جنرل ہسپتال،بچوں کی پیدائشی بیماریوں کا جدید طریقہ علاج متعارف

جنرل ہسپتال،بچوں کی پیدائشی بیماریوں کا جدید طریقہ علاج متعارف

لاہور(جنرل رپورٹر)جنرل ہسپتال میں بچوں کی پیدائشی طور پر پیشاب کی بیماریوں کا جدید طریقہ علاج متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے تحت پروفیسر آف یورالوجی ڈاکٹر محمد نذیر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اب تک16 ماہ سے لے کر 14 سال کی عمر کے 4بچوں کے کامیاب آپریشن کئے ہیں جن میں مریضوں کو انجکشن کے ذریعے جدید آپریشن کر کے اسی دن ہسپتال سے فارغ کر دیا جا تا ہے۔ پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ پروفیسر غیاث النبی طیب نے اس کامیابی پر ڈاکٹرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید طریقہ علاج پر عبو رحاصل کرنا خوش آئند امر ہے جس سے مریضوں کی مشکلات میں کمی واقع ہو گی اور وہ عطائیوں سے بھی نجات حاصل کر لیں گے ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد نذیر کے مطابق ایسے بچے جن میں پیدائشی طور پر پیشاب کی بیماریاں پائی جاتی ہیں کے گردے ناکارہ ہونے اور ڈائلسسز کے ساتھ ساتھ گردوں کی پیوندکاری جیسے پیچیدہ طریقہ علاج کا سامنا تھا، جسے سب یوٹیرک ٹرانس یوریتھل انجکشن کے ذریعے پیشاب کی نالی سے گزرتے ہوئے کیمرے کی مدد سے مثانے میں پیشاب کی نالی کے سوراخ پر لگایا جاتا ہے جس سے پیشاب کا واپس جانا رک جاتا ہے ،جنرل ہسپتال شعبہ یورالوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد نذیر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ لاہور کی رہائشی 16ماہ کی بچی زہرہ ، گجرات کے 9سالہ سبحان ،لاہور کے 10سالہ علی حمزہ اور خوشاب کے14سالہ محمد سراج کا جدید طریقہ سے کامیاب آپریشن کئے اور چارو ں بچے رو بصحت ہیں ۔واضح رہے کہ قبل ازیں کٹ لگا کر سرجری کی جاتی تھی جس کے باعث مریض کو کئی دن ہسپتال میں داخل رہنا پڑتا تھا،والدین نے بھی اس طریقہ علاج کو سراہتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا ہے جس سے ان کے بچوں کو اس پیچیدہ بیماری سے نجات حاصل ہوئی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1