علی گیلانی ، میرواعظ اوریاسین ملک کو نئی دہلی جا سکتے ہیں‘ کشمیر پولیس سربراہ کا جھوٹا بیان

علی گیلانی ، میرواعظ اوریاسین ملک کو نئی دہلی جا سکتے ہیں‘ کشمیر پولیس ...

سری نگر(کے پی آئی)بھارتی فورسز نے مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ اوریاسین ملک کو نئی دہلی جاکر احتجاجا گرفتاری دینے پر پابندی لگادی ہے ان رہنماوں کو نئی دہلی جاکر گرفتاری دینے سے روکنے کے لیے نظر بند اور گرفتار کر لیا ہے میر واعظ عمرفاروق کو ہفتے کی صبح دوبارہ گھر پر نظر بند کر دیا ہے جبکہ علی گیلانی پہلے ہی گھر پر نظر بند ہیں ادھر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کو جمعہ کے روز سنٹرل جیل سری نگر سے رہا کیا گیا تھا ہفتے کے روز انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قبل ازیں ، جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ ایس پی ویدنے مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے کورٹ میں بال پھینکتے ہوئے کہا کہ تینوں حریت لیڈروں کونئی دہلی جانے سے روکا نہیں جائیگا اور جہاں وہ جانا چاہتے ہیں وہ جا سکتے ہیں ۔ ڈی جی پی ایس پی ویدنے کہا کہ حریت لیڈروں پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے ۔

واضح رہے کہ سید علی شاہ گیلانی ، مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے تاریخی جامع مسجد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ 9ستمبر کو نئی دہلی روانہ ہونگے اور این آئی اے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کے اس اعلان کے فورا بعد لبریشن فرنٹ کے چیئر مین یاسین ملک کو ان کے دفتر واقع آبی گزر سے پولیس نے گرفتار کر کے سینٹرل جیل منتقل کیا تھا ، سید علی شاہ گیلانی مسلسل اپنے رہائشی مکان واقع حیدر پورہ میں نذر بند ہے جبکہ مولوی عمر فاروق کو بھی انتظامیہ نے گھر میں نظر بند کیا تھاتاہم انتظامیہ نے ڈرامائی کارروائی کے دوران لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ،مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے نئی دہلی جانے اور این آئی اے دفتر کے باہر احتجاج کرنے کے حیدر پورہ میں ایک بجے جمع ہونے کا اعلان کیا تھا۔

مزید : عالمی منظر