کراچی ،تیاریاں وانتظامات مکمل، جماعت اسلامی کا ’’روہنگیا مارچ ‘‘ آج ہو گا

کراچی ،تیاریاں وانتظامات مکمل، جماعت اسلامی کا ’’روہنگیا مارچ ‘‘ آج ہو گا

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے تحت جماعت اسلامی کے تحت بدھسٹ حکمرانوں اور افواج کے انسانیت سوز مظالم کے شکار مظلوم و نہتے مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اور مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوامِ متحدہ ،بڑی طاقتوں ،عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف اتوار 10ستمبر کو 4بجے دن مزارِ قائد تا تبت سینٹر تک ’’سپورٹ روہنگیا مارچ ‘‘ منعقد ہو گا ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق مارچ کی قیادت کریں گے ۔مارچ میں خواتین بہت بڑی تعداد میں شریک ہوں گی جن کے لیے مزارِ قائد سے تبت سینٹر تک سڑک کا ایک ٹریک مختص کیا گیا ہے ۔مارچ میں علماء کرام ،طلبہ ،وکلاء ،صحافی ،تاجر ،اساتذہ ،ڈاکٹرز ،انجینئرز ،مزدور اور محنت کش ،اقلیتی برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد ،نوجوانوں ،بزرگوں اور بچوں سمیت اہلِ کراچی لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوں گے اور روہنگیا کے مسلمانوں سے بھر پور اظہارِ یکجہتی کریں گے ۔مارچ میں شہر بھر سے قافلے مختلف جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں مزارِ قائد پہنچیں گے ۔شرکاء کی غیر معمولی شرکت کے پیشِ نظر بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں ۔مارچ کے سلسلے میں عوامی رابطے اور دعوت نامے دینے کا سلسلہ ہفتہ کو رات گئے تک جاری رہا ۔شہر بھر میں درجنوں پبلک مقامات ،اہم شاہراہوں اور چورنگیوں پر قائم کیمپوں سے روہنگیاکے مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی مارچ میں شر کت اور سپورٹ روہنگیا فنڈ میں دل کھول کر تعاون کر نے کی اپیل اور اعلانات کیے جاتے رہے ۔گلی اور محلوں میں سوزوکیوں پر موبائل پبلسٹی کی جاتی رہی ۔عوام کے اندر زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور شہریوں نے مارچ میں شر کت کی یقین دہانی کرائی اور سپورٹ روہنگیا فنڈ میں نقدعطیات بھی جمع کرائے ۔کیمپوں پر روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم اور ہجرت پر مجبور اور بے بس مردو خواتین اور بچوں و بزرگوں کی داستانِ الم کے حوالے سے تیار کی گئی خصوصی دستاویزی فلم دکھائی گئی ۔جسے دیکھنے والی ہر آنکھ اشکبار اور پر نم ہو گئی اور عوام نے بدھسٹ حکمرانوں اور بر ما کی ظالم افواج کے خلاف اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ۔دریں اثناء امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مارچ کے سلسلے میں نمائش چورنگی پر قائم کیمپ کا دورہ کیا اور جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ موٹر سائیکل سواروں ، بسوں ، ویگنوں ، رکشی ٹیکسی میں سوار مسافروں اور راہگیروں میں مارچ کے ہینڈ بلز تقسیم کیے اور عوام الناس کو شرکت کی دعوت دی ۔ اس موقع پر برما کے مسلمانوں کے لیے جھولی پھیلا کر فنڈ بکس کے ذریعے فنڈ بھی جمع کیا گیا ۔ عوام نے فنڈ میں نقدی عطیات جمع کرائے ۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام سپورٹ روہنگیا مارچ میں لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوں گے۔ جن میں علماء کرام ،طلبہ ،وکلاء ،صحافی ،تاجر ،اساتذہ ،ڈاکٹرز ،انجینئرز ،مزدور اور محنت کش ،اقلیتی برادری سب شامل ہوں گے ۔ہم مظلوم مسلمانوں کے لیے صدائے احتجاج بلند کرسکتے ہیں اور ان کی مالی مدد کے لیے کوشش کرسکتے ہیں اس لیے جماعت اسلامی نے مارچ اور فنڈ جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ الخدمت کے ذمہ داران بنگلہ دیش میں مہاجرین برما کیمپوں میں پہنچ گئے ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے اپیل کی کہ اہل کراچی اہلِ خانہ کے ہمراہ مارچ میں بھرپور شرکت کریں اور روہنگیا فنڈ میں دل کھول کر عطیات جمع کرائیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ برما میں ظالم بھگشو بدھسٹ مذہب کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کررہے ہیں اور ان کو نوبل انعام یافتہ آن سانگ سوچی کی پشت پناہی حاصل ہے ، عالمی برادری اور بڑی طاقتیں بھی زبانی بیانات سے آگے کچھ نہیں کررہی اور برما میں ابھی تک کوئی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں ہیں ۔ برما میں مسلمانوں کے ا عضاء کاٹے جارہے ہیں ، بستی کی بستیاں جلائی جارہی ہیں اور ان کی سرحد پر موجود بنگلہ دیش ان کے لیے کچھ نہیں کررہا ۔ حسینہ واجد کی حکومت دراصل مودی حکومت ہے اور بھار ت کوخوش کرنے کے لیے خاموش ہے ۔ برما کے اندر ہلاکو خان اور چنگیز خان کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑدیا گیا ہے ۔ ایک امتی ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے حصے کا کام ضرور کریں اور حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھائیں ۔ انہو ں نے کہا کہ 34اسلامی ممالک کی فوج آخر کس مرض کی دوا ہے ، اگر مسلم حکمران غیرت و حمیت کا مظاہر ہ کر یں اور مسلم عوام کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھیں تو عالمی سطح پر مسلمانوں کے حق میں بہت کچھ ہوسکتا ہے ۔مسلم حکمرانوں کو اس سنگین صورتحال میں ہوش کے ناخن لینا چاہیئے ۔اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ، ضلع شرقی کے امیر یونس بارائی ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، امیر زون جمشید ٹاؤن نصیر اللہ حسینی اور دیگر ذمہ داران اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

مزید : کراچی صفحہ اول