کیا وفاقی اور صوبائی وزراء بھی این اے 120کی حدود سے متصل انتخابی جلسہ کرسکتے ہیں ؟

کیا وفاقی اور صوبائی وزراء بھی این اے 120کی حدود سے متصل انتخابی جلسہ کرسکتے ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  اتفاق سے یہ ستمبر ہی کا مہینہ ہے، چھ سال پہلے یہی لاہور اور ستمبر تھا جب سارے راستے اقبال پارک کی طرف جا رہے تھے، یہ تحریک انصاف کا وہ جلسہ تھا جس کے بعد تحریک انصاف ایک نئی شان سے اٹھی بڑے پر اسرار انداز میں اعلیٰ ریٹائرڈ افسروں کو یہ پیغام پہنچایا گیا تھا کہ وہ عمران خان کو سننے کے لئے جلسے میں جائیں، ہمیں بھی ایک قریبی عزیز نے دعوت دی کہ ان کے ساتھ چلیں، جانے کو تو ہمیں کوئی اعتراض نہ تھا لیکن ہم نے ان سے پوچھا آپ نے سیاسی جلسوں میں کب سے دلچسپی لینا شروع کر دی ان کی پوری زندگی سرکاری ملازمت میں گذری، سیاستدانوں اور سیاست سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی اور سیاسی جلسوں میں تو پوری زندگی کبھی نہیں گئے، ہم نے حیرت سے پوچھا تو جواب ملا ریٹائرمنٹ کے بعد زیادہ مصروفیات نہیں رہ گئیں اس لئے سیاسی رونق میلہ دیکھنے میں کیا قباحت ہے چھ سال بعد وہ ہمیں تحریک انصاف کے جیل روڈ والے جلسے میں مل گئے تو ہم نے پوچھا تب اور اب میں کیا فرق ہے، کہنے لگے عمران خان نے اس دوران بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا ہے دھرنے بھی دیئے ہیں یہاں تک کہ رائے ونڈ کے پلاٹ اڈے میں بھی جلسہ کر چکے ہیں۔ لیکن سچی بات ہے جیل روڈ کے جلسے میں ان کا خطاب زیادہ متاثر کن نہ تھا، چھ سال تک عمران خان کے بڑے بڑے جلسوں میں حاضری دینے کے بعد ان کی رائے تھی کہ عمران خان کی سیاست کا ارتقا ایک مقام پر آ کر رک گیا ہے۔

عمران خان نے لاہور کی جیل روڈ پر جلسہ کرنے پر اصرار کیا حالانکہ انتظامیہ نے اس جلسے کی اجازت نہیں دی تھی اس کے باوجود انہوں نے یہ جلسہ کر کے دکھا دیا جلسہ چونکہ لاہور کے حلقہ نمبر این اے 120کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں تھا اس لئے ان کی تقریر کا محور یہی تھا کہ عوام ان کی امیدوار کو ووٹ دیکر سپریم کورٹ کے ججوں کا شکریہ ادا کریں اور اسے مضبوط بنائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حلقے کا ووٹ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے حمایتیوں سے بھی کہا کہ وہ کان کھول کر سن لیں کیا وہ اس شخص کو ووٹ ڈالیں گے جس کو سپریم کورٹ نے سچ بتانے کے لئے ایک سال کی مہلت دی مگر وہ جھوٹ بولتا رہا، سپریم کورٹ کی طاقت آئین ہے اسے مضبوطی کے لئے نہ تو کسی کے ووٹ کی ضرورت ہے اور نہ وہ ایسے کسی فیصلے کی محتاج ہے۔فیصلے سپریم کورٹ کے نافذ ہوتے ہیں ووٹ کے ذریعے عوام جو فیصلہ کرتے ہیں وہ سیاسی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے عدالت نہ سیاسی ادارہ ہے نہ سیاسی فیصلے اسے کسی انداز میں متاثر کرتے ہیں اس لئے عمران خان نے ووٹروں کو جس انداز سے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے بظاہر وہ اس میں کامیاب نظر نہیں آتے اس جلسے میں ان کی تقریر سے ایسے لگتا تھا جیسے وہ ایک بوجھ اتارنے کے لئے جلسے میں آئے ہوں۔

یہ جلسہ قرطبہ چوک میں کیا گیا جو فنی طور پر حلقے کی حدود سے باہر ہے چونکہ وہ حلقے کے اندر قانوناً جلسہ نہیں کر سکتے اس لئے تحریک انصاف نے یہاں جلسہ کر دیا اب اگر کوئی وفاقی یا صوبائی وزیر اس مثال کی پیروی کرتے ہوئے کسی ایسے مقام پر جلسہ کر لے جو حلقے سے متصل ہونے کے باوجود فنی طور پر اس کی حدود میں نہ آتی ہو تو الیکشن کمیشن اس جلسے کو کیسے روکے گا؟ کیا معلوم آئندہ ہفتے کے دوران کسی جگہ ایسا جلسہ ہو بھی جائے۔ کیونکہ اگر حلقہ سے باہر جلسہ کرنے پر پابندی نہیں ہے تو اس سہولت کی دستیابی تمام امیدواروں کے لئے ہونی چاہئے۔

