مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت قرار، ایک اور نوجوان شہید، نئی دہلی میں مارچ سے روکنے کیلئے حریت قیادت گرفتار نظر بند

مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت قرار، ایک اور نوجوان شہید، نئی دہلی میں مارچ ...

سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)مقبوضہ وادی میں بھارتی فوجی کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے ،سوپور میں ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا گیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے سینئر مزاحمتی رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کو نئی دلی میں بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز کی طرف مارچ سے روکنے کیلئے نظر بند کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے این آئی اے کی کشمیریوں کے حوالے سے ظالمانہ کارروائیوں کیخلاف احتجاج کیلئے نئی دلی میں اسکے ہیڈکوارٹرز میں گزشتہ روز رضاکارانہ گرفتاری دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔بھارتی پو لیس نے محمد یاسین ملک کو جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب سرینگر میں انکی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جبکہ سید علی گیلا نی اور میرواعظ عمر فاروق پہلے سے گھروں میں نظر بند ہیں۔ قابض انتظامیہ نے حریت رہنماؤں کی گرفتاری اور این آئی اے کی خوف و د ہشت کی لہر کیخلاف لوگوں کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے سرینگر کے نوہٹہ، مہاراج گنج ، صفا کدل ، خانیار، مائسمہ اور رینہ واری تھانو ں کی حدود میں آنیوالے علاقوں میں پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ دریں اثنا بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دورا ن سوپور کے علاقے ربن میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا۔ فوجی آپریشن کیخلاف علاقے میں زبردست مظاہرے پھوٹ پڑے۔ قا بض بھارتی فورسز کے اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان زبردست جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی آپریشن اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا۔ ادھر بھارتی فورسز نے شوپیاں اور کولگام اضلاع کے 20سے زائد دیہات میں بھی محاصرے اور تلاشی کی ایک بڑی کارروائی شروع کر دی ہے۔

مقبوضہ وادی

مزید : صفحہ آخر