میانمار : روہنگیا مسلمانوں کے مزید 8دیہات نذر آتش ، دنیا بھر میں مظاہرے ، برمی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی

میانمار : روہنگیا مسلمانوں کے مزید 8دیہات نذر آتش ، دنیا بھر میں مظاہرے ، ...

 ینگون228 اسلام آباد 228 آستانہ( مانیٹرنگ ڈیسک 228اے این این)میانمار کے شمال مغرب میں فوج اور انتہا پسند بدھ بھکشوؤں نے روہنگیا مسلمانوں کے مزید 8 سے زائد دیہات نذر آتش کرد یئے ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پناہ لے رکھی تھی۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ میانمار میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار ہوسکتی ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکار پیٹرک مرفی نے کہا ہے کہ میانمار راخائن میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کا جواب دینے کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرے، امریکہ میں کئی مقامات پر روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔انہوں نے راخائن میں فوری طور پر انسانی امداد کی بحالی اور صحافیوں کو داخلے کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا، ایک مقامی دیہاتی نے فون پر بتایا کہ 4 بجے کے قریب آگ میں گھرے دیہات سے دھواں اٹھتا دیکھا، انہوں نے بتایا کہ میں چن گاؤں میں موجود تھا جہاں سے یہ سب کچھ دیکھا۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ راخائن میں فوج اور انتہا پسند بدھ بھکشوؤں نے مسلمان آبادی کا صفایا کرنے کے لئے جلاؤ گھیراؤ کی مہم شروع کررکھی ہے، مزید دیہات نذر آتش کئے جانے کے بعد بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کی آمد میں اضافہ ہوسکتا ہے ،جہاں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پناہ لینے والے برمی مسلمانوں کی تعداد 2 لاکھ 70 ہزار ہوگئی ہے جس سے انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔حالیہ آتشزدگی اور حملوں کے واقعات راتھیڈونگ میں پیش آیا جہاں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے، امدادی کارکنوں کو تشویش ہے کہ مسلمان مہاجرین کی بڑی تعداد یہاں پھنس گئی ہے، آگ لگانے کے واقعات کی تصدیق دیگر ذرائع نے بھی کی ہے جن میں انسانی حقوق کو مانیٹر کرنے والے دو مبصرین اور ایک مقامی صحافی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ جلائے گئے حالیہ دیہات میں راخائن کے شمال سے 65 کلو میٹر دور کے علاقے شامل ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیز کا کیمپ بھی شعلوں کی نذر کردیا گیا جہاں 300سے 400 مسلمان رہائش پذیر تھے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار میں جاں بحق ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ میانمار سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش جانے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔اقوام متحدہ کے سینئر اہلکار نے ایسے دعووں پر بھی شک و شبہ کا اظہار کیا، جن کے مطابق روہنگیا نے اپنے مکانوں کو خود نذر آتش کیا۔ انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ میانمار میں اس وقت جاری پیش رفت کو موجودہ دور کے بد ترین انسانی المیے کے طور پر دیکھا جائے گا۔برطانوی صحافی کا کہنا ہے کہ اس نے ایک گاؤں کو خود جلتے ہوئے دیکھا جہاں بدھ بھکشوؤں نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے فورسز کی مدد سے گاؤں میں آگ لگائی ۔بیرسٹر اقبال جعفری نے میانمار کی حکمران جماعت کی سربراہ آن سانگ سوچی اور مذہبی رہنما آشن وراتھو کے خلاف عالمی فوجداری عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔بیرسٹراقبال جعفری نے درخواست میں کہا ہے کہ آن سانگ سوچی اور آشن وراتھو مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں اور پرتشدد واقعات کے باعث لاکھوں روہنگیا مسلمان جبری طور پر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اور اس دوران سیکڑوں مسلمان یا تو قتل ہوچکے ہیں یا دریاکے راستے ہجرت کرتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف تحقیقات کرکے آن سان سوچی اور آشن وراتھو کے خلاف تحقیقات کرائے۔واضح رہے کہ بدھ مذہبی رہنما آشن وراتھو میانمار میں بدھ مت کے ماننے والے مقامی لوگوں کو اپنی اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف اکساتا ہے اور عالمی طور پر اب وہ بدھ مت کے مذہبی دہشتگرد کی شہرت اختیار کرگیا ہے۔ پاکستان نے روہنگیامسلمانوں کے خلاف تشدد پر میانمار کے سفیر ون مائنٹ کو دفترخارجہ طلب کرکے احتجاج کیا ہے ۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے میانمارکے سفیر سے ملاقات کی اور پاکستانی حکومت وعوام کی طرف سے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ خارجہ سیکرٹری نے ریاست راخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں روکنے کیلئے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کو زندہ رہنے اور بلا خوف و خطروامتازوزندگی گزارنے کے حقوق دیئے جائیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف حالیہ تشدد کے واقعات کی فوری تحقیقات کرکے ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ۔میانمار میں مسلمانوں کے خلاف گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، انہوں نے تنازع کی ضرورت پر زور دیا ان سفارشات میں تشدد روکنے کیلئے فوری اور پائیدار اقدامات کرنے ،امن قائم کرنے ،مفاہمت کے عمل کو تیز کرنے ،شہریت کے مسئلے کو حل کرنے اور انسانی حقوق کے اداروں کو علاقے تک رسائی دینے پر زور دیا ۔ میانمار کے سفیر نے کہا کہ وہ پاکستانی حکومت وعوام کے خدشات سے اپنی حکومت کو آگاہ کریں گے ۔ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم سے متعلق او آئی سی کا خصوصی اجلاس آجآستانہ میں طلب کیا گیا ہے اجلاس کی صدارت ترک صدر طیب اردوان کریں گے اور اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی آستانہ میں موجود صدر ممنون حسین کریں گے یہ اجلاس او آئی سی کے سائنس و ٹیکنالوجی سربراہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر ہو گا اجلاس میں کوشش کی جائے گی کہ او آئی سی روہنگیا مسلمانوں کے حق میں ایک متفقہ آواز سامنے لیکر آئے اور ایک پریشر گروپ بنا کر میانمار کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرنے پر مجبور کیا جائے۔اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کی امداد اور آبادکاری کا ابتدائی پلان جاری کردیا ہے ۔نقل مکانی کرکے بنگلہ دیش پہنچنے والے 3 لاکھ افراد کی امداد کیلیے 7کروڑ71 لاکھ ڈالردرکار ہوں گے 3لاکھ افراد کی آبادکاری کیلیے60ہزار ٹینٹس ،پندرہ ہزارباتھ رومزکی ضرورت ہے۔ ملائیشیا جانیں بچا کر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے کو تیارہوگیاہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے،سائے سے بھی خوف زدہ یہ مسلمان مدد کے لیے اقوام عالم کی جانب دیکھ رہے ہیں۔بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق میانمار سے ہجرت کرکے بنگلہ دیش آنے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔خوف، فاقہ کشی اور تھکن سے بد حال لاکھوں مسلمان، راخائن میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ دنیا بھر میں اب یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ میانمار کی حکومت بالخصوص آنگ سان سوچی پر دبا ؤبڑھایا جائے کہ وہ مسلمانوں کی نسل کشی بند کریں۔