این اے 120میں انتخابی مہم زور شور سے جاری ہے ۔ کامیابی کے دعوے بھی بہت کئے جا رہے ہیں ان دعوؤں کی حقیقت تو 17 ستمبر کو ہی رات گئے منظر عام پر آئیگی جب نتیجے کا اعلان ہو گا لیکن حیرت کی بات ہے کہ بعض جماعتوں کے دعوے بڑے دلچسپ ہیں مثلاً ایک جماعت کے امیدوار کا خیال ہے کہ شکست حکمران جماعت کا مقدر بن چکی ہے، یہ بات ایک ایسے امیدوار نے کہی ہے جن کے بارے میں سو فیصد وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی ضمانت نہیں بچ پائے گی، ضمانتیں تو اور بھی بہت سے امیدواروں کی ضبط ہوں گی لیکن یہ دعویٰ شاعرانہ تعلی سے بھی کچھ آگے کی چیز ہے کیونکہ حکمران جماعت کے امیدوار کو لاہور میں شکست دینے کے لئے جس طرح کی مربوط اور منضبط انتخابی مہم چلانے کی ضرورت ہے وہ ابھی تک کسی انتخابی جلسے میں نظر نہیں آئی حتیٰ کہ کوئی بھی وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تحریک انصاف یہ نشست جیت سکے گی اس انتخابی حلقے میں نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کا مقابلہ بڑا دلچسپ ہے ابھی اس جماعت کی تشکیل کے مراحل بھی مکمل نہیں ہوئے، تنظیم سازی کا کام بھی باقی ہے بس جلد بازی میں ایک جماعت بنا لی گئی ہے جس کی رجسٹریشن کے لئے الیکشن کمیشن میں درخواست تو جمع کرا دی گئی ہے لیکن ابھی تک یہ جماعت رجسٹر نہیں ہوئی ، نہ اسے انتخابی نشان الاٹ ہوا ہے، اس جماعت سے وابستہ امیدوار کی حیثیت آزاد امیدوار کی ہے، جن کی جیت کا تو دور دور تک کوئی امکان نہیں البتہ اگر جماعت رجسٹر ہو گئی ہوتی تو اتنا ضرور ہوتا کہ انتخابی نشان متعارف ہو جاتا ، لیکن معلوم نہیں اس جماعت کو الیکشن لڑنے کی کیا جلدی تھی کہ عجلت میں امیدوار کھڑا کر دیا گیا حالانکہ اس سے پہلے اس جماعت کے اصل قائدین نے الیکشن کو اپنے لئے شجر ممنوعہ قرار دے رکھا تھا جوبہرحال ان کا اپنا فیصلہ اور اپنی سوچ کا آئینہ دار تھا انہیں کبھی کسی نے الیکشن لڑنے سے نہیں روکا بس وہ خود ہی انتخابی میدان سے دور رہے اور بہی خواہوں کی خواہش کے علی الرغم انتخابی اکھاڑے میں اترنے کے لئے آمادہ نہ ہوتے تھے لیکن پھر انہوں نے 180درجے کا یوٹرن لے کر فیصلہ کر لیا کہ وہ انتخابات میں شریک ہوں گے لیکن ایسی بھی کیا جلدی تھی کہ ایک ضمنی انتخاب میں کچی پکی تیاری کے ساتھ قسمت آزما ئی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا انتخابات کا میدان ایسا ہے کہ جو جماعتیں کسی تیاری اور کسی منصوبہ بندی کے بغیر الیکشن لڑنے چل نکلتی ہیں انہیں سوائے مشقت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، انتخابی سیاست کی حرکیات کو سمجھے بغیر نہ تو کوئی الیکشن جیتا جا سکتا ہے اور نہ ہی دوچار نشستوں والی جماعت قومی انتخابی منظر نامے پر اپنا کوئی نقش چھوڑ سکتی ہے ایسی جماعتوں کے بارے میں ووٹر یہ تاثر قائم کرنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ انتخاب جیتنا ان کا مقصد نہیں شاید وہ کسی کی ہار میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ساری محنت لگا رہی ہیں۔ اگر ابھی سے یہ تاثر پختہ ہو گیا تو ملی مسلم لیگ کے لئے اچھا نہ ہو گا لیکن جماعت اگر میدان میں اتری ہے تو کچھ سوچ کر ہی اتری ہو گی۔

راستہ

مزید : تجزیہ