آنگ سوچی جمہوریت سے منہ موڑ چکیں، ایرانی نوبیل یافتہ کارکن

آنگ سوچی جمہوریت سے منہ موڑ چکیں، ایرانی نوبیل یافتہ کارکن

تہران(این این آئی)ایران میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور نوبل انعام یافتہ شخصیت شیریں عبادی نے روہنگیا مسلمانوں کے معاملے کو نظر انداز کرنے پر میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی پر کڑی تنقید کی ہے اورکہاہے کہ سوچی نے نوبل انعام جبر کے سامنے پر امن احتجاج کر کے حاصل کیا تھا، تب وہ اس کی حقدار تھیں،میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی نوبل انعام یافتہ خاتون شیریں عبادی نے بھی میانمار میں روہنگیا اقلیت پر ہونے والے مظالم کی مذمت کی ہے۔ عبادی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اس تمام وقت میں سوچی کی حمایت کی جب وہ ایک سیاسی قیدی کی حیثیت سے نظر بند تھیں۔عبادی نے تاہم ایک نکتے کی وضاحت کی اور وہ یہ کہ عام طور پر لوگ سوچی کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی رہنما سمجھتے ہیں۔ شیریں عبادی کا کہنا تھاکہ سوچی نے کبھی بھی انسانی حقوق کے لیے کام نہیں کیا۔ وہ ایک سیاستدان ہیں جنہوں نے 1990 کے آزادانہ انتخابات جیتے لیکن ملک کی فوجی جنتا کے ہاتھوں قید کر لی گئیں۔ سوچی نے اپنے حامیوں کو فساد پر اکسانے کی بجائے ایک پرامن مزاحمت کا انتخاب کیا۔سابق ایرانی جج عبادی کا کہنا تھا کہ سوچی کی فوجی آمریت کے خلاف پر امن مزاحمت نے ہی انہیں نوبل پرائز کا حقدار بنایا تھا۔ لیکن سن دو ہزار پندرہ میں اقتدار میں آنے کے بعد سوچی نے جمہوریت سے منہ موڑ لیا۔ شیریں عبادی نے مزید کہاکہ جمہوریت کا مطلب ہے کہ ایک ملک میں رہنے والے تمام لوگوں کو ایک جیسے حقوق حاصل ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو شہریت نہیں دی گئی۔

اور وہ ملک میں بدھ مت کے ماننے والوں اور برمی فوج کی جانب سے حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ شیریں عبادی کے مطابق سوچی نے نوبل انعام جبر کے سامنے پر امن احتجاج کر کے حاصل کیا تھا۔ تب وہ اس کی حقدار تھیں۔ ایرانی ایکٹیوسٹ کی رائے میں نوبل انعام حاصل کرنے والے اس کے حصول کے بعد اپنے رویوں میں کیا تبدیلی لاتے ہیں اس سے نوبل کمیٹی کا کوئی لینا دینا نہیں۔

مزید : عالمی منظر