روہنگیا مسلمان

ڈھاکہ ، نئی دہلی،سرینگر، کابل ،تہران،واشنگٹن،لندن (صباح نیوز)دنیا بھر میں لاکھوں افراد روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے اور عالمی برادری سے بے حسی ختم کرکے میانمار حکومت کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک میں برمی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے ہوئے جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ ڈھاکا میں سیاسی و اسلامی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے ملک گیر مظاہرے کیے اور میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ملائیشیا، افغانستان، فلپائن، ایران سمیت کئی ممالک میں بھی میانمار کے سفارت خانوں کے باہر مظاہرے ہوئے۔ شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر میانمار کی حکمراں جماعت کی رہنما نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔مظاہرے کے شرکا کا کہنا تھا کہ میانمار میں بچوں، عورتوں سمیت سیکڑوں افراد کو شہید کیا جاچکا ہے لیکن عالمی برادری کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ بھارت کے کئی شہریوں میں بھی روہنگیا مسلمانوں کے حق میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ زبانی جمع خرچ بند کرکے روہنگیاں کی نسل بند کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں بھی سیکڑوں افراد نے جامع مسجد سے لال چوک تک ریلی نکالی اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ملائیشیا کے دارالحکومت کوالا لمپور میں بھی روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کیخلاف سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں روہنگیا کے مسلمانوں نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر بعض افراد جذبات کی شدت سے رو پڑے اور انہوں نے عالمی برادری کی بے حسی کیخلاف نعرے بازی کی۔ ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے وائٹ ہاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں یہ مسئلہ اٹھائیں گے۔ واشنگٹن میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی جانب سے میانمار کے سفارت خانے کے باہر روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔شرکا نے برمی فوج کے جرائم کیخلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے میانمار کی حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ کے مطابق میانمار حکومت کے تشدد کی وجہ سے سیکڑوں روہنگیا مسلمان شہید اور تقریبا 3 لاکھ مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی فوج کی طرف سے بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر بارودی سرنگیں بچھائے جانے کی تصدیق کی ہے۔تنظیم نے عینی شاہدین اور اپنے ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کم ایک شہری جاں بحق اور دو بچوں سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کرائسس ریسپانس ڈائریکٹر تیرانہ حسن کا کہنا ہے کہ جانیں بچا کر بھاگنے والے نہتے افراد کے خلاف اس انتہائی گھناؤنی حرکت کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔بنگلہ دیش کے حکام نے میانمار فوج کی طرف سے سرحد پر بارودی سرنگیں بچھانے پر احتجاج کیا ہے۔میانمار کی فوج کے ایک اعلی اہلکار نے بتایا کہ یہ بارودی سرنگیں نوے کی دہائی میں بچھائی گئی تھیں اور حال ہی میں فوج نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ریڈ کراس میانمار میں اپنی کارروائیاں تیز کر رہی ہے کیونکہ اقوام متحدہ پر میانمار کی حکومت کی طرف سے روہنگیا باغیوں کی امداد کرنے کے الزام کے بعد اسے کارروائیاں کم کرنی پڑ رہی ہیں۔میانمار کے صوبے راخائن میں فوجی کی طرف سے مبینہ قتل عام سے بچنے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں میں بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ نوے ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں بھوکے اور خوفزدہ مہاجرین کا بنگلہ دیش پہنچنے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔میانمار سے بھاگنے والے افراد کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج نے ان کے گھروں کو جلایا اور ان پر حملے کر رہی ہے۔روہنگیا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج اور بدھ مت کے پیروکاروں نے ان پر حملہ کر کے ان کے گاؤں کو نذر آتش کیا اور شہریوں پر حملہ کیا ۔

احتجاجی مظاہرے

مزید : صفحہ اول