مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پاک بھارت نمائندوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پاک بھارت نمائندوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) اقوام متحدہ میں ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان مسئلہ کشمیر پر زبرد ست بحث و تکرار ہوئی اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ، پاکستان نے بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کی اور دہائیوں سے حل طلب مسئلہ کے فوری حل کا مطالبہ کیا جبکہ بھارت نے پاکستان پر روایتی دہشتگردی کا الزام عائد کرتے ہوئے جموں و کشمیر بھارت کا اٹو ٹ انگ ہے اور رہے گا کا موقف دہرایا ۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مباحثے کے دوران عالمی ادارے میں پا کستا ن کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے جس کا عالمی ادارے کی قرار دادوں کے مطابق حل نکالا جانا چاہئے تاکہ جنوب ایشیائی خطے مین مستقل قیام امن کو یقینی بنایا جا سکے ۔ کشمیریوں کی حالت اور مصائب عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہیں اور اب عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کیلئے ہمتی کردار ادا کرنا چاہئے ۔ سلامتی کونسل نے متعدد بار کشمیری عو ا م کا حق خودارادیت قبول کیا ہے تاہم بھارت کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت سے انہیں محروم رکھنے کیلئے جبرو تشدد کا استعمال اور حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ عالمی برادری ظلم و جبر کا یہ سلسلہ روکنے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے ،جموں وکشمیر کی صورتحال نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انصاف اور انسانیت کیساتھ مذاق کے مترادف ہے ۔ کشمیر اور فلسطین کے مسائل تاریخی ناانصافی کی غمناک مثالیں ہیں جہاں لوگوں کو اب بھی حق خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے، یہ دونوں مسائل اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہیں ۔تاہم بحث کے دوران بھارتی مندوب سری نواس پراساد نے پاکستانی بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے بتایا اسلام آباد کی طرف سے اٹھائے گئے نکات غیر متعلق اور بلاجواز ہیں ،پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں ، پاکستان بھارتی علاقے پر قبضہ جمانے کیلئے دہشتگردی کو ایک سرکاری ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں جموں و کشمیر بھارت کا ایک اٹوٹ انگ ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔

مزید : صفحہ آخر