایا جائے ، روس نے پاکستان میں سٹیل ملز جیسا اہم منصوبہ مکمل کیا، ایسے مزید پراجیکٹ پاکستان کی ترقی میں مدد دے سکتے ہیں ، ایران اور ترکی کے ساتھ بھی تجارتی و معاشی تعلقات کا فروغ بہت اہمیت کاحامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر نئی معاشی فارن پالیسی مرتب کریں جو پاکستان کو علاقائی و عالمی تجارت سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مدد دے۔

مزید : کامرس