کچہریوں اور تھانوں کے مال خانوں کا کوئی پرسان حال نہیں، انچارج، اہلکاروں کی لوٹ مار

کچہریوں اور تھانوں کے مال خانوں کا کوئی پرسان حال نہیں، انچارج، اہلکاروں کی ...

لاہور(رپورٹ: یو نس با ٹھ )صوبائی دارالحکومت کے صدر مال خانوں سمیت تمام کچہریوں اور تھا نو ں کے مال خا نو ں کا کو ئی پر سا ن حا ل نہیں ہے ۔کو ئی افسر انسپیکشن کر تا ہے اور نہ ہی ما ل خا نے کا ریکا رڈ درست مر تب کیا جا رہا ہے۔کا غذ ی کا رروائی میں سب اچھا قرار دیا جاتا ہے ۔عرصہ دراز سے پرکشش سیٹوں پر تعینات انچارج ہزاروں روپے کے عوض تھانوں کے افسران کو شراب ، چرس ، ہیروئن ، افیون ، گردہ ، اسلحہ ، گاڑیاں ، موٹر سائیکلیں دینے لگے ،کاغذی گینگ بنا کر سی سی پی او لاہور کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے تعریفی سر ٹیفکیٹ اور خزانے سے لاکھوں روپے کے انعامات بھی وصول کر رہے ہیں ۔ پولیس اہلکار اور افسر کئی بار مال خانوں میں مال مقدمہ برآمد ہونے والا سامان بھی جمع نہیں کرواتے وہ مال خانوں کے انچارجوں کے ساتھ مل کر انکو پیسے دیکر مال جمع کروانے کی بجائے وہاں سے رسیونگ لے لیتے ہیں کیونکہ مال خانوں کے انچارجوں کو علم ہے کہ وہ تلفی کے دوران یہ سامان دوبارہ پورا کردیں گے ۔ذرائع کے مطابق شہر بھر کے 5 مقامات پر بنے مال خانوں میں تعینات انسپکٹروں نے اسلحہ ڈیلروں کے ساتھ مل کر قبضہ میں لیے گئے اسلحے کی نیلامی کروا کر بھی بھاری رقم کما رہے ہیں ،پولیس ذرائع سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق 2 بڑے مال خانے شاہی قلعہ اورقربان لائن میں ہیں۔ جہاں زیادہ تر اسلحہ جمع کروایا جاتا ہے جبکہ دیگر تین مال خانے ضلع کچہری ، کینٹ کچہری اور ماڈل ٹاؤن کچہری میں ہیں ان پانچوں مال خانوں پرانچارجز بڑی سفارش کے ذریعے تعینات ہوتے ہیں ۔ آپریشنز ،ا نویسٹی گیشن ، سی آر او ، سی آئی اے مجاہد سکواڈ ، ٹائیگر سکواڈ کے اہلکار او رافسر ملزموں سے برآمد ہونے والے مال مقدمہ کو ان مال خانوں میں جمع کروانے کے پابند ہوتے ہیں یہاں پر شراب چرس ، ہیروئن ، افیون ، گردہ ، اسلحہ ، گاڑیاں ، موٹر سائیکلیں اور ملزموں سے برآمد ہونے والا دیگر سامان جمع کروایا جاتاہے ۔ مقدمہ درج کرنے والا پولیس افسریا اہلکار ملزم سے جتنی بھی بھاری مقدار میں منشیات یا اسلحہ پکڑ لے اسکا نمونہ بنا کر کیمیکل ایگزامینر کو بھجوایا جاتا ہے جہاں سے کچھ روز یا ایک ماہ بعد پولیس کو تھانوں میں واپس اسکی رپورٹ بھجوا دی جاتی ہے اور وہ رپورٹ مقدمے کے چالان کے ساتھ عدالت میں بھجوائی جاتی ہے ۔ اکثر پولیس اعلی کوالٹی کی منشیات برآمد کرکے اسکو مال خانوں میں جمع کروانے کے بجائے اسکی جگہ مال خانوں میں موجود پرانی خشک چرس سستے داموں خرید کر وہاں جمع کروادیتی ہے جبکہ اعلی کوالٹی کی منشیات کو مہنگے داموں فروخت کردیا جاتا ہے ۔ پولیس منشیات فروشوں اور ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کا روڈ سرٹفکیٹ کاٹ کر نمونہ بناتی ہے اور نمونہ پر مقدمہ درج کرنیو الے پولیس افسر کے نام کی مہر لگائی جاتی ہے اسکو سیل کرکے مال خانوں کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اگر اللہ رکھا نامی پولیس افسر مال مقدمہ کو سیل کرے گا تو وہ اپنے نام اے آر کی مہر لگائے گا اکثر پولیس اہلکار اور افسر قیمتی اسلحے کو جمع کروانے کے بجائے مال خانوں کے اہلکاروں اور انچارج سے ملی بھگت کرکے ان سے وہاں موجود پرانا اسلحہ ہزار ،پندرہ سوروپے تک خرید کر اسکو سیل کردیتے ہیں اور اصل اسلحہ ذاتی استعمال یا پھر اسلحہ ڈیلروں کو فروخت کردیتے ہیں ۔ پولیس اگر اپنی کارکردگی بہتر ظاہر کرنا چاہے تو وہ مال خانوں سے اسلحہ اور منشیات بھی خرید لیتے ہیں ۔ڈکیت گینگز سے برآمد ہونے والا سامان کئی بار پولیس دوبارہ دوسرے ڈاکوؤں سے برآمدگی کا دعوی کرتے ہوئے سامان مال خانوں سے نکال لیتی ہے ۔ بعض پولیس افسر و اہلکار ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد سے برآمد ہونے والا اصل سامان سیل کرکے اپنی مہر لگانے کے بعد مال خانوں میں جمع کروادیتے ہیں اس پر مقدمہ نمبر ، تاریخ، ملزم کا نام ، مقدمہ درج کرنے والے کا نام اور جرم درج کیا جاتاہے جسکو مال خانے کے اہلکار وصول کرنے کے بعد دوبارہ کھول کر اس میں سے قیمتی چیز نکال کر پرانی چیز ڈال دیتے ہیں انہوں نے 20سے25روپے کے درمیان بن جانے والے مہریں بھی پاس رکھی ہوئی ہیں یا پھر وہ مقدمہ درج کرنے والے پولیس اہلکار کے نام کی مہر فوری بنا کر سامان تبدیل کرکے اسکو دوبارہ سیل کرکے اسکی پولیس افسر کی مہر لگادیتے ہیں مال خانوں میں موجود منشیات کی تلفی کے لیے کچھ عرصہ بعد عدالت کی جانب سے احکامات دیے جاتے ہیں اور انکی تلفی کے دوران عدالتی افسر کو وہاں بیٹھ کر تلفی کروانا پڑتی ہے مگر عدالتی افسر وہاں نہیں بیٹھتے جس پر عدالتی ریڈر حضرات پولیس کے ساتھ مل کر نام نہاد تلفی کروا کر کاغذی کارروائی کرکے رپورٹ دے دیتے ہیں اور دوبارہ وہی سامان مال خانوں میں رکھ کر کام شروع کردیا جاتا ہے ۔ پولیس مال خانوں میں اسلحہ اور گولیوں کی تعداد زیادہ ہونے پر سیشن جج سے نیلامی کے آرڈر لیتی ہے جہاں پولیس افسر اپنے خاص اسلحہ ڈیلروں کو بلوا کر تما م اسلحہ انکو دلوا دیتے ہیں اور اسی اسلحے کو اسلحہ ڈیلر نیا نمبر لگا نے کے بعد اسکی مرمت کرتے ہیں اور رنگ کرکے نیا بنا کر پھر مہنگے داموں دکانوں پرفروخت کردیتے ہیں ضلع کچہر ی کے ما ل خا نے میں اس سب انسپکٹر اشرف جبکہ کینٹ میں ہیڈ کا نسٹیبل حماد اور ما ڈل ٹاؤن میں ہیڈ کا نسٹیبل محمد امین بطور انچارج تعینا ت ہیں ان کے مطا بق افسروں نے کسی بھی قسم کا مو قف دینے سے انھیں منع کر رکھا ہے ۔

مزید : صفحہ آخر