افغان مسئلہ کا حل پاکستان کے بغیر ممکن نہیں : پاک ترک صدرو

افغان مسئلہ کا حل پاکستان کے بغیر ممکن نہیں : پاک ترک صدرو

 آستانہ(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)صدر مملکت ممنون حسین اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے مسئلہ افغانستان کا حل پاکستان کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے اور علاقائی امن کی بحالی کیلئے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کی قدر کی جانی چاہئے۔ دونوں رہنماؤں نے یہ بات سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کیلئے آستانہ پہنچنے کے فوراً بعد باہمی ملاقات میں کہی۔ صدر مملکت نے کہا پاکستان نے علاقائی امن و سلامتی کیلئے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں اور دہشت گرد ی کیخلاف جنگ میں پاکستان کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ صدر اردوان نے خطے میں استحکام کیلئے پاکستان کی قربانیوں کی تعریف کی ا و ر پاکستان کی حمایت کا مکمل اعادہ کرتے ہوئے کہا دہشت گردی کیخلاف پاکستانی حکومت اور عوام کی خدمات تاریخی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا پاکستان کو ترکی کی دوستی پر فخر ہے اور یہ دوستی آزمائش کے ہر معیار پر پوری اتری ہے۔ اس موقع پردونوں رہنماؤں نے ہر طرح کی دہشت گردی کیخلاف مربوط کارروائیوں کی حمایت کی اور افغانستان کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جس کا حل پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مضمر ہے۔ ملاقات میں روہنگیا کے مسلمانوں کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیااور دونوں رہنماؤں نے روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے دنیا کے ہر فورم پر آواز اٹھانے پر یکساں موقف اختیار کیا ۔قبل ازیں صدر ممنون حسین اور قازخستان کے وزیراعظم بکیت زہان ساگنتیو ا نو ف (Bakytzhan Sagintayev)کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور قازخستان نے دفاع، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کیلئے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ صدر ممنون حسین نے دو طر فہ تعلقات کو کثیرالمقاصد شراکت میں تبدیل کرنے کے علاوہ دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ویزہ پالیسی میں نرمی کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا پاکستان تیل و گیس کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں اضافے کا خواہاں ہے اور پاکستانی فرمیں قازخستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں ۔ ا نہو ں نے تجارت کا حجم بڑھانے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان فضائی و سڑک کے رابطے قائم کرنے پربھی زور دیا۔صدر نے کہا علاقائی اقتصا د ی استحکام کیلئے پاکستان، چین ، قازخستان اور کرغزستان پر مشتمل چار فریقی اتحاد کی ضرورت ہے۔انہوں نے صنعت ، تجارت ، ثقا فت و تعلیم کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان وفود کے تبادلوں کی تجویز دی جسے وزیراعظم قازخستان نے قبول کرتے ہوئے کہا پا کستا ن کی شنگھائی تعاون تنظیم میں رکن کے طور پر شمولیت کے بعد خطے میں اس کے تعلقات مزید بڑھیں گے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کیلئے قازخستان کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنے سمیت معدنیات ، کان کنی، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبو ں میں پاکستان کیساتھ تعاون میں اضافے ، چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیااور دونوں ممالک کے ما ہر ین کے درمیان رابطے کی بھی تجویز دی۔

پاک ترک صدور

مزید : صفحہ اول