میکسیکو میں زلزلہ، ہلاکتیں 100سے تجاوز کر گئیں، ایک روزہ سوگ کا اعلان

میکسیکو میں زلزلہ، ہلاکتیں 100سے تجاوز کر گئیں، ایک روزہ سوگ کا اعلان

میکسیکو سٹی(این این آئی)میکسیکو کے جنوب میں بحرِالکاہل میں آنے والے آٹھ اعشاریہ ایک شدت کے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 106 ہو گئی ہے۔ اس زلزلے کو میکسیکو کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ قرار دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹباسکو، ویہاکا اور چیاپس میں اس وقت ایک بڑا ریسکیو آپریشن کیا جا رہا ہے جہاں یہ خدشہ ہے کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔میکسیکو کے صدر انریق پینا نیٹو کا کہنا تھا کہ زلزلے میں 200 افراد زخمی ہوئے ہیں۔صدر انریق پینا نیٹو نے ملک میں ایک روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے اس موقع پر ہلاک ہونے والے افراد کے سوگ میں ملک کا پرچم سرنگوں رہے گا۔یہ زلزلہ ساحلی علاقے پیجیجیاپان سے 87 کلومیٹر کے فاصلے پر آیا۔ امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق اس کی شدت آٹھ اعشاریہ ایک تھی۔زلزلے کے جھٹکے اس کے اصل مقام سے سینکڑوں میل دور تک محسوس کیے گئے اور اس سے اوکساکا اور چیاپاس کے علاقوں میں خاصی تباہی ہوئی ہے۔زلزلے کے نتیجے میں ہمسایہ ملک گوئٹے مالا میں بھی ایک شحض ہلاک ہوا ۔زلزلے کے بعد میکسیکو کے ساحلی علاقوں کے قریب چار اعشاریہ تین اور پانچ اعشاریہ سات کی شدت کے درجنوں آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔زلزلے کے نتیجے میں میکسیکو اور قریبی ممالک کے سمندر میں تقریباً تین میٹر بلند لہریں اٹھنے پر میکسیکو میں سونامی کی وارننگ جاری کی گئی جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔زلزلے کے جھٹکے مرکز سے ایک ہزار کلو میٹر تک کے علاقے میں ایک منٹ تک محسوس کیے جاتے رہے۔ زلزلے کی شدت کی وجہ سے عمارتیں لرز رہی تھیں اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ملک کے صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ پانچ کروڑ افراد نے زلزلہ محسوس کیا اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔میکسیکو کے زلزلے کے مرکز ریاست چیاپاس میں چار ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔مغربی گوئٹے مالا اور جنوبی میکسیکو میں زلزلے کے نتیجے میں شدید نقصانات ہوئے۔سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والے مناظر میں ریاست اوآکسکا کی تباہ شدہ عمارتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔بحرالکاہل میں سونامی وارننگ سینٹر نے ایلسواڈور، گوئٹے مالااور کوسٹا ریکا میں بھی سونامی کی وارننگ جاری کی ہے تاہم وہاں سونامی کی لہریں میکسیکو کی نسبت کم درجے کی ہیں۔اس سے قبل سنہ 1985 میں میکسیکو میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مزید : صفحہ آخر