انصار الشریعہ کیخلاف آپریشن جاری ہے ،والدین باچوں پر نظر رکھیں:ڈی جی رینجرز

انصار الشریعہ کیخلاف آپریشن جاری ہے ،والدین باچوں پر نظر رکھیں:ڈی جی رینجرز

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمدسعید نے کہا ہے کہ انصارالشریعہ کیخلاف بھرپورآپریشن جاری ہے، انصارالشریعہ کی پوری توجہ صرف پولیس پرتھی، والدین سے درخواست ہے اپنے بچوں پرنظررکھیں۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمدسعید نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصارالشریعہ کے خلاف بھرپورآپریشن جاری ہے،آپریشن میں جومعلومات ملی ہیں وہ ابھی شیئر نہیں کرسکتے، آپریشن مکمل ہوگا تو پریس کانفرنس میں پوری تفصیل بتائی جائے گی۔ڈی جی رینجرز نے کہا کہ انصار الشریعہ نے کراچی میں سال کے شروع میں قتل وغارت شروع کی، انصار الشریعہ کی پوری توجہ صرف پولیس پرتھی، انصارالشریعہ نے 2سیکیورٹی گارڈز او ررضاکاروں کوبھی قتل کیا جبکہ ایک دوسرے گروپ کی وارداتوں کی بھی ذمہ داری لی۔جنرل محمدسعید نے کہا کہ انصارالشریعہ صرف کراچی تک محدودتھی ، انصارالشریعہ کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کی شناخت ہوچکی ہے، انصارالشریعہ کی تنظیم بنانیوالے کا تعلق القاعدہ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ انصارالشریعہ گروپ میں تمام پڑھے لکھے لوگ تھے، اس میں،ماسٹرز،پی ایچ ڈی اورسی ایکیلڑکے شامل تھے، لڑکوں کاصرف ایک نہیں مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق تھا، پڑھے لکھے نوجوانوں سے متعلق آرمی چیف اور سیاسی جماعتیں بات کررہی ہیں ، جامعہ کراچی میں طلبہ کے ریکارڈ سے متعلق ابھی کچھ بات چیت نہیں ہوئی۔ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ انصارالشریعہ کے ایک دہشت گرد کو ہلاک اورایک کو گرفتار کیا ہے، بلوچستان سے گرفتار کیے گئے افراد کو شامل تفتیش کیا گیا تھا، ایک شخص کوانٹیلی جنس اداروں نے تفتیش کیلئے حراست میں لیا تھا، جوائنٹ ورکنگ بنایا ہوا ہے، بڑے آپریشن کیلئے سب سے مشاورت ہوتی ہے، جوائنٹ ورکنگ گروپ میں تمام اداروں کے حکام شامل ہیں، سی ٹی ڈی سمیت تمام ادارے بہترین کام کر رہے ہیں۔جنرل محمدسعید کا مزید کہنا تھا کہ ہر ایجنسی کے پاس تیکنیکی سہولتیں محدود ہیں، بڑے آپریشن کیلئے تکنیکی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے، پڑھے لکھے دہشت گردوں میں تعلیمی اداروں کا کوئی رول نہیں ہوتا، ایک یا دو پڑھے لکھے دہشت گردوں کے بارے میں ان کے والدین جانتے تھے، خواجہ اظہار پر جس دن حملہ ہوا اس دن یہ لڑکے صبح4بجے نکلے تھے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے 5سے 6نام ہوتے ہیں، جوکوڈ ورڈ ہوتے ہیں، کنیزفاطمہ میں سروش کے گھر پرچھاپہ مارا گیا تھا، جو اہم کارندہ تھا، سروش کے گھر پر چھاپہ مارا تو قریب ہی ایک اور کارندے کا بھی گھر تھا، دہشت گرد نے ٹی وی پر خبریں چلتی دیکھیں تو اپنے گھر سے فرار ہوگیا۔ڈی جی رینجرز نے کہا کہ جب تک انصارالشریعہ کے خلاف آپریشن جاری ہے کچھ خبریں پوشیدہ رکھیں، دہشت گردبعض اوقات خبروں کافائدہ اٹھاتے ہیں، کورنگی اوراصفہانی روڈپرٹارگٹ کلنگ میں دوسراگروپ ملوث تھا، جامعہ کراچی سے کوئی ڈیٹا نہیں مانگا گیا۔انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں جبکہ اساتذہ بھی طلبہ پر نظر رکھیں کیا کر رہے وہ کیا پڑھتے ہیں، دہشت گردوں سے القاعدہ کی کتابیں برآمد ہوئی ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول